لاہور میں بیک وقت اورنج لائن اور سگنل فری جیسے کام شروع ہیں

لاہور میں بیک وقت اورنج لائن اور سگنل فری جیسے کام شروع ہیں

  

دُنیا میں موسمی تبدیلیوں کا جو سلسہ جاری ہے اس سے پاکستان بھی مبرا نہیں۔ گزشتہ کئی روز سے پنجاب کے مرکزی میدانی علاقے دھند کی لپیٹ میں ہیں جو کہ کبھی ہلکی اور کبھی شدید ہو جاتی ہے، خصوصاً شام سے اگلی صبح دھوپ نکلنے تک یہی کیفیت رہتی ہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران یہ سلسلہ زیادہ شدت اختیار کر گیا،سڑکوں پر بے احتیاط ڈرائیونگ کی وجہ سے حادثات ہوئے اور ٹریفک بھی جام ہوئی، حتیٰ کہ ایئر پورٹ پر حدِ نگاہ صفر ہونے کی وجہ سے جہاز بھی نہ اُتر سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے جہاز کو بھی واپس کراچی جانا پڑا، وہ منگل کی صبح ترکی سے لاہور پہنچے تھے۔ ایئر پورٹ پر حد نگاہ صفر تھی، یہاں قطر کے تعاون سے جو نیا نظام لگایا گیا ہے اسے بھی کم از کم50میٹر تک حد نگاہ کی ضرورت ہوتی اور پھر آنے والے جہاز میں بھی متعلقہ آلات اور پائلٹ کا تربیت یافتہ ہونا شرط ہے۔ موٹروے بھی بند رہی اور جو گاڑیاں دھند سے پہلے سفر شروع کر چکی تھیں صرف ان کو آنے کی اجازت دی گئی اور وہ بہت کم رفتار سے یہاں پہنچیں۔

دھند کے علاوہ یہ لاہور شہر ترقیاتی پروگراموں کی زد میں ہے جو بیک وقت شروع کر دیئے گئے اور وزیراعلیٰ تکنیکی ماہرین کی رائے اور معینہ مدت سے پہلے کام کی تکمیل کا تقاضہ کرتے ہیں اور ہدایات دے کر عمل بھی کراتے ہیں، آج کل جیل روڈ سے لبرٹی تک سگنل فری منصوبے پر کام جاری ہے جو اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اس سے عوام کو جو دشواری ہوئی اور اب تک ہو رہی ہے وہ اپنی جگہ، تاہم کام معیاری نہیں ہو، اس کی پڑتال یا چیکنگ کس کے ذمہ ہے وہ کسی کو علم نہیں،حتیٰ کہ جو کارپٹ کیا جا رہا تھا اسے مقررہ وزن والے روڈ رولروں سے دبایا بھی نہیں جا رہا، ٹریفک سے دب رہا ہے۔

دوسری طرف اورنج لائن(ریلوے) کا جو منصوبہ شروع ہے اسے بھی وقت سے پہلے مکمل کرنے پر زور دیا گیا، اس کی وجہ سے بیک وقت پورے روٹ پر کام شروع کر دیا گیا، مرکزی کمپنی چینی ہے لیکن آگے کام مقامی ٹھیکیداروں کو دیا گیا ہے، کھدائی کی وجہ سے کئی مقامات پر ٹیلی فون کی لائنیں، پانی اور گیس کے پائپ پھٹ گئے ہیں، ٹھوکر نیاز بیگ سے ملتان چونگی کے درمیان کئی آبادیاں پانی اور گیس سے محروم ہیں، وحدت روڈ پر منصورہ کے قریب اسفالٹ پلانٹ نے پوری آبادی کو بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے، اس منصوبے کی افادیت اپنی جگہ، لیکن اس کے کام کی وجہ سے اڑنے والی گرد کا کوئی حساب نہیں کیا گیا، اس لئے باریک مٹی گھروں میں بھی گھس رہی ہے، اسفالٹ پلانٹ کی گرد نے پوری مارکیٹ میں اشیاء خوردو نوش کو بھی آلودہ کرنا شروع کر ر کھا ہے۔ ہیوی ٹریفک نے ٹریفک جام کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جبکہ اسفالٹ پلانٹ کے باہر وحدت روڈ پر اونچے اونچے آئی کیٹ لگا کر سپیڈ بریکر بنائے گئے یہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پانچ بنا دیئے گئے، گاڑیوں کا انجر پنجر ڈھیلا ہوتا ہے۔کوئی پُرسان حال نہیں، وزیراعلیٰ ذرا دِلی کی میٹرو کی تعمیر کا احوال دریافت کر لیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ وہاں کام رات کو ہوتا اور مقررہ کام والے مقام کے اردگرد بڑی بڑی جستی چادریں لگا کر کام ہوتا تھا کہ گرد باہر نہ آئے اور ٹریفک متاثر نہ ہو۔

لاہور میں ہفتہ رفتہ میں دو اہم تقریبات تھیں۔ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ؒ کا سہ روزہ عرس اور اس عرس کے آخری روز چہلم حضرت امام حسینؓ کا جلوس بیک وقت تھے، انتظامیہ نے ہر دو تقریبات کے حوالے سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے اور ہزاروں پولیس کے جوانوں کو تعینات کرنے کے علاوہ رینجرز کی مدد طلب کی گئی اور فوج کے لئے سٹینڈ بائی کی درخواست بھی تھی۔بہرحال اللہ کا کرم رہا اور دونوں تقریبات پُرامن طور پر اختتام پذیر ہو گئیں۔

عرس حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کے موقع پر دور دراز سے بھی زائرین آئے، معمول کے مطابق قوالی، نعت خوانی اور خطابات کا سلسلہ ہوا، لنگر بھی مسلسل تقسیم کیا گیا، جبکہ دودھ کی سبیل بھی معمول کے مطابق لگی جہاں تینوں روز زائرین کو خالص دودھ پلایا گیا، انتظامیہ نے ان تقریبات کے پُرامن طور پر اختتام پذیر ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔

بلدیاتی اداروں کے تینوں انتخابی مراحل مکمل ہو گئے، لاہور میں یہ انتخابات دوسرے مرحلے مییں مکمل ہوئے تھے،اس لئے اب یہاں اختیارات کا انتظار ہے جو حلف کے بعد ممکن ہیں ابھی حلف نہیں ہوا،اس سے پہلے خواتین، اقلیتی اور مزدور نشستوں کے انتخابات ہوں گے تاکہ ایوان مکمل ہو جائے، اس کے بعد ہی میئر اور ڈپٹی میئروں کے انتخابات ہوں گے، لاہور کے ہر زون کے لئے ایک ڈپٹی میئر بنانے کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہو گی جس کی تیاری کر لی گئی ہے، اسی کے ساتھ اختیارات کا بھی تعین کرنا ہو گا،اس وقت تو منتخب اراکین خصوصاً چیئرمین اور وائس چیئرمین حضرات پر علاقائی دباؤ ہے کہ لوگ گلی،محلے اور سڑکوں کے کام کے لئے کہہ رہے ہیں۔اکثر منتخب حضرات نے ایسے کاموں کے لئے زونوں کا رُخ بھی کر لیا ہے، اور وہ کروا بھی رہے ہیں، لاہور میں مسلم لیگ(ن) اکثریت حاصل کر چکی ہے، اور لاہور کے میئر کے لئے مسلم لیگ(ن) کے ہی امیدوار کی کامیابی متوقع ہے اس کے لئے خواجہ حسان کا نام لیا جا رہا ہے، جو معتمد ہیں، ان کو منتخب ہونے میں دقت نہیں ہو گی،کہ آزاد حیثیت سے جیتنے والے بھی مسلم لیگ(ن) ہی کا رُخ کررہے ہیں، صرف سودے بازی ہو رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی، جماعت اسلامی تو اس سے بھی کم رہی، اب تک محافل میں یہی انتخابات زیر موضوع ہیں اور ان پر ہی بات ہوتی رہتی ہے۔پیپلزپارٹی والے تیسرے مرحلے کے دوران ضلع رحیم یار خان میں اکثریت ملنے پر بہت مطمئن اور خوش ہیں اور ان کی طرف سے بیان بازی بھی ہوئی کہ ’’ہم زندہ ہیں‘‘ پیپلزپارٹی آج بھی چاروں صوبوں کی زنجیر ہے، سب رہنماؤں نے تہنیتی پیغامات بھی بھیجے ہیں کہ یہ فتح پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کی کامیابی ہے کہ ضلع رحیم یار خان ہی ان کا اپنا ضلع ہے، اس کامیابی نے حلقہ154 این اے کے انتخابات کو بھی متاثر کیا ہے، اب مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف دونوں ہی کے امیدواروں کو لودھراں کے اس انتخاب کے لئے مخدوم احمد محمود کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہو گی اور یہ کوشش بھی کریں گے۔ بہرحال عوام یہ توقع کرتے ہیں کہ اب انتخابی بخار اترے گا اور کوئی کام ہو گا۔

لاہور میں مہنگائی کے اثرات تو ہوئے جو 40ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے باعث بھی ہیں، اس کے علاوہ یہاں راہزنی کی وارداتوں اور دوسرے جرائم میں اضافے نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے۔ مقامی پولیس اور سی سی پی او کی یقین دہانیاں اور اعلانات سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -