تاجروں کی معاشی خوشحالی سے حکومت کوزیادہ ٹیکس ملے گا:ڈاکٹرارشاد

تاجروں کی معاشی خوشحالی سے حکومت کوزیادہ ٹیکس ملے گا:ڈاکٹرارشاد

فیصل آباد ( بیورورپورٹ) تاجروں کی معاشی خوشحالی سے ہی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے زیادہ ٹیکس ملے گا اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت تاجروں کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اور اس سلسلہ میں بھی زبردستی کی بجائے باہمی مشاورت اور اور افہام تفہیم کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔یہ بات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر آپریشن ڈاکٹر محمد ارشاد نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں صنعت و تجارت کے تمام شعبوں اور ٹریڈز کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ممبر آپریشن کا چارج لینے کے بعد انہوں نے پہلا سرکاری دورہ فیصل آباد کا کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں سے ملنے والی شکائتیں سب سے زیادہ تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کھلے دل سے مسائل سنے ہیں اور ان میں زیادہ تر مشترکہ ہیں اور ان میں کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں جسے باہمی مشاورت سے حل نہ کیا جاسکے۔ ری فنڈ کلیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ 200ارب روپے کے ری فنڈ کلیم کی فگر کہاں سے آئی حالانکہ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق صرف 67،68ارب روپے کا ری فنڈ زیر التوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ری فنڈ کلیم کی ادائیگی میں حکومت مالی مشکلات کی وجہ سے کنجوسی سے کا م لے رہی ہے۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں کہ ری فنڈ کی ادائیگی بالکل نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی نئی ٹیم تاجروں کی مشاورت اور بروقت فیصلوں سے ان مشکلات پر جلد قابو پا لے گی۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ صدر پاکستان اور وزیر خزانہ نے یقین دلایا ہے کہ حکومت بھی تاجروں کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر جلد حل کرنے کے موڈ میں ہے انہوں نے کہا کہ اب مسائل تھوڑے تھوڑے کر کے نہیں بلکہ مکمل طور پر حل ہونگے ۔ اس سلسلہ میں وہ تاجروں سے خود ملاقاتیں کرینگے تاکہ باہمی مشاورت سے مسئلوں کا حل نکالا جاسکے۔ انہوں نے تاجروں سے کہا کہ تمام شعبوں کے مسائل ایک ہی نشست میں حل نہیں ہوسکتے آپ کو بھی چاہیے کہ آپ اپنے اپنے شعبہ سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ انکے حل کیلئے قابل عمل تجاویز بھی پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ انکے خیال میں مسائل ایسے نہیں جنکو حل نہ کیا جاسکے صرف اعتماد کی کمی اور رابطوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80فیصد مسائل مقامی سطح کے ہیں انکو نئے چیف کمشنر فوری طور پر خود ہی حل کرلیں گے جبکہ پالیسی معاملات پر ایف بی آر سے ہدایت لی جاسکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکسیشن سے متعلق مشاورت کیلئے بزنس کونسل کو فوری طور پر متحرک کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اسکے اجلاس تسلسل سے منعقد کئے جائیں تاکہ تمام مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاسکے۔ انہوں نے تاجروں کے نمائندوں سے کہا کہ وہ بھی اس میٹنگ میں پوری تیاری سے آئیں تاکہ اسکو بامعنی اور بامقصد بنایا جا سکے۔ ممبر آپریشن نے مزید کہا کہ وہ خود بھی اس میٹنگ کا فالو اپ کرینگے۔ انہوں نے تاجروں سے کہا کہ آپ ٹیکس دینا چاہتے ہیں ہم لینا چاہتے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں لہٰذا آپکو ذاتی طورپر ان لوگوں سے خود کو الگ کرلینا چاہئیے جو سرے سے ٹیکس دیناہی نہیں چاہتے یا ٹیکس چوری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل ٹیکس آفس اب چیمبر کے مشورے سے چلے گا لیکن ہم چاہتے ہیں کہ چیمبر جن کی سفارش کرے ان کی ذمہ داری لے اور ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف ہماری مدد بھی کرے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو غیر منافع بخش تنظیم ہونے کی وجہ سے ٹیکس میں چھوٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر اس میں کوئی قانونی پیچیدگی نہ ہوئی تو یہ Exemptionآپ کو کل ہی مل جائے گی۔ فکس ٹیکس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ نے حل کرنا ہے۔ لیکن میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ حکومت واقعی ہی آپ کے مسئلے حل کرنا چاہتی ہے۔ آپ کو بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے قابل عمل تجاویز پیش کرنی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہارون اختر اور چیئرمین ایف بی آر آپ کے مسائل میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں وہ خود بھی فیصل آباد آئیں گے تاکہ ذاتی طور پر آپ کے مسئلے سن کر انکو حل کیاجاسکے۔ اسے سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چوہدری محمد نواز نے کہا کہ پاکستان کی تاجرو صنعتکار برادری ٹیکس دے رہی ہے اور دینا چاہتی ہے لیکن ٹیکسsystem میں ایسی پیچیدگیاں ڈال دی گئی ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کو چور سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ تاثر بھی عام ہے کہ ملک کے پورے نظام کو چلانے کیلئے وسائل کا تمام تر بوجھ تاجر و صنعتکار برادری پر ڈال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہایف بی آر کی طرف سے اکثرو بیشتر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی lowest شرح کا ذکر بار بار اور تسلسل سے کیا جاتا ہے لیکن اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کل Taxes کا دو تہائی تاجر و صنعتکار برادری سے حاصل ہوتا ہے۔بزنس کمیونٹی ٹیکسوں کے یکساں نطام کو سپورٹ کرتی ہے۔ جس میں ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق ٹیکس ادا کرے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں کئی شعبوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے ان میں صرف فہرست زراعت کا شعبہ ہے۔جب حکومت خود ایسے امتیازی اقدامات کرے گی تو پھر یقیناًٹیکسوں کا بوجھ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر ڈالا جائے گا۔ اور جب یہ بوجھ ان کی استطاعت سے ہی بڑھ جائے گا تو پھر دینے والے اس سے بچنے کے راستے بھی تلاش کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں برآمدات کا شعبہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے مگر پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں حکومت برآمدات پر بھی ٹیکس وصول کر رہی ہے۔اس وقت برآمدکنندگان کے تقریبان دو سو ارب روپے کے ریفنڈ کلیم گذشتہ کئی سالوں سے واجب الادا ہیں مگر حکومت ٹیکس لینا تو جانتی ہے مگر دینے کے لئے شائد تیار نہیں۔ اس وقت برآمدکنندگان ان حالات تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کے کروڑوں کے ریفنڈ حکومت کے پاس پڑے ہیں جبکہ وہ اپنے روز مرہ کے مالی معاملات کو چلانے کیلئے کمرشل بینکوں سے مہنگے قرضے لینے پر مجبور ہیں۔ ریفنڈ کلیم کے سلسلہ مین اعلیٰ سطح پر یقین دہانیوں کے باوجود معاملات تا حال جوں کے توں ہیں۔برآمدکنندگان غالبا اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ مزید برآمدات کرنا ان کے لئے صریحا گھاٹے کا سودا ہے۔نہ وہ برآمد کرینگے اور نہ کا مزید سرمایہ حکومت کے پاس پھنسے گا۔یہی وجہ ہے کہ ملکی برآمدات میں حکومتی کوششوں کے باوجود گذشتہ پانچ ماہ کے دوران مسلسل کمی ہورہی ہے۔اور تاحال اس میں بہتری کے کوئی امکانات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا واحد ، آسان اور قابل قبول حل برآمدات کو کلی طور پر زیرو ریٹ کرنا ہے مگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر ایسا نہیں کیا جارہا۔انہوں نے مزید کہا کہ مقامی ٹیکس حکام نے فیصل آباد کے مختلف اداروں کے خلاف 38-A اور 40-B جیسے کالے قوانین کا بے رحمانہ استعمال کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ فیکٹریوں کے تالے توڑ کر اس طرح دراندازی کی گئی جیسے یہ فیکٹریاں پاکستان کی نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کی ہیں۔ان اقدامات کے خلاف ہمیں احتجاج کرنا پڑا۔ سائزنگ انڈسٹری 10 سے 15 دن بند رہی۔ جس کے پھر بھی مل بیٹھ کر مسائل کے حل کی راہ نکالی گئی ۔ حالانکہ یہ سب کچھ پہلے بھی کیا جا سکتا تھا۔ بہر حال ہمارا آج بھی یہی موقف ہے کہ 38-A اور 40-B جیسے کالے قوانین کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔اس تقریب سے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن کے اصغر علی، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین محمد سعید ، فیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئر مین خرم مختار، فیصل آباد ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے نئے چیئرمین شیخ مختار احمد، میاں آفتاب احمد، فیصل آباد چیمبر کے سابق صدر انجینئر رضوان اشرف ، سائزنگ ایسوسی ایشن کے شکیل انصاری ، فیصل آباد گارمنٹس سٹی کے چیئرمین ریحان نسیم بھراڑہ، انجمن تاجران کے حاجی محمد اسلم بھلی، راؤ سکندر اعظم، محمد امجد خواجہ اور شبیر چاولہ نے بھی اپنے اپنے شعبوں کے انفرادی اور اجتماعی مسائل پیش کئے جبکہ نئے چیف کمشنر شاد محمد نے بھی مختصر خطاب کیا۔ فیصل آباد ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین شیخ مختار احمد نے ایف بی آر کے ممبر آپریشن ڈاکٹر محمد ارشاد کو جبکہ آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین شیخ محمد سعید اور ریجنل چیئرمین چوہدری محمد حبیب نے چیف کمشنر شاد محمد کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ یں پیش کیں۔ آخر میں چیمبر کے سینئر نائب صدر سید ضیاء علمدار حسین اور نائب صدر جمیل احمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

مزید : کامرس