ماضی کی روایت نہ دہراہیں مذاکراتی عمل میں کسی کو بھی رخنہ اندازی کی اجازت نہ دی جائے نیشنل کانفرنس

ماضی کی روایت نہ دہراہیں مذاکراتی عمل میں کسی کو بھی رخنہ اندازی کی اجازت نہ ...

سری نگر (کے پی آئی)نیشنل کانفرنس نے بینکاک میں پاکستان بھارت سلامتی مشیروں کے درمیان بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کا دائرہ وسیع مزید وسیع کرکے مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کا کھلے ذہن اور خوشگوار ماحول میں حل نکالنے کے راستے تلاش کریں گے۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے قومی سلامتی مشیروں کی بینکاک میں ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہا کہ مذاکراتی عمل اسی صورت میں سودمند اور کامیاب ہوسکتا ہے جب دونوں ممالک خلوص نیت اور کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور ساتھ ہی کسی بھی واقعہ کو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بننے نہیں دیا جانا چاہئے جیسا کی ماضی میں ہوتا آیا۔ ساگر نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی بار دونوں ممالک قریب تر آگئے اور یہاں تک کہ مسائل کے حل تک پہنچ گئے لیکن کوئی نہ کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ رونما ہوئے جن سے ان مذاکرات پر بریک لگ گئی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماں سے اپیل کی کہ وہ ماضی کی ریت نہ دہرائے اور مذاکراتی عمل میں کسی کو بھی رخنہ اندازی کی اجازت نہ دی جائے۔ ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت اور دوستی کے ہر ایک اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے۔

لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی مذاکراتی عمل تب تک پروان نہیں چڑھے گا جبکہ نہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان سب سے پیچیدہ اور دیرینہ حل طلب معاملے مسئلہ کشمیر کو مرکزیت نہیں دی جاتی۔

مزید : عالمی منظر


loading...