ملتان میں بھی بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل، مسلم لیگ (ن) کو برتری

ملتان میں بھی بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل، مسلم لیگ (ن) کو برتری

شوکت اشفاق

ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد یہ سلسلہ مکمل ہو گیا ہے پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں پہلے اور دوسرے مرحلے کی طرح آخری مرحلے کے نتائج بھی توقع کے عین مطابق ہی آئے یعنی ایک دو اور تین کا تناسب رہا، غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے سب سے زیادہ نشستیں جیت کر اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی جبکہ آزاد امیدوار اس مرحلے میں بھی دوسرے نمبر پر رہنے میں کامیاب رہے جبکہ تحریک انصاف تیسری پوزیشن ہی حاصل کر سکی تاہم پیپلز پارٹی بھی چند نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، ایک غیر سرکاری ادارے کی رپورے کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے تینوں مرحلوں پر الیکشن کمشن کے 3 ارب اور 80 کروڑ کے لگ بھگ رقم خرچ ہوئی جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں امیدواروں نے 10 ارب روپے سے زیادہ اخراجات کئے، جو انتخابی مہم چلانے میں صرف ہوئے تقریباً 8 کروڑ سے زائد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا 6 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ انتخابی عملے نے خدمات سر انجام دیں اور امن و امان کے لئے ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ پولیس اہلکار، رینجرز اور کچھ علاقوں میں فوج بھی تعینات رہی جن کی نگرانی میں یہ پولنگ ممکن ہوئی اس کے باوجود لڑائی جھگڑے فائرنگ اور مارکٹائی کے واقعات میں 60 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے ذاتی پسند اور نا پسند کے ساتھ سیاسی وابستگی بھی ووٹرز کے لئے اہم رہی تاہم ذات برادری اور ذاتی سیاسی مخالفت نے زیادہ کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم لیگ ن حکومتی جماعت ہونے کے باوجود توقع سے کم نشستیں حاصل کر پائی جس میں ٹکٹوں کی تقسیم میں ذاتی پسند ناپسند آڑے آئی جو آزاد امیدواروں کی اتنی تعداد میں جیتنے کی وجہ بنی۔

سیاسی تجزیہ نگار اس حوالے سے کہتے ہیں کہ عام انتخابات کی نسبت بلدیاتی انتخابات میں پارٹی ووٹ زیادہ تعداد میں نہ پڑنا ایک طرف ان کے منشور کی کمزوری اور عدم اعتماد ہو سکتا ہے جبکہ دوسری طرف یہ سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی علامت بھی ہے کہ نہ صرف حکمران جماعت بلکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی توقع کے مطابق نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی خصوصاً تحریک انصاف سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ جس طرح عام انتخابات میں دھاندلی کا شور کر رہے ہیں تو ان انتخابات میں وہ حکومتی جماعت سخت مقابلہ کریں گے لیکن وہ اس برے طریقے سے آؤٹ ہوئے ہیں کہ اس پر سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کا تبصرہ درست نظر آتا ہے کہ تحریک انصاف جو حکمران جماعت سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کے لئے ایک بڑا سیاسی خوف تھا اب اپنی مقبولیت کھوتی نظر آرہی ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی پالیسیوں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے عوام میں اپنی جڑیں کمزور کر رہی ہے اور ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور مچانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے ’’کھلاڑی‘‘ برداشت اور ضبط کی بجائے الزامات کی سیاست کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ملتان میں بھی صرف 14نشستیں حاصل کر پائے ہیں انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ سرمایہ داروں سے مشورہ لینے کی بجائے عوامی مشاورت سے کام لیں اور دھاندلی کو قومی نعرہ بنانے کی بجائے تعمیری نعرہ اپنائیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے ن لیگ سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کو تحریک انصاف کی سیاسی قوت سے خوفزدہ ہونے سے منع کیا اور کہا کہ عمران خان خود ہی اپنی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے کافی ہیں ان کی یہ بات کسی حد تک درست ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی دراصل عوام کا ان کی پالیسیوں پر عدم اعتماد ہے جس کا سیاسی نقصان انہیں آئندہ عام انتخابات میں بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔

ادھر مخدوم جاوید ہاشمی نے حکومت وقت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اختیارات کو نچلی سطح تک ضرور منتقل کریں کیونکہ یہی جمہوریت کا حسن ہے اگر نو منتخب بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ سونپے گئے تو ن لیگ کی حکومت کے لئے سیاسی اور انتظامی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں انہوں نے آئندہ کچھ دنوں تک اپنے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان جلد کرنے کی خبر بھی دی اب وہ کس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یہ تو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہے لیکن ان کے بیانات اور ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کے لئے ان کے لئے خیر کے کلمات اور مشوروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاید وہ اب ایک مرتبہ بھر باقاعدہمسلم لیگ ن میں شمولیت کا پختہ ارادہ کئے بیٹھے ہیں ا ور شاید ن لیگ کی قیادت کو بھی اس وقت جنوبی پنجاب میں ان جیسی کوئی قد آور سیاسی شخصیت کی ضرورت ضرور محسوس ہو رہی ہے خصوصاً ان بلدیاتی انتخابات میں انہیں اس ریجن میں اپنی سیاسی تنہائی کا احساس ہوا ہوگا۔ اب اس پر کیا فیصلہ ہوتا ہے اور کون سا فریق کس طرح سیاسی بازی کھیلتا ہے اس کا فیصلہ چند روز میں ہو جائے گا مگر ن لیگ کو اس وقت ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں اور ٹاؤن کمیٹیوں میں اپنی پسند کے امیدواروں کو چیئرمین ضلع کونسل میئر اور ٹاؤن کمیٹیوں کے سربراہوں کے چناؤ کیلئے سخت محنت کرنی پڑے گی کیونکہ متعدد شہروں میں صرف اور صرف آزاد امیدوار ہی کلیدی کردار ادا کریں گے خصوصاً رحیم یارخان، بہاولپور، مظفر گڑھ اور ملتان میں ن لیگ کے اندر کی سیاسی دھڑے بندیاں ایک مرتبہ پھر انہیں سیاسی طور پر کمزور کر سکتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایت رہی ہے کہ بلدیاتی اداروں کی سربراہی حکومتی جماعت یا اس کے حمایت یافتہ امیدوار ہی کامیاب ہوتے ہیں لیکن اب کی مرتبہ سیاسی ماحول مختلف ہے اور مختلف دھڑے بندیوں اور سیاسی مراحل سے گزرا انتخابات جیتنے والے زیادہ ہی توقع کریں گے۔ جس کیلئے ن لیگ کو تیار رہنا ہوگا۔ کیونکہ ان کے مقامی رہنما اپنے اپنے امیدوار کیلئے ابھی سے صف بندی میں مصروف ہیں اور وہ من پسند فیصلے نہ ہونے سے کوئی دوسری چال بھی چل سکتے ہیں، آزاد ا ور تحریک انصاف کے جیتنے والوں کے ساتھ مل کر ایک نیا مقامی سیاسی دھڑا بھی تشکیل دے سکتے ہیں، جس کا کچھ شہروں میں امکان موجود ہے جس کی بنیادی وجہ ہر دوسرے لیگی کا چیئرمین اور میئر کا امیدوار ہونا ہے۔ جبکہ لیگی ارکان اسمبلی اپنے قریبی رشتہ داروں اور کچھ اپنے بھائیوں اور اولاد کیلئے ان سیٹوں کے خواہش مند ہیں جس کیلئے وہ گزشتہ کافی عرصہ سے جوڑ توڑ اور لابنگ میں مصروف ہیں اور لیگی قیادت سے قرب داری کے دعویٰ دار بھی ہیں ان حالات میں یہ ن لیگ کی قیادت ایک امتحان ہوگا، جو کچھ ان کی آئندہ انتخابی سیاست کا رخ بھی متعین کریگا۔ کہ وہ اس نازک موقع پر کیا فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ ان انتخابات کے تینوں مرحلوں میں محض ٹکٹوں کی غلط تقسیم سے انہیں کافی سیاسی نقصان ہوا ہے، جس کا خمیازہ انہیں آزاد امیدواروں کی کامیابی کی صورت میں اٹھانا پڑا ہے اور ان آزاد امیدواروں میں بھی زیادہ تعداد لیگیوں کی ہے اب قیادت نے عوامی توقعات کے برعکس ذاتی انا پر فیصلے کئے تو انہیں جنوبی پنجاب میں ایک بڑے سیاسی صدمے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیونکہ اس خطے کے عوام پہلے ہی حکومت کی موجودہ پالیسیوں سے نہ صرف ناراض بلکہ مخالف بھی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...