گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے پر کاشتکاروں نے خود گڑ بنانا شروع کر دیا

گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے پر کاشتکاروں نے خود گڑ بنانا شروع کر دیا

فیصل آباد(بیورورپورٹ)پنجاب کے مختلف شہروں میں بعض بڑی شوگر ملز کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کو گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے پر بڑی تعداد میں کسانوں و کاشتکاروں نے گڑ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اکثر مقامات پر گنے کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ چند بااثر شوگر ملز مالکان کی اجارہ داری ہے اس لئے وہ حکومتی احکامات کو خاطر میں نہ لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اونے پونے داموں گنے کی فروخت کے برعکس انہوں نے یہ بہتر خیال کیا ہے کہ وہ شوگر ملز مالکان کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے بیلنے نصب کر لیں اور گنے سے گڑ تیار کر لیں۔ انہوں نے بتا یا کہ چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے بعد ایک بار پھر گڑ اور شکر کا استعمال شروع ہو گیا ہے اور آئے روز اس کی طلب بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گڑ کی تیاری میں زبردست فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ رس نکالنے کے بعد بچ جانے والی گنے کی باقیات کو بھٹہ مالکان بھاری نرخوں پر خریدنے کیلئے تیار ہیں ۔اس طرح جن علاقوں میں چارے اور بھوسے کی قلت ہے وہاں پر گنے کے چھلکے اور پتے جانوروں کے چارے اور بھوسے کے طور پر بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جس سے کاشتکاروں کو90سے 100روپے فی من کی اضافی رقم حاصل ہو رہی ہے ۔ دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اسی طرح گنے سے گڑ کی تیاری جاری رہی تو آئندہ سال ایک بار پھر چینی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع میں شوگر ملز مالکان کی اجارہ داری اور امدادی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کے باعث ابھی تک وسیع رقبہ پر گنے کی فصل کھڑی حالت میں موجود ہے جس کی وجہ سے گندم کی کاشت انتہائی تاخیر کا موجب بن رہی ہے اور اسی وجہ سے رواں سیزن کے دوران گندم کی کاشت کا ہدف لاکھوں ایکڑ کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس سے آئندہ سال دیگر بحرانوں کی طرح گندم کے بحران کا بھی مبینہ طور پر سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔

مزید : کامرس