حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی :ایک مرد با کمال

حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی :ایک مرد با کمال
 حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی :ایک مرد با کمال

  

یہ مسلمہ امر ہے کہ جو لوگ کسی اعلیٰ مشن کے لئے زندگی کی توانائیاں پورے خلوص اور دیانت کے ساتھ وقف کر دیتے ہیں، ان کے نام دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی ایسی ہی ایک شخصیت تھے سوہدرہ کے ایک ککے زئی گھرانے میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم ایک مقامی علمی شخصیت مولانا غلام نبی الربانی سے حاصل کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انگریز سرکار نے بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے اخبار ’’زمیندار‘‘ پر پابندی لگا کر انہیں ان کے آبائی گاؤں کرم آباد میں نظر بند کر رکھا تھا۔ کرم آباد سوہدرہ کے نزدیک ہی واقع تھا چنانچہ عنایت اللہ اپنے طالبعلم ساتھیوں کے ساتھ سکول جانے کے لئے گھر سے نکلتے تو راستے میں مولانا سے ملاقات ہو جاتی۔ چند ہی ملاقاتوں سے مولانا سے محبت و عقیدت کا رشتہ استوار ہو گیا۔

بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا تو پنجاب کی سرزمین مذہبی فرقہ وارانہ مناظروں کا اکھاڑہ بنی ہوئی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے پہل مسیح موعود اور مہدی موعود کے دعوے کئے، پھر ظلی اور بروزی نبی کی بحث چھیڑی اور بالآخر نبوت کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی علمائے اسلام سے مناظرے شروع کر دیئے۔ مرزا صاحب وفات پا گئے تو ان کے جانشینوں نے بحث کا بازار گرم رکھا۔ قادیانی مبلغین کا مقابلہ کرنے والوں میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کا نام بہت نمایاں تھا۔ عنایت اللہ نے ایسے ہی ایک مناظرے میں ایک قادیانی مبلغ کو مولنا امرتسری سے شکست کھاتے دیکھا تو ان کے دل پر مولانا کی شخصیت کا بھی ایک نقش قائم ہو گیا۔

عنایت اللہ نسیم نے 1928ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر پانچ سال تک حالات کی نامساعدت کے باعث سلسلہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے تآں کہ مولانا ظفر علی خان کی تحریک پر طبیہ کالج علی گڑھ جانے کا ارادہ باندھا۔ وہاں پہنچے تو بقول ان کے: ’’علی گڑھ آنے سے قبل میں سیاسی امور میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ مسلمانوں کے تہذیبی، ملی اور سیاسی مسائل پر غور و فکر میرا سرمایہ تھا۔ علی گڑھ کی صورت میں مجھے وہ فضا مل گئی جس کی مجھے ضرورت تھی ا ور وہ رفقاء مل گئے جن کے سینے دردِ ملت سے معمور تھے اور جن کے دل میں ملت اسلامیہ کے ترفع اور سر بلندی کا ان مٹ جذبہ موجود تھا‘‘۔

یہ بیسویں صدی کا تیسرا عشرہ تھا۔ مسلم قومیت کی تحریک کافی زور پکڑ چکی تھی مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش تھی کیونکہ ہندو اکثریت ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے کسی قسم کے آئینی حقوق دینے کو تیار نہ تھی۔ مسلمان نوجوان اپنے طبقے کو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم پر منظم و مرتب کر رہے تھے اس کے علاوہ علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے سربراہ ڈاکٹر ظفر الحسن نے ’’مجلس اسلامیات‘‘ قائم کر رکھی تھی جس میں بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ اس مجلس نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے لیکچر کا اہتمام کیا تھا عنایت اللہ نے مولانا ظفر علی خان کو علی گڑھ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کی تفصیل بتائی تو مولانا 24 نومبر 1934ء کو علی گڑھ تشریف لائے اور یونیورسٹی ہال میں دو گھنٹے تک خطاب کیا۔ اس زمانے میں عنایت اللہ لاہور آئے اور حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور علی گڑھ کی ہنگامہ آرائیوں سے علامہ اقبالؒ کو آگاہ کیا۔

ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں: ’’عنایت اللہ نسیم کی زندگی میں 1937ء کا سال ایک اور لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے اس سال کے دوران جب آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس لکھنؤ میں ہوا تو وہ اس میں علی گڑھ کے وفد کے ایک رکن کی حیثیت میں شریک ہوئے۔ یہ یاد رہے کہ علی گڑھ میں جب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے تاسیسی ارکان میں سے تھے‘‘۔عنایت اللہ نسیم کو قائد اعظم کی خدمت میں حاضری کا شرف فروری 1938ء میں اس وقت حاصل ہوا جب وہ یونیورسٹی میں خطاب کے لئے علی گڑھ کے طلبا کی دعوت پر تشریف لائے۔ عنایت اللہ لکھتے ہیں: ’’مسلمان کی زندگی میں رسول اکرمؐ کی ذات گرامی سب سے اہم ہے کہ اس کے اسوہ عالی سے زندگی کی سب راہیں روشن ہو جاتی ہیں لیکن بیسویں صدی کے سیاسی لیڈروں میں قائد اعظم کی ذات نادر اور حیرت انگیز تھی اور ان کے تین اصول۔ دیانت، امانت اور استقلال زندگی کی مصیبتوں کو دور کر کے کامیابی ا ور کامرانی کا سورج روشن کر دیتے تھے۔‘‘

عنایت اللہ نسیم مسلم لیگ کے لکھنؤ سیشن 1937ء میں بھی شامل ہوئے اس کے بعد یوپی کے ضلع بجنور کی ضمنی انتخاب کی مہم میں بھی پیش پیش رہے، اس وقت ان کی خطیبانہ صلاحیتیں بھی چمک اٹھی تھیں۔ پروفیسر اسرار احمد سہاوری کے بقول: ’’اس وقت نسیم صاحب کی طبیعت میں بڑی تیزی و طراری تھی تقریر بھی اور گفتگو بھی بڑے زور دار طریقے سے کرتے تھے‘‘۔تفصیل کا محل نہیں ورنہ عنایت اللہ نسیم کے قیامِ پاکستان کی تحریک میں بھرپور کردار کا تذکرہ بھی کیا جاتا وہ دور ان کی زندگی کا نہایت ولولہ انگیز دور تھا۔ علامہ اقبالؒ قائد اعظم اور مولانا ظفر علی خان ایسے زعما نے ان کے رگ و پے میں وہ بجلیاں پیدا کر دی تھیں جنہوں نے تا دم آخر انہیں رزم گاہِ حیات میں مصروف جہاد رکھا۔قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری بہت بڑا مسئلہ تھا عنایت اللہ نسیم نے پوری تندہی سے اس کام میں شرکت کی جو لوگ متروکہ املاک پر ناجائز قبضہ کر رہے تھے، نسیم صاحب نے ان کے خلاف بھی پوری قوت سے آواز بلند کی۔

ان کا پیشہ طب تھا ان کی تگ و تاز کا یہ ایک الگ میدان تھا۔ انہوں نے طب کی ترقی کے لئے حکماء کو منظم کیا، کانفرنسیں منعقد کروائیں اور حکمرانوں کو اس پیشے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مسلسل توجہ دلائی اس معاملے میں حکیم محمد سعید مرحوم و مغفور کا بھی انہیں تعاون حاصل رہا۔حکیم صاحب کا ایک زندہ کارنامہ تصنیف و تالیف کا ہے انہوں نے مولانا ظفر علی خان پر ایک ضخیم کتاب لکھی جس کو علمی اور صحافتی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے قائد اعظم کی سوانح بھی لکھی جو ان کی وفات کے برسوں بعد ان کے فرزند ارجمند حکیم راحت نسیم نے چھپوا کر بہت نیک نامی حاصل کی ہے۔حکیم عنایت اللہ نسیم کو میں نے ان کو پیرانہ سالی میں دیکھا وہ مجیب الرحمن شامی صاحب سے ملنے ان کے دفتر تشریف لاتے تو مجھے بھی انہیں سلام کرنے کا موقع مل جاتا۔ انہیں دیکھتے ہی میرے دل میں عقیدت اور محبت کے جذبات موجزن ہو جاتے، میں اس شخصیت کو دیکھ رہا ہوتا جس نے مولانا ظفر علی خان سے جذبہ اسلامی، اقبال سے ملی غیرت اور قائد اعظم سے استقلال اور یقین کا سبق پڑھا تھا!

مزید : کالم