نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار اُن سے؟

نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار اُن سے؟

گزشتہ ہفتے(3دسمبر2015ء) امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر نے یہ اعلان کر کے نہ صرف مشرقی بلکہ بیشتر مغربی دفاعی تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا کہ امریکہ کی مسلح افواج (آرمی، نیوی، ایئر فورس،میرین) کے تمام داخلی دروازے خواتین پر بھی کھول دیئے گئے ہیں۔ اب امریکی خواتین،مسلح افواج کے جس شعبے کو چاہیں، جوائن کر سکیں گی اور افواج میں بھرتی کے لئے عورت اور مرد میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی۔ ہر وہ شعبہ جو پہلے صرف مردوں کے لئے مختص ہوتا تھا، خواتین کے لئے بھی کھلا ہو گا۔۔۔۔ فرق یہ ہو گا کہ جو کوالی فیکشنز کسی مرد کے لئے(کسی خاص شعبۂ جنگ(Arm & Service) میں شمولیت کے لئے) لازمی گردانی جاتی ہیں، وہی عورت کے لئے بھی لازم گردانی جائیں گی۔

وزیر دفاع نے اس اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’اب مرد و زن میں کوئی امتیاز نہیں ہو گا۔۔۔ اب خواتین ٹینک ڈرائیو کر سکیں گی، مارٹر فائر کر سکیں گی اور انفنٹری دستوں کی قیادت کرتے ہوئے عین معرکۂ کار زار میں شریک ہو سکیں گی۔۔۔۔ خواتین اب آرمی رینجرز کے بطور بھی میدانِ جنگ میں جا سکیں گی۔ بطور گرین بیرٹ، بطور نیوی SEALs،بطور میرین کور انفنٹری، بطور ایئر فورس پیرا جمپرز اور ہر اُس شعبہ میں جو قبل ازیں صرف مردوں کے لئے مخصوص تھا،یکساں اعتبار سے شریک ہو سکیں گی۔‘

بعض قارئین کو شائد معلوم نہ ہو کہ امریکی رینجرز اور پاکستانی رینجرز میں پروفیشنل اعتبار سے کیا فرق ہے۔۔۔۔ہمارے رینجرز،ریگولر آرمی سولجرز سے پیشہ ورانہ مہارتوں میں مقابلتاً کم تر تصور کئے جاتے ہیں۔ رینجرز کی ٹریننگ ، ان کے ہتھیار، ان کا سازو سامان (Equipment) اور ان کی ڈیپلائے منٹ ریگولر فوجی دستوں کے مقابلے میں مختلف (اور کمتر) نوعیت کی سمجھی جاتی ہیں۔ بات یہ نہیں کہ رینجرز کی پروفیشنل صلاحیتیں ان کے رینجرز ہونے کی وجہ سے کم تر ہوتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ رینجرز کی بھرتی سے لے کر ان کے استعمال (Employment) تک کی تمام ذمہ داری وزارتِ داخلہ کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے۔ ان کا استعمال صوبائی حکومت کی صوابدید پر کیا جاتا ہے جبکہ ریگولر آرمی براہِ راست مرکز کے تحت ہوتی ہے اور مرکزی وزیر دفاع کے احکامات کے تحت کام کرتی ہے۔ صوبائی حکومتوں میں کوئی وزیر دفاع نہیں ہوتا، اس لئے صوبائی وزیر داخلہ اور صوبے کا وزیراعلیٰ، رینجرز کے باس(Boss) متصور ہوتے ہیں۔ البتہ رینجرز کی آفیسرز قیادت، ریگولر آرمی سے آتی ہے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے جرنیل تک تمام تقرریاں، جی ایچ کیو سے ایم ایس (ملٹری سیکرٹری) برانچ کرتی ہے۔ اس ملازمت کا دورانیہ(Term) بھی دو تین برس کا ہوتا ہے جس کے بعد ریگولر کمیشنڈ آفیسرز کو واپس فوج میں بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں رینجرز، ریگولر آرمی کی سیکنڈ لائن فورس ہے۔۔۔ لیکن یہاں ذرا رکئے۔۔۔ زمانۂ امن میں رینجرز کی تعیناتی سرحد پر اگلی پوسٹوں پر کی جاتی ہے۔ اس رول میں رینجرز،دشمن کی نقل و حرکت کی نگہہ داری کرتے ہیں اور اگر دشمن کا ناگہانی حملہ ہو جائے تو اس کا پہلا وار رینجرز ہی برداشت کرتے ہیں۔ مَیں نے سطورِ بالا میں رینجرز کو سیکنڈ لائن فورس لکھا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ فورس، ریگولر آرمی کے ماتحت یا کوئی ثانوی درجے کی فورس ہوتی ہے۔۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔ رینجرز کا رول ان کی ٹریننگ، ٹرانسپورٹ، اسلحہ وغیرہ کے مطابق ہوتا ہے۔

لیکن امریکہ میں یہ ترتیب الٹ ہے۔۔۔ وہاں رینجرز ایک ایسی انفنٹری فورس ہے جو ریگولر انفنٹری سے زیادہ موثر اور کارگر ہوتی ہے، زیادہ بہتر طریقے سے مسلح ہوتی ہے،زیادہ سخت ٹریننگ کرتی ہے، زیادہ جان جوکھم کے مشن انجام دیتی ہے اور زیادہ کڑی حربی آزمائشوں سے گزرتی ہے۔پاکستان میں یہ سارے کام ایس ایس جی (سپیشل سروس گروپ) انجام دیتی ہے۔(ویسے ہر انفنٹری بٹالین میں ایک کمانڈو پلاٹون بھی ہوتی ہے جو بٹالین کی باقی پلاٹونوں سے زیادہ کارگر، ماہر، مشاق اور چاق و چوبند سمجھی جاتی ہے) امریکہ میں رینجرز کو ایک ایلیٹ(Elite) انفنٹری فورس سمجھا جاتا ہے اور اسی تناظر میں ان کی ٹریننگ سخت دشوار ماحول میں ہوتی ہے۔ (کالم کی تنگ دامانی کی وجہ سے امریکی رینجرز کی کڑی، مشکل اور صبر آزما ٹریننگ کی تفصیل یہاں نہیں دی جا سکتی) امریکی رینجرز کی سلیکشن اور ان کی دشوار ٹریننگ، امریکی مسلح افواج میں کارکردگی کے لحاظ سے ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۔۔۔ ذرا تصور کیجئے اگر ان تمام مراحل سے کسی خاتون کو گزرنا پڑے تو اس کے لئے رینجرز کو جوائن کرنا کتنا کڑا (اور مشکل) چیلنج ہو گا! لیکن اس کا کیا علاج کِیا جائے کہ خود امریکی خواتین ایک عرصے سے احتجاج کر رہی تھیں کہ ان کو مردوں کے مساوی سمجھا جائے اور کسی جنسی (Gender) امتیاز کو بیچ میں لائے بغیر ان کو الیٹ انفنٹری فورس اور دوسری سپیشل فورسز کو جوائن کرنے کے یکساں مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔۔۔ امریکہ کے عسکری اربابِ اختیار اس سلسلے میں متذبذب رہے ہیں۔ لیکن وزیر دفاع آش کارٹن کے اس بیان نے نہ صرف ان کا ’’تذبذب‘‘ دور کر دیا ہے، بلکہ رینجرز کو جوائن کرنے کی مشّاق خواتین کی ’’آشاؤں‘‘ کی بھی تکمیل بھی کر دی ہے۔۔۔۔ دیکھتے ہیں اب اگر ان خواتین رینجرز کو عراق اور افغانستان میں مردوں کے شانہ بشانہ بھیجا گیا تو ان کی ’’جوانمردی‘‘ اور ’’مردا نگنی‘‘ کا ’’حشر‘‘ کیا ہو گا؟

نیوی سیل(SEALs)،سبز ٹوپی(Green Beret)، پیرا جمپرز(Parajumpers) اور میرین انفنٹری (Marine Infantry) سب کی سب خصوصی افواج (سپیشل فورسز) شمار ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے ان کی ٹریننگ کا شیڈول اور سلیبس بھی سخت مشقت طلب اور ہمت آزما ہو گا۔چنانچہ میرین کور کے بعض چوٹی کے افسروں نے وزارتِ دفاع کو مطلع کر دیا تھا کہ خواتین کے لئے سپیشل فورسز کے سارے دروازے نہ کھولے جائیں کہ ایسا کرنے سے سپیشل فورسز کی پرفارمنس پر زد پڑے گی اور ان کی پروفیشنل کارکردگی کا گراف نیچے چلا جائے گا۔۔۔۔ جنرل جوزف ڈن فورڈ (Joseph Dunford) جو آج کل امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ہیں، وہ میرین کور کے ایک سابق کمانڈانٹ بھی ہیں۔ انہوں نے بھی پُرزور سفارش کی تھی کہ سپیشل فورسز کے دروازے خواتین پر وا نہ کئے جائیں۔ لیکن ’’جمہوریت‘‘ کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ ایک خاتون کا ووٹ، چونکہ ایک مرد کے ووٹ کے مساوی ہوتا ہے اس لئے سیاست دانوں کو ’’ووٹ کا لحاظ‘‘ کرنا پڑتا ہے۔

اگر امریکی خواتین کی اکثریت اصرار کرے کہ ہم نے اس آگ کے دریا میں ضرور ہی کودنا ہے تو ہر چند ان کا یہ ارادہ ناخوشگوار نتائج کا حامل ہو گا لیکن وہ لوگ جو وردی زیب تن نہیں کرتے اور وردی والوں کے ’’باس‘‘ بن جاتے ہیں، ان کی بات تو ماننی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 3دسمبر 2015ء کو وزیر دفاع آش کارٹر نے اس تہلکہ خیز خبر کو بریک کیا تو ان کے ہمراہ جنرل ڈن فورڈ موجود نہیں تھے۔ایسا انہوں نے ارادتاً کیا ہو گا کیونکہ وہ مسلسل اس بات پر زور دے رہے تھے کہ مسلح افواج میں خواتین کو اتنی ہی نمائندگی دی جائے جتنی وہ برداشت کر سکیں۔ یہ موضوع مردوں اور خواتین کے درمیان سالہا سال تک زیر بحث رہا (اور آج بھی ہے) صدر اوباما نے تین سال پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ یکم جنوری 2016ء سے پہلے پہلے اس بات کا فیصلہ کر دیں گے کہ آرمڈ فورسز میں خواتین کو کس حد تک نمائندگی دی جائے۔۔۔۔ آج ڈیمو کریٹک صدر نے وہ وعدہ پورا کر دیا ہے اور خواتین کو خوش کر دیا ہے۔ جنرل ڈن فورڈ سے بعد میں سوال کیا گیا کہ ان کا تبصرہ، وزیر دفاع کے اس تاریخ ساز بیان پر کیا ہے تو ان کا جواب بڑا سپاہیانہ تھا۔ کہنے لگے:’’مَیں نے توامریکی مسلح افواج میں خواتین کی مساوی نمائندگی اور ان کو باہم مدغم کرنے (Integration) کے موضوع پر وزیر دفاع کو اپنی رائے سے مطلع کر دیا تھا۔ اب ان کے فیصلے کے بعد میری ذمہ داری یہ ہے کہ فیصلے کو من و عن عملی جامہ پہناؤں‘‘۔۔۔ جنرل ڈن فورڈ کے ان فقرات کے ’’حسن‘‘ پر غور کیجئے۔ انہوں نے ’’جمہوریت کا حسن‘‘ بھی مجروح نہیں ہونے دیا اور اپنی مسلح افواج کے ’’حسنِ جہاں سوز‘‘ کا دو ٹوک موقف بھی بیان کر دیا ہے۔۔۔۔ کل کلاں اگر امریکہ کو اپنے فوجی آپریشنوں میں کسی جزوی ناکامی کا مُنہ دیکھنا پڑا تو افواج یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گی کہ ہم نے تو اپنا نقطۂ نظر واضح کر دیا تھا۔ اب اگر حکومت نے اپنی جمہوری مصلحتوں کو پیش نظر رکھ کر افواج کے موقف سے روگردانی کی ہے تو اس کا نتیجہ بھی خود ہی بھگتیں۔

وزیر دفاع کے اس اعلان کے فوراً بعد امریکی خواتین نے جشن منانے کا آغاز کر دیا۔۔۔۔ اب امریکی مسلح افواج میں دو لاکھ بیس ہزار(2,20,000) آسامیاں وہ ہیں جو خواتین کو بھرتی کر کے پُر کی جائیں گی۔ راقم السطور نے گزشتہ ایک کالم میں راجر کوہن کے اس استدلال کا ذکر کیا تھا کہ تیسری عالمی جنگ نہیں ہو گی۔اس کی ایک بڑی وجہ کالم نگار نے یہ بیان کی تھی کہ امریکہ آج اپنے دورِ زوال سے گزر رہا ہے۔۔۔ وزیر دفاع کارٹر سے ایک صحافی نے سوال کیا:’’ کیا خاتون اور مرد کی جسمانی استعداد اور اہلیت یکساں ہوتی ہے؟‘‘۔۔۔ اس پر کارٹر کا جواب دلچسپ بھی تھا اور سبق آموز بھی۔۔۔ انہوں نے کہا: ’’آج تک اس موضوع پر جو بھی مطالعات (Studies) کئے گئے ہیں، ان سب کی رو سے دونوں اصناف (مرد و زن) کی اہلیتوں میں فرق ہے۔۔۔ بعض خواتین، فوج کی سخت ٹریننگ کو برداشت نہیں کر سکتیں۔۔۔۔ لیکن بعض مرد بھی تو ایسا نہیں کر سکتے۔ ۔۔۔ چنانچہ ملٹری قیادت کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ یہ دیکھے کہ مسلح افواج میں جو ترقیاں دینی ہیں وہ جنس (Gender)کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت و صلاحیت کی بنیاد پر دینی ہوں گی۔‘‘

ان امریکیوں سے کوئی پوچھے کہ صنفِ نازک کی صلاحیتیں اور اہلیتیں کیا آج تک کسی بنی نوع انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ رہی ہیں؟۔۔۔ مشرق ہو کہ مغرب، صنفِ نازک، صنفِ نازک ہے۔وہ اگر قتل و غارت گری کرتی بھی ہے تو شعرو شاعری کی حد تک۔۔۔ فارسی اور اُردو شاعری میں نسوانی اداؤں، عشووں،غمزوں، اشاروں اور کنایوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جس پر کئی کالم تحریر کئے جا سکتے ہیں۔مشرق میں عورت کی نگاہ کو تیر، تلوار، نیزے، بھالے اور میزائل سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ ابرو کو کمان سے اور مژگان کو برچھے اور خنجر سے زیادہ کاری سمجھا جاتا ہے۔۔۔ حضرت غالب نے تو اس سلسلے میں کمال ہی کر دیا تھا۔۔۔ عورت کے تیرِ نگاہ کی کاٹ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

دل سے تری نگاہ جگر تک اُتر گئی

دونوں کو اک ادا میں رضا مند کر گئی

پھر یہ تیرِ نگاہ عمر بھر غالب کے جگر کے عین درمیان میں کہیں اٹکا رہا۔۔۔۔ فرماتے ہیں:

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو

یہخلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

اور عورت کے مژگان کے برچھے کو دیکھ کر یہی شاعر فرماتا ہے:

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب

خونِ جگر، ودیعتِ مژگانِ یار تھا

اور میدانِ کار زار میں ’’وومن سولجر‘‘ کی کارکردگی کا اگر مکمل ماڈل دیکھنا ہو تو غالب کا یہ شعر دیکھئے:

نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو

یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

قارئین !مَیں نے صرف ایک مشرقی شاعر کے دو چار اشعار کا حوالہ دیا ہے جبکہ مشرق کے شعرا کے پورے پورے ڈویژن بلکہ کوریں اس جنگ میں خواتین کو اتارتی ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ لیکن مغربی خواتین کا معاملہ کچھ اور ہے۔ وہ سچ مچ کے تیر و تفنگ سے لیس ہو کر عشاقِ خانہ خراب کے دل و جگر چھلنی کرنا چاہتی ہیں۔ سچ مچ کی توپیں داغنا چاہتی ہیں اور سچ مچ کے ٹینک کی ڈرائیوری کی آرزو مند ہیں۔۔۔۔ مشرق کے شعرأ لاکھ دعوے کریں کہ خواتین سے خنجر اور تلوار نہیں اُٹھ سکتی اور یہ بازو ان کے آزمائے ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی واشنگٹن اور نیو یارک کی یہ خواتین ہیں جو خونِ دو عالم اپنی گردن پر لینا چاہتی ہیں۔

مزید : کالم