جعل سازی کے ذریعے ٹیکس ریفنڈ

جعل سازی کے ذریعے ٹیکس ریفنڈ

سابقہ چیئرمین نادرا نے ایک انٹرویومیں کئی ماہ پہلے یہ انکشاف کیا تھا کہ 36ہزار ایسے صنعت کاروں اور تاجروں کی نشاندہی کی گئی تھی جنہوں نے 600ارب کے ٹیکس ریفنڈ جعل سازی سے حاصل کرلئے، ان تاجروں نے اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس تو ادا نہ کئے الٹا جعل سازی سے ریفنڈ حاصل کرتے رہے اور یہ واردات پچیس سال تک ہوتی رہی، اگر یہ بات درست ہے اور اس میں مبالغہ نہیں ہے تو لگتا ہے یہ کام متعلقہ محکمے یا محکموں کے اہل کاروں کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں، ہزاروں لوگ جعل سازی کا یہ کام کررہے تھے اور 25سال تک کرتے رہے اور کسی کو خبر نہ ہوئی، اگرچہ سابقہ چیئرمین نادرا اب بیرون ملک جا چکے ہیں تاہم ان سے معلومات لے کر اس کی تحقیقات تو کرائی جاسکتی ہے۔ اس دوران متعلقہ محکموں کے لوگ ریٹائرہوتے رہے ہوں گے اور ان کی جگہ نئے لوگ آتے رہے ہوں گے۔ لیکن جعل سازی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کوئی بہت ہی بااثر گروہ تھا جو منظر سے ہٹنے سے پہلے اپنے ’’جانشینوں ‘‘ کو بھی جعل سازی کے یہ گر سمجھا جاتا تھا، یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس طرح کی جعل سازی اب تک جاری ہو، اس لئے بہتر ہے کہ تحقیقات کرالی جائے تاکہ حقائق منظر عام پر آسکیں۔

مزید : اداریہ