دنیا کا وہ علاقہ جہاں کروڑ پتی لوگ فیکٹریوں میں چند ہزار کی مزدوری کرتے ہیں، وجہ بھی انتہائی ناقابل یقین

دنیا کا وہ علاقہ جہاں کروڑ پتی لوگ فیکٹریوں میں چند ہزار کی مزدوری کرتے ہیں، ...
دنیا کا وہ علاقہ جہاں کروڑ پتی لوگ فیکٹریوں میں چند ہزار کی مزدوری کرتے ہیں، وجہ بھی انتہائی ناقابل یقین

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) عام طور پر تو صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں کے باہر مزدوروں کی قطاریں نظر آتی ہیں جو بیچارے دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں لیکن بھارتی ریاست گجرات کے علاقے سانند میں صورتحال ناقابل یقین حد تک عجیب و غریب ہے۔ یہاں کی فیکٹریوں میں کروڑ پتی مزدور کام کرتے ہیں اور بڑے بڑے سرمایہ دار ان مزدوروں کے ساتھ سلیقے اور احترام کے ساتھ بات کرنے پر مجبور ہیں۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق آج سے تقریباً 7 سال قبل سانند کی فیکٹریوں میں بھی مفلس مزدور ہی کام کیا کرتے تھے لیکن پھر یہاں ٹاٹاموٹرز نے اپنی صنعت کو منتقل کرنا شروع کیا اور ریاست گجرات کی حکومت نے بھی ایک انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کے لئے چار ہزار ہیکٹر سے زائد زمین خریدی، جس کے لئے دو ہزار کروڑ سے بھی زائد رقم کی ادائیگی کی گئی۔ا تفاق سے انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے میں یہاں کام کرنے والے مزدوروں کی چھوٹی چھوٹی زمینیں بڑی تعداد میں واقع تھیں جن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لیگیں، اور قسمت نے راتوں رات چند ہزار ماہانہ کمائی کرنے والے مزدوروں کو کروڑ پتی بنادیا۔

مزید جانئے: وہ ملک جو اپنے ہر شہری کو ایک لاکھ 10 ہزار روپے ہر مہینے ادا کرے گا، ایسا منصوبہ کہ دنیا دنگ رہ گئی

یہاں واقع روی راج فوائلز لمیٹڈ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے تین سو ملازمین میں سے 150 کے بینک اکاﺅنٹس میں ایک کروڑ سے زائد رقم موجود ہے، جبکہ ان کی ماہانہ تنخواہ 9ہزار روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 20 ہزار روپے تک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس جگہ مزدوروں کو کام پر رکھنا نہایت پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ یہ لوگ ضرورت مند نہیں رہے، محض وقت گزارنے کے لئے ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ معمولی سی سخت بات بھی کی جائے تو یہ نوکری کو لات مار کر نکل جاتے ہیں۔

ٹاٹاموٹرز نے سانند کے علاقے میں اپنا نینو پلانٹ 2008ءمیں منتقل کیا جس کے بعد انڈسٹریل اسٹیٹ قائم ہوئی اور 200 سے زائد بڑی کمپنیاں بھی یہاں منتقل ہوگئیں۔ انڈسٹریل اسٹیٹ کے لئے زیادہ تر زمین بول، ہری پور اور کھوراج گاﺅں کے علاقوں سے خریدی گئی اور انہیں علاقوں کے مزدور اب کروڑ پتی بن چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...