ایل او سی کے دونوں طرف سے فوجی انخلا کے بعد کشمیریوں کو مشترکہ پارلیمنٹ بنانے دی جائے

ایل او سی کے دونوں طرف سے فوجی انخلا کے بعد کشمیریوں کو مشترکہ پارلیمنٹ ...

سری نگر (کے پی آئی) جموں و کشمیر محاذ آزادی کے سربراہ اعظم انقلابی نے کہا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ اپنے آمرانہ مزاج کے باوجود کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کے حامی تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ محاذِ آزادی نے کئی سال سے یہ موقِف اختیار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان جنگ بندی لائن کے آرپار کے کشمیر سے اپنی فوجوں کو واپس بلا کر متحدہ کشمیر کے باسیوں کو ایک جمہوری عمل کے ذریعے اپنی پارلیمنٹ کا انتخاب کرنے کا موقع دیں تا کہ ارکانِ پارلیمنٹ حق خودارادیت کے اصول کے تحت اِس بات کا تعین کریں آیا کشمیر خود مختار ہی رہے یا پھر پاکستان یا بھارت دو میں سے کسی ایک ملک سے کوئی انتظامی رشتہ قائم کرے۔ اعظم انقلابی نے اپنے بیان میں کہا گیاکہ ہم اپنے پیش کردہ ڈی تھری فریڈم فارمولا کو بہترین حل کے طور پیش کررہے ہیں، یہی باعزت حل ہے،اسی میں امن کی ضمانت ہے۔ بیان کے مطابق اگست 1947کے اوائل میں کانگریسی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی نے کشمیر کا دورہ کیااور یہاں اپنے قیام کے دوران انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کو ہمنوا بنا دیا اوریوں ہری سنگھ کی نیت میں فتور پیدا ہوا جبکہ سبھی حساس کشمیری اس کی کانگریس نوازی سے بیزار تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ میرواعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ اور چوہدری غلام عباس نے مہاراجہ کو خبردار کیا کہ ان کی کانگریس نوازی کے خلاف کشمیر میں سخت ردِعمل ہوگا، 14اگست 1947کو برصغیر کے بٹوارہ کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ بٹوارہ کے اصول کے تحت کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہئے تھا، لیکن بھارتی حکمرانوں کے توسیع پسندانہ عزائم راہ میں حائل ہوئے۔ بیان میں کہاگیا کہ چنانچہ بھارتی مستعمرین نے 27 اکتوبر 1947کو اپنی فوج کشمیر بھیجی،یہاں پہلی فرصت میں اِس جارح فوج نے ڈوگرہ فوج اور ہندو انتہاں پسندوں کے ساتھ مل کر کشمیر کے صوبہ جموں میں نسلی تطہیر کا سلسلہ شروع کیا۔ اس طرح ڈھائی لاکھ جموی مسلمانوں کا قتل کیا گیا اور 4 لاکھ مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔بیان میں کہا گیا کہ 9اگست 1953کو بھارتی حکمرانوں نے کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کرکے زینتِ زندان بنادیا۔

ان کے ساتھ بزرگ رہنما صوفی محمداکبر اور مرزا افضل بیگ بھی گرفتار ہوئے۔ کشمیری قوم نے بھارتی حکمرانوں کے جبرواستبداد، تعدی و تشدد اور تمرد اور تکبر کے خلاف محاذِ رائے شماری کے پرچم تلے حقِ خودارادیت کی تحریک شروع کی۔ 1975میں محاذرائے شماری کے اکثر لیڈروں نے اقتدار کی کرسی سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ غیرتِ کشمیر صوفی محمد اکبر نے اِس ہزیمت پسندانہ فیصلہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ چنانچہ وہ اپنا بیگ، برتن اور بسترہ اٹھا کر مجاہد منزل سے رخصت ہوئے اور سوپور میں اپنے بوسیدہ مکان میں معتکف ہوئے۔ قبلہ صوفی محمد اکبر محو مراقبہ ہی تھے کہ مئی 1976میں بطلِ حریت محمد مقبول بٹ واردکشمیر ہوئے، وہ صوفی محمد اکبر کے ساتھ ملاقی بھی ہوئے۔ چند دنوں کے بعد محمدمقبول بٹ لنگیٹ میں گرفتار ہوئے۔ مزاحمت کے محاذ پر ایک خلا پیدا ہوا۔ صوفی محمد اکبر نے مزاحمتی تحریک کو تقویت پہنچانے کیلئے 7 مئی 1977کو جموں کشمیر محاذِ آزادی کے قیام کا اعلان کیا۔ صوفی محمد اکبر کے اِس مجاہدانہ اقدام سے پیپلز لیگ، عوامی مجلس عمل اور جماعت اسلامی جیسی آزادی پسند تنظیموں کو ایک حوصلہ ملا۔ گیارہ سال بعد جنرل اشفاق مجید وانی اپنے اولوالعزم ساتھیوں کے ساتھ عسکری محاذ پر سرگرم عمل ہوئے۔ لبریشن فرنٹ سے وابستہ فدائینِ حق نے کشمیر میں ہمہ گیر مسلح مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا۔ ڈیڑھ لاکھ کشمیری نوجوان زینت مزار بن گئے۔بیان میں کہا گیاکہ تحریک کو داخلی انتشار سے بچانے کیلئے محاذ آزادی، لبریشن فرنٹ، پیپلز لیگ، عوامی مجلس عمل، جماعت اسلامی اور پیپلز کانفرنس نے حریت کانفرنس کے پرچم تلے پرامن سیاسی مزاحمتی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اب وقت آیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کشمیر کی سیاسی مزاحمتی تحریک سے وابستہ رہنماو ں کو اعتماد میں لے کر مسئلہ کشمیر کا ایک پرامن اور پائیدار حل تلاش کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں۔ صوفی اکبر 14دسمبر 1987کو 98سال کی عمر میں دارِ فانی سے رخصت ہوئے، ان کے قائمقام مزاحمتی شیدائی اعظم انقلابی نے وفاشعاری کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس نے نئی نسل کے مسلح نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی جتانے کا فیصلہ کیا۔ بیان کے مطابق چنانچہ وہ اپنے بدن پر بم باندھ کر پورے16 مہینے عسکریت پسندوں کی رہنمائی کرتا رہا۔ بالآخر وہ کئی مجاہدین کے ہمراہ اکتوبر 1990میں پھر کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیر میں وارد ہوا جہاں اس نے اٹھارہ عسکری تنظیموں کو متحدہ جہاد کونسل کے پرچم تلے جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔ سید صلاح الدین نے پچھلے 25سال کے دوران امیرِ جہاد کی حیثیت سے جہاد کونسل کو ایک نظریاتی قوت بنادیا۔ سیدصلاح الدین اپنے تمام مجاہدانہ عزائم کے باوجود حریت کانفرنس کی Pacifist politicsکی تائیدوحمایت کرتے ہیں۔ صلاح الدین کے صبر وثبات کو سلام۔

مزید : عالمی منظر