نئے ٹیکس اور وزیر خزانہ

نئے ٹیکس اور وزیر خزانہ

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں40ارب روپے کے نئے ٹیکسوں پر مبنی منی بجٹ کا بھرپور دفاع کیا اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکس سامانِ تعیش پر لگائے گئے اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کتوں کی خوراک، درآمدی دہی اور میک اَپ کی اشیاء کا ذکر کیا، محترم وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں ایسی جن اشیاء کا ذکر کیا، بلاشبہ ان کا تعلق عام آدمی کے استعمال سے نہیں اور نہ ہی کسی کو ایسی اشیاء پر ٹیکس سے انکار اور اعتراض ہے۔سگریٹ پر جب بھی ٹیکس بڑھا کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ وزیر خزانہ کی اِس دریا دلی سے بھی انکار نہیں کہ اس 40ارب روپے میں سے27ارب روپے صوبوں میں تقسیم کئے جائیں گے، لیکن بات عام آدمی اور بالا طبقے کی ہے کہ عام آدمی متاثر نہ ہو، ان کی اِس بات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ تو جانچا جا سکتا ہے کہ جن اشیاء کو ٹیکس کی زد میں لایا گیا ان میں سے کون کون سی سامانِ تعیش میں شمار ہوتی ہے، ان پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہے۔

عوام میں اس منی بجٹ کے خلاف جو جذبات ہیں وہ بعض ایسی اشیاء کے حوالے سے ہیں جو عام آدمی کے لئے ضروری ہیں، ان میں بچوں کے لئے بعض خوراک والی اشیاء اور بعض الیکٹرونک کی چیزیں ہیں جو آج کل ہر عام گھرانے میں استعمال ہوتی اور بچیوں کے جہیز کے لئے لازمی صورت اختیار کر گئی ہیں اس لئے بہتر عمل یہ تھا کہ دو امور کا خصوصی خیال رکھا جاتا : ایک یہ کہ جن اشیاء کو تعیش کے ذیل میں شمار کیا گیا ایسی ہوں۔ انہوں نے کتوں کی خوراک کی مثال دے دی ہے، لیکن ان اشیا کو نہیں دیکھا جو طبی حوالے سے منگوائی جا رہی ہیں۔ دوسرا عمل یہ ہے کہ جب بھی آپ بجٹ کے بعد ٹیکس لگاتے ہیں تو اس کے اثرات عام زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، کیا حکومت کے پاس ایسا فول پروف انتظام ہے کہ ان ٹیکسوں سے مقامی مارکیٹ متاثر نہ ہو، باقی رہا بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ تو وزیر خزانہ جانیں اور گاڑیوں والے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مقامی صنعت کی وجہ سے ہے۔وزیر خزانہ کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں کا معیار بھی درست اور ان کے نرخ بھی مناسب ہیں یہ بھی یقین ہونا چاہئے کہ مقامی مارکیٹ متاثر نہیں ہو گی، اس سلسلے میں ہمیشہ ہی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

مزید : اداریہ


loading...