سانحہ آرمی پبلک سکول کی برسی سرکاری سطح پرمنانے کااعلان

سانحہ آرمی پبلک سکول کی برسی سرکاری سطح پرمنانے کااعلان

آرمی پبلک سکول کے دلخراش سانحہ کو ایک سال مکمل ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں صوبائی حکومت نے سانحہ اے پی ایس کی پہلی برسی سرکاری سطح پر منانے کااعلان کیا ہے اس سلسلے میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول اور آرکائیزلائیربری میں دوبڑی تقریبات منعقد ہونگی جن میں اہم عسکری اور سیاسی قیادتوں کی شرکت کا قومی امکان ہے حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے کے 16 اضلاع میں 119 سرکاری سکولوں کو ننھے شہداء کے نام سے منسوب کردیا اور سکولز کے داخلی راستوں پر معصوم شہداء کی مسکراتی تصاویر نصب کردی ہیں جو دیکھنے والوں کے ذہنوں میں دل ہلا دینے وا لے واقعے کی یاد تازہ کرتے ہیں ضلع پشاور کے 63 سرکاری سکول شہداء کے نام سے منسوب کرنے کے بعد شہداء کی تصاویر مزین کی گئیں اسی دوران کوہاٹ کے سنٹرل جیل میں سانحہ اے پی سی میں ملوث 4 دہشتگردوں کوتختہ دارپر لٹکادیا گیا۔یہ چاروں مجرم اے پی ایس کے حملہ آواروں کو پناہ دینے رہائش فراہم کرنے اوردیگر سہولیات دینے کے جرم میں ملوث پائے گئے شہداء کے لواحقین کی خوش قسمتی ہے کہ ان مجرموں کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں کیا گیا جہاں طویل حکم امتناعی کے باوجود یہ مجرم بہت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے اگر ان مجرموں کو سول عدالتوں میں پیش کیا جاتا تو حسب سابق ان کے باعزت بری ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا تھا بہر حال سانحہ اے پی ایس کی برسی سرکاری سطح پر منانے کااعلان اور مجرموں کی پھانسی کے بعد پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی کے خدشے کے پیش نظر سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبرایجنسی سے آنے و الے راستوں پر بارود کی نشاندہی کرنے والے ڈیٹکیٹرز نصب کردیئے گئے چھاؤنی کے علاقے میں غیرمتعلقہ افراد اور گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا گیا خفییہ اداروں اوراہلکاروں کی ڈیوٹیاں بڑھا دی گئیں۔جگہ جگہ ناکہ بندیاں کرکے چیکنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھانوں کی سطح پرغیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور مشتبہ افراد کی کڑی نگرانی کیلئے الگ سے اہلکار مامور کردیئے گئے امید ہے کہ سانحہ اے پی ایس کے دلخراش واقع نے جس طرح قوم کو یکجا کیا اسی طرح ان معصوم شہداء کی برسی بھی قوم کو نئی زندگی اور نیا جذبہ دے گی خدا کرے کہ 16 دسمبر کا دن محب وطن قوتوں کیلئے فتح اوردہشتگردوں کیلئے شکست کا دن ثابت ہو(امین)۔

دوسری طرف پاک چائینہ اقتصادی راہدای کے منصوبے پر صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے حقوق کیلئے ایک مرتبہ پھر سٹرکوں پر نکل سکتی ہے وزیر اعلی پرویز خٹک نے راہداری منصوبے پر خیبر پختونخوا کے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹنے کا دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ میں کسی قسم کی تبدیلی کسی قیمت پر قابل قبول نہیں وزیر اعلی پرویزخٹک نے پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضع کیا کہ وزیر اعظم کے وعدوں پر من وعن عمل کیا جائے انہوں نے صوبے کی سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اقتصادی راہدرای منصوبے سے متعلق اپنے خدشات اورتحفظات ایک میز پر رکھ کر وفاق حق سے محروم نہ کرے وزیر اعلی نے فائبر آپٹک ایل این جی پاور چیئر مین سولر،ونڈو انرجی پراجیکٹس اور اقتصادی راہداری منصوبے کے دیگر لوازمات کو پنجاب تک محدود رکھنے کے عمل کو ایک بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا کہ اگر خیبر پختونخوا کو اس جائز حق سے محروم کیا گیا تو دشمن فائدہ اٹھا کر ایک اور محاذ کھولیں گے جسکا قوم اور ملک کو نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔

پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس کے اگلے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے ایک وفد نے وزیر اعلی ہاؤس میں وزیر اعلی پرویزخٹک سے ملاقات کی وفد کے پشاور آنے کا بنیادی مقصد سندھ حکومت کی طرف سے زلزلہ زدگان کیلے امدادی پیکج دینا تھا تاہم وزیراعلی پرویز خٹک نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادری راہداری منصوبے کا تنازعہ بھرپور انداز میں ا ٹھایا اور قائد حزب اختلاف پر واضع کیا کہ وفاق نے راہداری منصوبے کا مغربی روٹ ختم کردیا وفاقی حکومت اس عظیم منصوبے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو محروم رکھنا چاہتی ہے وفاقی حکومت نے راہداری منصوبے کو صرف پنجاب تک محدود کردیا جس سے دیگر صوبوں کے احساس محرومی ہیں اضافہ ہوگا جو فیڈریشن کیلئے نقصان کاباعث بن سکتا ہے اس ملاقات میں مرکزی حکومت کی طرف سے بجلی بقایا جات کی ادائیگی میں ٹال مٹول اور گیس نرخوں میں اضافے کے فائدے سے خیبر پختونخوا کو محروم رکھنے کے معاملات سمیت کئی اہم معاملات اٹھائے گئے جن میں وفاق کی طرف سے مسلسل زیادتی ہورہی ہے ۔بعض اطلاعات کے مطابق قائد حزب اختلاف نے لوڈشیڈنگ سمیت بجلی کے معاملات پرا تفاق کرتے ہوئے اسے سندھ کا بھی سنگین مسئلہ اور سندھی عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا مگر اقتصادی راہداری منصوبے پروزیر اعلی پرویزخٹک کی طرف سے پیش کئے گئے خدشات اورتحفظات پراپوزیشن لیڈر کا کوئی ٹھوس موقف میڈیا کی زینت نہ بن سکا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے جائزحقوق کیلئے ا یک مرتبہ پھر اکیلے جنگ لڑے گی اور سٹرکوں پر بھی نکلے گی امکان ہے اگر اقتصادی منصوبے پر صوبائی حکومت سٹرکوں پر نکلی تو عوام کی اکثریت سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر صوبائی حکومت کا ساتھ دیگی ۔اقتصادی راہداری منصوبے پر مسلسل ناانصافی کیوجہ سے خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کے وجود اور بقا ء کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جسکا انداز آنے والے مہینوں میں ہوگا ۔

مزید : ایڈیشن 1