گلوبل وارمنگ

گلوبل وارمنگ
 گلوبل وارمنگ

  


اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پیرس میں ہونے والی ماحولیات کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس30نومبر سے 11دسمبر2015ء تک جاری رہے گی اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں150 ممالک کے سربراہان کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی بھرپور شرکت کی اور اس کے اغراض و مقاصد سے ساری دُنیا کو آگاہ کیا۔ فرانسیسی حکومت کی دلیری ہے کہ اس نے چند روز قبل دہشت گردی کا سامنا کرنے کے باوجود کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے۔اس سے قبل1990ء میں اس عالمی مسئلے کو جاپان میں کیوٹو پروٹوکول میں زیر بحث لایا گیا اور پھر2009ء میں کوپن ہیگن میں اس موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہو چکی ہے۔گلوبل وارمنگ کیا ہے اس کی وجوہ اور تدارک اس کالم کا موضوع ہے۔

اس کرۂ ارض پر بیسویں صدی میں درجہ حرارت میں0.6سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔ ماحول میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سیارے پر رہنے والی مخلوق کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔گزشتہ بیس برسوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے ایک لاکھ اڑتیس ہزار لوگ زندگی کی بازی ہار گئے۔ایشیا اور افریقہ میں مرنے والوں کی تعداد زیادہ تشویشناک ہے۔ موسموں کی تبدیلی سے گلیشیر پگھلتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں دو ارب سے زائد لوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں ’’گلوبل وارمنگ‘‘ میں آکسیجن کی کمی، کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافہ پانی میں تیزابیت، سمندر کی سطح کا بلند ہونا، سمندر کا درجہ حرارت پڑھنا، قطبین پر برف کا پگھلنا قابلِ ذکر عوامل ہیں۔اس کے اثرات خشکی پر زیادہ ہیں۔اس کے بعد فضائی آلودگی دوسرے نمبر پر ہے۔ موسموں کی شدت، قحط سالی، بادِ سموم، طوفانی بارشیں، سیلاب اور برف باری انسانی زندگی کے لئے قدرتی آفات ہیں۔

قدرت نے ماحول اور آب و ہوا میں ایک توازن قائم کیا ہوا ہے، جب یہ توازن بگڑتا ہے تو کرۂ ارض پر تباہی آتی ہے۔ اس زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھنے میں معاونت کریں۔ اس وقت سب سے زیادہ آلودگی کا باعث بننے والی زہریلی گیسیں ہیں۔ جب ہم تیل، کوئلہ یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ یہ گیس جب پودوں اور سمندروں میں جذب ہونے سے بچ جاتی ہے تو فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے۔اس کرۂ ارض میں قدرتی وسائل کروڑوں برسوں سے مخفی حالت میں پڑے ہوئے تھے، پچھلی چند صدیوں میں انہیں نکالنے کے بعد کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے دریغ استعمال آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں منافع کمانے کی خاطر انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ابھی پیرس میں ہونے والی کانفرنس میں پولینڈ نے تعاون سے اس لئے گریز کیا ہے کہ اس کے مُلک کی صنعت کا دارو مدار کوئلے کے استعمال پر ہے۔

آکسیجن تمام جانداروں کے لئے ناگزیر ہے۔ جنگلات کا صفایا اس کمی کا باعث بن رہا ہے۔آکسیجن کے تین ایٹموں کے ملنے سے اوزون گیس بنتی ہے۔ یہ گیس ہماری بیرونی فضا میں زمین سے12کلو میٹر سے48کلو میٹر تک اکٹھی ہو رہی ہے۔ اوزون کا یہ ہالہ ہمارے سیارے کو سورج سے آنے والی مضر شعاؤں سے بچاتا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے اس ہالے میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ سورج سے آنے والی یہ خطرناک شعائیں کرۂ ارض کے مکینوں کے لئے خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔ ان شعاؤں سے جِلدی امراض اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔بجلی کی پیداوار کے لئے تیل اور قدرتی گیس کو جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں میں فاضل مواد آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ سمندری جہاز سمندروں کو آلودہ کررہے ہیں اور ہوائی جہاز فضا میں آلودگی پھیلا رہے ہیں۔ ذرائع رسل و رسائل کے لئے خشکی پر چلنے والی گاڑیاں دھواں اور شور چھوڑ رہی ہیں۔

جنگیں گلوبل وار منگ روز افزوں اضافے کا باعث ہیں۔ دوسری عالمی جنگ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی پر ختم ہوئی۔ امریکہ نے نہ صرف عالمی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا، بلکہ ایٹمی اسلحہ کے استعمال سے ایٹمی تابکاری سے آلودگی کو اس حد تک بڑھایا کہ برسوں بعد بھی ان شہروں میں اپاہج بچے پیدا ہوتے رہے۔ اس وقت ایٹمی اسلحہ اس قدر اکٹھا ہو چکا ہے کہ اس سے اس چھوٹے سے کرے کو کئی بار تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ایٹمی پلانٹ غیر محفوظ ہیں۔ روس میں چرنوبل اور جاپان میں فوکو شیما پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکاری شعاؤں نے جو تباہی مچائی تھی اس کے اثرات آج بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں ان خطرات کا ادراک کریں اور اس کرۂ ارض کو محفوظ مسکن بنانے کے لئے اجتماعی تگ و دو کریں۔ شام عراق اور افغانستان راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اسلحہ کی صنعت اس قدر فروغ پا رہی ہے کہ اسلحہ ساز صنعت کاروں نے اگلے بیس برس تک اسلحہ کے آرڈر بک کئے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ماحولیات کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟

پنجابی کا محاورہ ہے۔۔۔ ’’آپ نہ جاندی سوہرے تے لوکاں متیں دے‘‘۔۔۔ (خود سسرال جاتی نہیں اور لوگوں کو مشورے دے رہی ہے)۔۔۔ عالمی سطح پر اکٹھے ہونے والے ممالک کا یہ حال ہے کہ ان میں بڑی طاقتیں آلودگی پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ وہ دوسرے ممالک کو قائل کرنے سے پہلے اپنا قبلہ درست کریں۔چین کی صنعتی ترقی قابلِ تحسین ہے۔ تھوڑے عرصے میں وہ ایک مضبوط اکانومی کے طور پر منصہ شہود پر آیا ہے،لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ مُلک آلودگی پھیلانے والے ملکوں میں سرفہرست ہے۔ 2013ء میں چین نے دُنیا کا 28فیصد کاربن جلایا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو فضائی آلودگی پھیلی اس سے 14 لاکھ چینی لقمۂ اجل بنے۔ اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کی فکر بھی کرنی چاہئے۔

آلودگی پھیلانے میں دوسرے نمبر پر امریکہ بہادر ہے۔ امریکیوں نے فضائی آلودگی میں 14فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کا حصہ ڈالا ہے، جو انسانی اور دوسرے جانداروں کی زندگیوں کے لئے خطرناک ہے۔ 25فیصد امریکی گلوبل وارمنگ پر یقین ہی نہیں رکھتے، جبکہ 42فیصد امریکی فکر مند ہیں۔ امریکہ جب پریس کانفرنس میں وعدہ کررہا تھا کہ وہ 2025ء تک 26سے 28فیصد کاربن میں کمی کرے گا۔ عین اس وقت کانگرس نے اس بل کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ امریکہ جب اپنے مُلک میں گیسوں کے اخراج کو قابو میں رکھنے کے لئے قانون سازی کرنے سے قاصر ہے تو وہ دوسروں کو کیا سبق دے گا۔یورپی ممالک کا بھی اس مسئلے کو حل کرنے پر اتفاق نہیں ہے، پولینڈ کی مثال دے چکا ہوں۔ یورپ اس وقت 10فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں داخل کررہا ہے۔ وہاں کے مکینوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے، البتہ جرمنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2020ء تک 40فیصد کاربن کے استعمال میں تخفیف کرے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گلوبل وارمنگ کے بارے آگاہی دی جائے۔ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر شعوری کوشش سے اس مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ماحولیات کی وزارت بنائی ہے اور صوبائی سطح پر بھی ادارے موجود ہیں،جنہیں موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم اس کرۂ ارض کو جنت نہیں بنا سکتے تو جہنم بننے سے تو روکیں۔

مزید : کالم


loading...