شِکوہ،جَوابِ شکَوہ۔۔۔!

شِکوہ،جَوابِ شکَوہ۔۔۔!
شِکوہ،جَوابِ شکَوہ۔۔۔!

  


سوہنی دھرتی پاکستان کی من موہنی دھرتی پنجاب میں جنم لینے والی نادر شخصیات میں علامہ اقبال کو بھی نمایاں حیثیت اور ممتاز مقام و مرتبہ حاصل ہے انہوں نے اسلامی فکر، عشق رسول مقبولؐ اور خالق و مخلوق کے باہم بندھن میں رچ بس کر شکوہ کے عنوان سے طویل منظوم مکالمہ رقم کیا تو انجمن جہلا اور فہم ادراک سے عاری نابغوں خصوصاً مولو یان کرام میں کہرام مچ گیا ہر کس و ناکس علامہ اقبال پر کفر کے فتوے لگاتا اور انہیں واجب القتل گستاخ گردانتا رہا یہ شدت پسندی انتہائی عدم برداشت تک جا پہنچی تو حضرت سر ڈاکٹر شیخ علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ، حکیم الامت ،شاعر مشرق، مفکر اسلام کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا علامہ صاحب بہت بڑے نباض بھی تھے اصل مرض کی تشخیص با آسانی کر سکتے تھے وہ جان گئے کہ گڑ بڑ ان کی شاعری میں نہیں بلکہ سخن فہموں کی کج فہمی اور انجمن جہلا کی جہالت ہی سارے فساد کی جڑ ہے جس سے کم فہموں، ناپختہ ذہنوں اور سیدھے سادے مسلمانوں میں اشتعال پروان چڑھ رہا ہے چنانچہ انہوں نے اپنی ہی طویل نظم شکوہ کی تشریح کیلئے ایک اور طویل نظم جواب شکوہ کے عنوان سے لکھی جواب شکوہ میں چونکہ شکوہ سے پیدا شدہ سوالات کا تفصیل سے جواب دیا گیا تھا اسی لئے جواب شکوہ منظر عام پر آتے ہی علامہ صاحب پر دھڑا دھڑ لگ رہے کفر کے فتوے اپنی موت آپ مر گئے من گھڑت تاویلات سے علامہ اقبال کو لائق تعزیز قرار دینے والے شرمسار ہوئے اور خود سے بھی منہ چھپائے پھرنے لگے پھر رفتہ رفتہ سب معترضین اور نقادوں کو اپنی کج فہمی، کج روی کا احساس ہوا اس کے بعد تو علامہ صاحب نے جو کچھ بھی اور جس عالم و تناظر میں بھی کہا اس کی بھرپور والہانہ پذیرائی ہوئی ۔

یہ تمہید دراصل حالات حاضرہ کے باعث واجب ہوئی وگرنہ موضوعات تو اور بہت سے ہیں جبکہ میرا اور میرے کالم کے عنوان’’ آواز پنجاب‘‘ کا دامن تو ویسے ہی سوہنے دیس کی من موہنی دھرتی پنجاب اور پنجابیوں سے متعلقہ امور تک ہی محدود ہے البتہ یہ نسبت بہت گراں ہے کہ دھرتی ماں سے حقیقی فطری اور والہانہ جڑت رکھنے والا پنجابی ڈھگا ہی اصلی تے کھرا پاکستانی ہے جس کی حب الوطنی کے بارے میں دوسری کوئی رائے ہو ہی نہیں سکتی ہاں تو بات ہو رہی تھی شکوہ اور جواب شکوہ کی۔ حالات حاضرہ میں دو مقتدر، محترم، بنیادی ریاستی ستونوں کے مابین حالیہ دنوں میں ’’ بپا‘‘ رکھے گئے شکوہ جواب شکوہ نے ہم سب کے مشترکہ دشمن ’’ تیجے‘‘ کو خوب خوب یہ موقع دیا کہ وہ ہماری چنگی بھلی جگ ہنسائی کرا سکے۔دشمنان اسلام و پاکستان تو پہلے ہی ہر حیلے بہانے اقوام عالم میں ہماری ریٹنگ کم کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں مگر دکھ اس وقت ہوتا ہے کہ جب اپنے ہی دانا بینا لوگ عقلوں پیدل اور ’’ نابینا‘‘ ہو کر اسلام اور پاکستان کے حوالہ سے منفی تاثر ابھارنے اور اسے بڑھاوا دینے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہو جاتے ہیں ایک سیدھی سادی اور معروضی حقائق کے تناظر میں گندھی بات کو نان ایشو سے اچک کر، فنکارانہ مہارت سے ٹوئسٹ کروا کے جس طرح سے پہلے ایشو بنایا اور پھر طوفان بد تمیزی تک پہنچا دیا گیا یہ کہاں کی عقل، کیسا شعور، کس طرح کی دانائی اور کس درجہ کی حب الوطنی تھی؟ مجھے کچھ نہیں کہنا بیرونی چشموں سے سیراب ہونے والوں کو، الٹے اور تعصبی چشمے پہننے والوں کو ،رائی کا پہاڑ بنانے والے ڈس انفارمیشن سیل فیم کاری گروں کو اور نہ ہی لا علم عالموں، مفاد زدہ سیاستدانوں خواص بنے رہنے کے دلدادہ نام نہاد عوامی رہنماؤں کو۔ہاں مگر مجھے کچھ کہنا ہے تو اپنے جیسے ہر عام آدمی سے یہ عرض ضرور کرنا ہے جو جو ، جس جس کھونٹی سے بندھا ہے اسے تو اس کے حال پر چھوڑ دو مگر تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم ہر بیٹھک، ہر چوپال، ہر گلی، ہر چوک اور ہر بوہڑ تھلے یہی قصہ لے کر بیٹھ گئے ہو، پورے ملک کو قصہ خوانی بازار بنانے میں جتنا اہم بنیادی کردار عام آدمی کا ہے اور کسی کا بھی نہیں کم از کم ہمیں تو اس مہلک غبار کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔

ہمارے نیک نام ترین قومی ادارہ پاک فوج کے کمان داروں کی روٹین کی میٹنگ (کور کمانڈرز کانفرنس)میں جملہ اہم قومی امور، تعمیر و ترقی، آپریشن ضرب عضب اور اہم اندرونی و بیرونی امور پر تفصیل سے تبادلہ خیالات اور غور و خوض کیا گیا معمول کے مطابق اجلاس کے اختتام پر میر مجلس اور سپہ سالار پاک فوج کی جانب سے انٹر سروسز پبلک ریلشینز آئی ایس پی آر نے اس کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اس اعلامیہ میں علاوہ دیگر باتوں کے ایک اہم تر ریاستی ستون کو اس کا یہ فرض یاد دلانے کیلئے محض توجہ دلاؤ، نشان دہی کی گئی تھی کہ مسائل کے حل اور تعمیر و ترقی کیلئے حسن انتظام(گڈ گورننس) بنیادی اہمیت رکھتی ہے بس اک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا اسی ایک لفظ حسن انتظام کو بنیاد بنا کر ایسی ایسی منفی تاویلات گھڑ لی گئیں اور خوب خوب تشہیر سے اس کو اچھے خاصے طوفان بد تمیزی میں بدل کے رکھ دیا گیا کسی ’’ عقل کل ‘‘ نے اتنا بھی احساس کرنا گوارہ نہ کیا کہ وہ کر کیا رہا ہے اور اس سے ملک و قوم کی کتنی بڑی’’ خدمت ‘‘ سر انجام دی جا رہی ہے صدحیف ہے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر پٹھی سدھی ٹپولیاں مارنے والوں پر، افسوس ہے منتخب جمہوری ایوانوں میں میڈیا کیمروں کے روبرو مجمع بازی کرنے والے سیاسی نابغوں پر اور لخ۔۔۔ ہے اس سارے قصے کو اچھالنے اور کرہ ارض کو کونے کونے تک پہنچانے والے بے دانش دانشوروں پر۔!ریٹنگ کے چکر میں اندھا دھند بازی لے جانے کے رسیا ٹی وی چینلز کے پالیسی سازوں کو تو چلو پھر پانی میں اپنی ناک ڈبو دینی چاہئے کہ جو کسی معاملہ کو پہاڑ بناتے وقت اس کی رائی کی اصلیت پر دھیان ہی نہیں دیتے۔ کیا انہیں اس امر کا بھی احساس نہ تھا کہ وہ میڈیا جیسے موثر ترین ہتھیار سے اپنے ہی قومی مفادات کے گلے پر چھری پھیر رہے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ کسی ’’ سیانے ‘‘ میڈیا کریٹ نے اس سارے معاملہ کی ٹائمنگ پر تو توجہ ہی دینا مناسب نہیں سمجھا۔

بلاشبہ پاکستان نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اندرونی و بیرونی خطرات، خدشات اور بین الاقوامی شطرنج کے الجھاووں میں گھرے پاکستان کے منتخب جمہوری وزیراعظم جو خیر سے خصوصی اہتمام سے فراہم کردہ بھاری مینڈیٹ کی بدولت تیسری مرتبہ راج سنگھا سن پر پر د ھان منتری بنے بیٹھے ہیں گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے 2 مرتبہ امریکہ یاترا کر آئے ہیں پہلی مرتبہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب فرمانے جبکہ دوسری مرتبہ اپنی درخواست پر کشکول اور بھاری بارات کے ساتھ کئے جانے والے سرکاری دورہ پر، دونوں مرتبہ کی اس شاہی امریکہ یاترا پر غریب قوم کے خون پسینہ سے اربوں ڈالر لٹا دیئے گئے مگر نہ تو کشکول بھرا اور نہ ہی ملک و قوم کا کوئی بھلا ہو سکا الٹا ہمارے وزیراعظم اس امریکی حکم نامہ پرآمین کہہ کر یہ وعدہ بھی کر آئے کہ وہ گھر واپس جاتے ہی نہ صرف جہادی تنظیموں کی ایسی تیسی کر کے رکھ دیں گے اور پاکستانی روپے کی قدر میں مزید 20 فیصد تک کی کمی کر دیں گے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیادیں ہی ہلا کر رکھ دیں گے اور اسے لبرل ڈیمو کریٹک جدید ریاست میں بدل دیں گے اسی سیکولر ازم کا پرچار انہوں نے دیوالی کے رنگ میں رنگے جانے کے ذریعے بھی کیا اور کئی دیگر حرکات ،سکنات، احکامات، اقدامات کے ذریعے بھی، کٹٹر اسلام و پاکستان دشمن مودی کی جانب سے بابری مسجد سے لے کر حالیہ گٹو ماتا ایشو تک اور پھر شیو سینا کے ذریعے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیئے جانے پر متاثرہ پاکستانی قوم کے منتخب جمہوری وزیراعظم کو کیا یہ سب کچھ زیب دیتا ہے؟۔ جانے وہ کس کس کی بھاشا بول رہے ہیں اور ایسا کس لئے کر رہے ہیں معروضی حقیقت تو یہ ہے اس موقع پر جیکہ ہماری عسکری قیادت امریکہ سے اہم قومی و بین الاقوامی امور پر دو ٹوک بات کرنے کے مراحل میں ہے تو کیا ہماری حکومتی قیادت کو ایسے مہلک طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا؟۔افسوس کہ اپنی توقع اور سوچ سے زیادہ نوازے جانے والی نواز شریف فیملی ابھی تک سریافروش ہی بنی ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ اب دھرتی فروش نہ بن جائے۔

مزید : کالم


loading...