معلومات تک رسائی:عوام کا حق

معلومات تک رسائی:عوام کا حق

  

دنیا کے تمام مہذب اور تعلیم یافتہ معاشروں میں حکومتی اداروں کی کارکردگی ، پالیسی سازی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں معلومات سے آگاہی اور متعلقہ دستاویزات کا حصول عوام کا بنیادی حق تصور کیاجاتاہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس حق کو نہ صرف تسلیم کیا گیاہے، بلکہ حکومتی کارکردگی اور انتظامی امور میں بہتری کے حوالے سے اس امرکے نہایت مثبت اثرات سامنے آئے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے بھی معلومات تک رسائی کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا ہے۔ معلومات عام شہری کے پاس موجود ایسی طاقت ہیں جن کے ذریعے وہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کی جانچ ، سرکاری اداروں کی نگرانی ، بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی سمیت حکومتی فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت بھی کرسکتاہے۔دیکھا جائے تو گڈگورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ کے لئے بھی یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔گڈگورننس کے لئے ضروری ہے کہ عوامی فلاحی منصوبوں اور محکمانہ انتظامی امور کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ جمہوری ادارے فعال نہ ہوں تو جمہوریت کا فروغ ممکن نہیں۔ جمہوری اداروں کو فعال بنانے کے لئے ان کی کارکردگی کی شفافیت ، احتساب اور نگرانی عوامی سطح پر ہونا ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب عام شہری اپنے حقوق سے آگاہ ہو اور ان کے حصول کے لئے کوشش بھی کرے۔ معلومات کے حصول کا حق بھی ایسا ہی بنیادی حق ہے جس کے تحفظ کا وعدہ ہر حکومت کرتی رہی ہے۔پاکستان نے 2002ء میں فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس نافذ کر کے پاکستانی شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیا۔

اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 19-Aشامل کر کے اسے حق کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ حکومت پنجاب نے بھی دسمبر 2013ء میں ’’پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013ء ‘‘ پاس کیا جس کے تحت صوبہ پنجاب کے عوام کو بھی یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ حکومت سے اس کے فیصلوں اورترقیاتی پروگرامز میں شفافیت پر مبنی اقدامات کے بارے میں تمام ضروری معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرسکیں۔ ایکٹ کے تحت حکومتی اداروں کا فرض ہے کہ وہ تمام متعلقہ معلومات کو اس انداز میں مرتب کریں کہ وہ بآسانی زیادہ سے زیادہ عوام کی رسائی میں آسکیں سوائے، ان معلومات کے جن کا افشاہونا قومی مفاد یا امن عامہ کے حق میں نہ ہویا جنہیں حکومت نے کسی قانون کے تحت راز میں رکھنے کا اعلان کیا ہو ۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفاد سے متعلق تمام معلومات کی باقاعدگی کے ساتھ مسلسل تشہیر کو یقینی بنائیں۔ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ2013ء کے تحت پنجاب انفارمیشن کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جس میں ایک چیف انفارمیشن کمشنر اور دو انفارمیشن کمشنرز کی تعیناتی کی گئی ہے، جبکہ حکومت پنجاب کے تحت کام کرنے والے تمام محکموں اوراداروں میں ایکٹ کی شق 9کے تحت پبلک انفارمیشن آفیسرز بھی مقرر کردئیے گئے ہیں جو شہریوں کو ان کی مطلوبہ معلومات درخواست دینے کے14دن کے اندر فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن کا قیام عوام کی سہولت اور معلومات تک آسان رسائی ، گڈگورننس اور ٹرانسپیرنسی کے فروغ کے لئے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی قیادت میں حکومت پنجاب کا ایک اور انقلابی اقدام ہے، جس کے ذریعے عوام اپنے علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات،تعلیمی اداروں، سڑکوں ، ہسپتالوں، پارکس یا ڈسپنسریوں وغیرہ پر خرچ ہونے والے بجٹ سمیت دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

کمیشن کے قیام کا مقصد عوام کو باخبر رکھ کر محکمانہ نظام کی بہتری اور اصلاح کرنا ہے۔ معلومات کے حصول کے لئے درخواست دینے پرکوئی بھی شخص متعلقہ محکمے کی طرف سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں پنجاب انفارمیشن کمیشن کی ویب سائٹ ۔۔۔ info@rti.punjab.gov.pk. اور www.rti.punjab.gov.pk,۔۔۔ پر رابطہ کرسکتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت تمام محکموں اور اداروں پر لازم ہے کہ درخواست گزار کو ادارے سے متعلقہ معلومات، ادارہ جاتی مقاصد ، مقرر کردہ فرائض ، افسران و ملازمین کے اختیارات ، تعیناتیوں، ڈویلپمنٹ سکیموں،ادارے کے کام کے طریقہ کار ،قواعد و ضوابط، متعلقہ ایکٹ، آرڈیننس ، قوانین ، نوٹیفکیشن ، سرکلرز اور دیگر معلومات بارے آگاہی دے ۔ ادارے پر لازم ہے کہ وہ درخواست گزار کو فیصلہ سازی کے طریقہ کار ، عوامی مشاورت، حاصل رعایتوں، اختیارات ، سہولتوں وغیرہ سے آگاہ کرے۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن معلومات تک رسائی کے لئے بنائے گئے اس ایکٹ کے زیر تحت تمام معاملات کی نگرانی کرتاہے۔ کمیشن میں چیف انفارمیشن کمشنر ہائی کورٹ کا ایک سینئر جج ، 21ویں یا مساوی گریڈ کا ایک افسر کمشنر، جبکہ دوسرا کمشنرسول سوسائٹی کا نمائندہ لیا گیاہے۔ یہ کمیشن از خود یا درخواست گزار کی شکایت پر متعلقہ حکومتی ادارے یا محکمے کے خلاف تحقیقات اور اداروں کو درخواست گزارکو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیتاہے۔ سیکشن 13کے تحت عوامی مفادات کا تعین کرتاہے، قواعد و ضوابط یا اس ایکٹ کے تحت درخواست میں موجود مختلف نقائص و تضادات کو دور کرتاہے۔ کمیشن کسی بھی شکایت دہندہ کی درخواست پر 30دن یا پیچیدہ معاملات میں 60دن کے اندر شکایات کا فیصلہ سناتا ہے ۔

کمیشن سول عدالت کے اختیارات رکھتاہے اور کسی بھی شخص کو مطلوبہ معلومات یا دستاویزات کی فراہمی ، تحریری یا زبانی شہادت کے لئے اپنے روبروپیش ہونے کا حکم دے سکتاہے۔ کمیشن کسی بھی محکمے یا ادارے کو معلومات کے تحفظ، مینجمنٹ ، اشاعت، تشہیراور رسائی کی ہدایت دیتاہے، کسی بھی حکومتی ادارے سے معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے طریقہ کار کا تعین کرتاہے۔ اس قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے حکومت کو مشورہ دیتا اور موثر عملدرآمد کے لئے حکومتی اداروں کو تکنیکی معاونت بھی فراہم کرتاہے۔ کمیشن متعلقہ محکموں اور اداروں میں مقرر کردہ پبلک انفارمیشن آفیسر ز کو اس ایکٹ کے تحت معلومات تک رسائی دینے کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کرتاہے۔ کمیشن کا اپنا انفارمیشن ویب پورٹل بھی درخواست گزارکو معلومات تک رسائی کے لئے ایک اچھا اقدام ہے۔ یہ کمیشن معلومات کو اردو اور انگریزی کے آسان الفا ظ میں درخواست گزار تک پہنچانے کا اہتمام کرتاہے اور پبلک انفارمیشن آفیسرز کے لئے گائیڈ لائن تیار کرتاہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض سرکاری محکموں اور ادارں کی طرف سے معلومات کی فراہمی کے حوالے سے عدم تعاون ، تاخیری حربوں، روایتی سستی ، دستاویزات میں ہیرا پھیری اور ایکٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے خلاف ورزی پر مبنی رجحان سامنے آیاہے جس کی مذمت کی جانی چاہیے، کیونکہ معلومات تک رسائی عوام کا حق ہے اور کوئی بھی شخص یا ادارہ یہ حق سلب نہیں کر سکتا۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن معلومات تک جان بوجھ کر رسائی دینے سے انکار، مقررہ وقت میں معلومات کی عدم فراہمی، درخواست گزار سے درخواست لینے اور اس پر ضروری کارروائی کرنے سے انکار، غلط، جھوٹی یا نامکمل معلومات کی فراہمی، مقرر کردہ فیس سے زیادہ کی وصولی ، مطلوبہ معلومات یا دستاویزات کی شکل بگاڑنے ، معلومات تک رسائی دینے میں ناکامی اور کسی بھی پبلک ادارے کی طرف سے اس ایکٹ کی شرائط کی خلاف ورزی پر شکایات وصول کرتا اور فوری کارروائی عمل میں لاتاہے۔

شکایات کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن سول عدالت کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے گواہی یا ریکارڈ طلب کرنے کے لئے سمن جاری کرتاہے۔ کمیشن اختیار رکھتاہے کہ معلومات تک رسائی کے حوالے سے شکایت کنندہ کی شکایت درست ثابت ہونے پر مرتکب شخص کی معلومات فراہم کرنے تک روزانہ دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی یا پھر 50ہزار روپے تک جرمانہ کرسکتاہے۔ جان بوجھ کر سرکاری دستاویزات میں ردوبدل کرنے یا ان کی شکل بگاڑنے کی صورت میں کمیشن مرتکب شخص کو دو سال قید ا اور 10ہزار روپے جرمانہ تک کی سزا سناسکتاہے۔۔۔پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ 2013ء شہریوں کواس قابل بنا رہا ہے کہ وہ سرکاری اداروں اور متعلقہ حکام کا ان کی کارکردگی کے حوالے سے احتساب کرسکیں ، اپنا حق مانگ سکیں، بہتر خدمات کا مطالبہ کرسکیں اور کرپشن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔ یہ قانون آپ کو بااختیار بناتا ہے کہ آپ سرکاری امور کے حوالے سے جاری خفیہ سرگرمیوں کو بے نقاب کرسکیں۔ سینکڑوں افراد پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے استفادہ کر رہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔حکومت پنجاب بھی اس قانون سے بے حد مستفید ہورہی ہے، کیونکہ معلومات کی عوام تک رسائی کے ذریعے حکومتی ادارے اپنی خدمات مزید موثر انداز میں لوگوں تک پہنچانے اور اپنی کارکردگی میں بہتری لانے پر مجبورہیں۔ اس قانون کے ذریعے عوام جائیداد کی منتقلی ، ڈرائیونگ لائنس کے حصول، تعیناتیوں ، فنڈز کے اجرا، استعمال اور دیگر متعلقہ امور بارے آگاہی حاصل کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والے اشخاص کا محاسبہ کرتے ہیں۔

آپ کے علاقے میں خستہ حال سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں ، سکولوں اور سرکاری عمارتوں کی عرصہ دراز تک تعمیر و مرمت نہ ہونے کی صورت میں آپ ان منصوبوں کے لئے جاری کئے گئے فنڈزکے استعمال کے بارے میں حقائق معلوم کرسکتے ہیں کہ اگر فنڈ رکھے گئے تو استعمال کیوں نہیں ہوئے اور کون ایسا ہے جو یہ نہیں ہونے دے رہا؟مختلف عوامی منصوبوں کے لئے حکومت نے کتنے فنڈز جاری کئے اور انہیں کس طرح خرچ کیا گیا؟ ٹیکسوں کی رقم کن کاموں پر خرچ ہورہی ہے؟ آپ ہر وہ ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، جسے حکومت نے عوامی ریکارڈ قرار دیا ہو، تاہم کسی شخص کی ذاتی زندگی، قومی دفاع یا سیکیورٹی ، پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات ، پبلک آرڈرز، قانونی تحفظ رکھنے والی دستاویزات و معلومات، کمرشل مفادات پر مبنی قانونی معلومات ، کسی جرم یا کسی جرم کرنے والے کی سزا سے متعلق عدالتی امور کے بارہم ے میں معلومات وغیرہ حاصل نہیں کی جاسکتیں ،تابعض معاملات پر حتمی طور پر چیف کمشنر اس بات کا فیصلہ کرتاہے کہ آیا کہ وہ معلومات قابل رسائی ہیں یا نہیں۔ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ تو انفارمیشن ایکٹ 2013ء اور پنجاب انفارمیشن کمیشن کا قیام حکومت پنجاب کا ایک اورمستحسن اقدام ہے، کیونکہ اس ایکٹ کے تحت معلومات تک رسائی کے حق کویقینی بنانے سے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ ،ترقیاتی و انتظامی امور میں شفافیت اور گڈگورننس کے فروغ، جمہوری اداروں کی فعالیت اور اصلاح، حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی مضبوطی اور حکومتی اداروں میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے میں بے حد مدد ملی رہی ہے، جس سے نہ صرف جمہوری معاشرے اور اقدار کو فروغ حاصل ہو گا،بلکہ اس احتسابی عمل سے عام شہری کا اعتماد بحال ،ترقیاتی عمل تیزتر اور بحیثیت مجموعی لوگوں کا معیار زندگی بھی بلند ہوگا۔

مزید :

کالم -