دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوگی۔۔۔!

دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوگی۔۔۔!
 دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوگی۔۔۔!

  

دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہو گی۔ ظاہر ہے اس افسوس ناک نتیجے میں میری کوئی خواہش شامل نہیں ہے۔ یقین کریں، اگر موجودہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے ایک فیصد بھی امید ہوتی تو میں یہ تکلیف دہ جملہ منہ سے نہ نکالتا۔ مَیں اپنا THESIS آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس پر غور کرنے کے بعد اگر آپ کا نتیجہ مختلف ہو تو مجھے ضرور آگاہ کریں، لیکن ریویو کرنے سے پہلے یہ ذہن میں رکھ لیں کہ مَیں نے ’’موجودہ صورت حال‘‘ کے حوالے سے اس رائے کا اظہار کیا ہے۔ اگر سوچوں میں کوئی ڈرامائی انہونی تبدیلی آ جائے تو مَیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ پاکستان اور اس کے پاس مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے دہشت گردی میں جو تنظیمیں ملوث ہیں، ان کے تمام ارکان مسلمان ہیں۔ آپ چاہیں تو انہیں نام نہاد مسلمان کہہ لیں، لیکن نام تو ان کا بہرحال اسلامی ہے۔ مجھے اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ ان کی حرکتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن جو لوگ مسلمان نہیں ہیں یا جنہیں اسلام کی کوئی سمجھ نہیں ہے وہ تو یہی کہیں گے کہ یہ وحشی درندے یا شرعی لٹیرے شاید اسلام کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ کچھ تنظیموں کے ارکان پاکستانی بھی ہیں۔ پاکستانی حکومت، فوج یا قوم کا بحیثیت مجموعی یقیناًان دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ،لیکن جب بھی دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہو گی تو مسلمانوں اور پاکستانیوں کا حوالہ آنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ ضربِ عضب کے کامیاب آپریشن کے باوجود ان کے تھوڑے بہت نشان شاید اب بھی باقی ہیں۔

یہی ضرب اگر ان پر پہلے پڑ جاتی تو ممکن ہے ان کا بہت پہلے صفایا ہو جاتا، لیکن کہا گیا کہ پہلے قوم تیار نہیں تھی اس لئے جنرل (ر)اشفاق پرویز کیانی ہچکچاتے رہے۔ جب قوم کی حمایت حاصل ہوئی تو جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ضربِ عضب کا جرأت مندانہ اقدام کیا گیا اور تذبذب کی شکار حکومت کو امن مذاکرات ترک کر کے فوج کا ساتھ دینا پڑا۔ ذرا غور کریں کہ یہ بات چیت جن افراد سے ان کے ہمدردوں کے ذریعے ہو رہی تھی، ان کے ہاتھوں پر کوئی دستانے نہیں تھے۔ صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ ہزاروں معصوم شہریوں کے خون میں لت پت تھے۔ ان کو بچانے اور ان کے حق میں پراپیگنڈہ کرنے والے ان کے یہ ہمدرد بھی اس ظلم میں کسی نہ کسی حد تک شریک تھے، جنہوں نے طویل عرصے تک پبلک ریلیشنز کی یہ مہم کامیابی سے چلائی کہ ان کو چھیڑنے کا مطلب غیر ملکی جنگ میں شریک ہونے کے مترادف ہوگا۔ معصوم شہری ان کا یہ سودا خریدتے رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔ ان وحشی درندوں نے آرمی سکول کے معصوم بچوں کا خون بہایا تو قوم کے ایک وسیع طبقے کو احساس ہوا کہ ان وحشیوں کے مذہبی ہمدردوں نے انہیں دھوکے میں رکھا۔ یہ طبقہ جاگ اٹھا تو ہمدرد وقتی طور پر خاموش ہو گئے، لیکن انہوں نے شکست تسلیم نہیں کی ،بلکہ انہوں نے قوم کو ورغلانے کی مختلف راہوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔

مَیں ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ پاکستانیوں کو اسلام سے بہت محبت ہے، لیکن یہ محبت ایسی کمزوری بھی بن گئی، جس سے اسلام کا نام استعمال کرنے والوں نے دوسرے مقاصد بھی حاصل کئے، جن میں دہشت گردی بھی شامل تھی۔ انہوں نے اسلام کے نام پر اپنی شریعت نافذ کرنے کا اعلان کر کے اپنے ’’باغیوں‘‘ کا خون بہانا شروع کر دیا۔ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اغوا برائے تاوان، منشیات اور اسلحے کا ناجائز کاروبار شروع کیا۔ اس ناجائز دولت سے عیاشیاں شروع کر دیں۔ لڑکیوں کو اغوا کر کے لونڈیوں کی طرح بانٹ لیا۔پاکستانیوں کی کچھ حقیقی اور کچھ غیر حقیقی نفرتوں کو جس طرح استعمال کیا گیا اور آج تک استعمال کیا جا رہا ہے اس کا فائدہ بھی ان دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ پاکستان انڈیا کا حصہ رہا ہے، جس پر برطانیہ نے حکومت کی تھی۔ بین الاقوامی سیاست میں برطانیہ تو بتدریج پیچھے ہٹتا گیا اور امریکہ آگے آ گیا۔ امریکہ نے بھی انڈیا کی طرح برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی، لیکن پراپیگنڈہ کرنے والوں نے اسے گوروں کا نمائندہ بنا کر توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا، حالانکہ امریکہ میں بسنے والے گورے تو برطانیہ کے دولت مند گوروں کے جبر سے نکل کر یہاں آئے تھے، پھر یہاں کالوں کی اتنی تعداد رہتی ہے جو کسی بھی افریقی ملک کے برابر ہے۔

امریکہ کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے، جہاں مسجدوں کے امام اپنے خطبوں میں برملا کہتے ہیں کہ انہیں اپنے ملکوں میں اظہار رائے کی اتنی آزادی نہیں ،جتنی یہاں ہے، لیکن پاکستانیوں کے لئے وہ عیسائی گوروں کا نمائندہ بن گیا۔ اسرائیل سے امریکہ کا گہرا سیاسی تعلق ضرور ہے، لیکن فلسطین کی الگ ریاست کے قیام کا مغرب میں سب سے بڑا حامی امریکہ ہے، جسے اسرائیل پسند نہیں کرتا۔ فلسطینی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستانیوں کی طرح امریکی عوام کی اکثریت بھی چاہتی ہے کہ اسرائیل کی طرح فلسطینیوں کا بھی الگ وطن ہونا چاہئے۔ امریکی باشندوں کی حمایت مذہب کی بنیاد پر نہیں ، لیکن پاکستانی فلسطینیوں کی حمایت مسلمان ہونے کی بنا پر کرتے ہیں ،لیکن عام پاکستانی یہ نہیں جانتے کہ تمام فلسطینی مسلمان نہیں ہیں ان کا ایک حصہ عیسائی بھی ہے۔ ویسے بھی کسی فلسطینی سے پوچھ کر دیکھ لیں، وہ اسے مسلمانوں اور یہودیوں کا تنازعہ نہیں سمجھتے، بلکہ فلسطینی قوم کی آزادی کی جدوجہد خیال کرتے ہیں، جن میں فلسطینی مسلمان اور فلسطینی عیسائی بھی شامل ہیں۔ یہاں بھی پاکستانیوں کی اسلام سے محبت کو اس طرح استعمال کیا گیا کہ اس کے ذریعے ان یہودیوں سے نفرت پیدا کر دی گئی جن سے نہ آپ کی کوئی سرحد لگتی ہے اور نہ براہ راست کوئی مسئلہ ہے۔

بھارت کے ساتھ دشمنی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، جس کے ساتھ تقسیم کے وقت سے ہی مسائل شروع ہو گئے تھے، جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ، تاہم ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ،وہاں بیس کروڑ سے زائد مسلمان بھی بستے ہیں۔ اگر ہم نے اسلام ہی کی بات کرنی ہے تو پھر ان کو کیوں بھلا دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سیکولرازم یا لبرل ازم اتنے قابل نفرت بنا دیئے گئے ہیں کہ پاکستان کے وزیر اعظم دیوالی کی ایک تقریب میں ’’لبرل پاکستان‘‘ کی بات کر کے مشکل میں پھنس گئے ہیں، لیکن یہ برائی ہندوستان پہنچ کر اچھائی بن جاتی ہے۔ یعنی ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور لبرل ہو، لیکن ہم اپنے ملک کو سیکولر یا لبرل دیکھنا نہیں چاہتے۔اصل بات کچھ اور ہے۔ عام پاکستانیوں سے کیا گیم کھیلی جا رہی ہے اس سے وہ بے خبر ہیں۔ پاکستانیوں کی اسلام سے گہری محبت اتنی مثبت چیز تھی کہ اس سے تعمیری فائدہ اٹھایا جاتا تو حیرت انگیز انقلاب برپا ہو سکتا تھا، لیکن کاریگر لوگوں نے خصوصی طور پر گزشتہ پندرہ برسوں میں اسے امریکہ، ہندوؤں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ مقصد یہی تھا کہ دہشت گردوں کو ممکنہ حد تک اس نفرت کا نشانہ بننے سے بچایا جا سکے ،جس میں انہیں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔سبھی ملکوں، قوموں اور گروہوں میں اختلافات اور تنازعات ہو سکتے ہیں کیونکہ سب لوگوں کا موقف درست نہیں ہو سکتا، لیکن جب دہشت گردی شروع ہوئی تو اسے ختم کرنے کی صرف ایک صورت تھی کہ دہشت گرد ایک طرف ہو جاتے اور زیادہ سے زیادہ چند ایک ہمدرد ان کی طرف چلے جاتے اور باقی دنیا اپنے اختلاف بھلا کر ان کے خلاف متحد ہو جاتی حتی کہ ان کا خاتمہ ہو جاتا، لیکن پاکستانیوں اور مسلمانوں کی محبتوں اور نفرتوں کی نفسیات سے آگاہ کاریگر لوگ ایسا نہیں ہونے دیں گے، اس لئے کہ نہ تو پاکستانیوں کی سوچ بدلے گی اور نہ ہی کبھی دہشت گردی ختم ہو گی۔

مزید : کالم