کراچی آپریشن پر سیاسی اور عسکری قیادت کا پھر اتفاق

کراچی آپریشن پر سیاسی اور عسکری قیادت کا پھر اتفاق

سول اور عسکری قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں سندھ رینجرز بدستور خدمات انجام دیتی رہے گی اور آپریشنل اختیارات کے تحت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔ کراچی آپریشن کی وجہ سے اندرونِ سندھ فرارہونے والے دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں گی۔گورنر ہاؤس سندھ میں امن و امان کے متعلق جائزہ اجلاس میں یہ اتفاق ہوا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کراچی آپریشن کے نتائج سے عوام مطمئن ہیں، تمام اہداف کے حصول کو مدنظر رکھنا ہو گا۔قربانیوں اور حاصل اہداف کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، مجرموں کو دوبارہ سر اُٹھانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کراچی آپریشن کو شروع ہوئے 27ماہ ہو چکے ہیں، ایسا آپریشن سات سے آٹھ سال قبل شروع ہو جانا چاہئے تھا، شہر کے حالات اب تبدیل ہو گئے، پہلے سرمایہ کار منصوبوں پر بات کرنے کے لئے ہمیں باہر بُلاتے تھے اب خود سرمایہ کاری کرنے کے لئے کراچی آ رہے ہیں، کراچی آپریشن پر رینجرز اور سیکیورٹی ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں ، پراسیکیوشن نظام میں اصلاحات وقت کا تقاضا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کراچی آپریشن غیر سیاسی اور بلا امتیاز ہے، جو بِلا تفریق جاری رہے گا۔ کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں، اُن کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کے خلاف ہے۔

کراچی آپریشن کے بارے میں گورنر ہاؤس سندھ کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بڑے واضح اور صاف ہیں، ان میں بات کسی ابہام اور لگی لپٹی رکھے بغیر کی گئی ہے، عسکری اور فوجی قیادت نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورت حال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ آپریشن بلا امتیاز ہے اور کسی سیاسی جماعت کو نہ تو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور نہ سیاسی ورکروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ’’آپریشن دہشت گردوں، اُن کے ہمدردوں اور سہولت کاروں‘‘ کے خلاف ہے۔ اب اگر کسی سیاسی جماعت کو یہ شکایت ہے کہ اس کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو وہ اسے ثابت کرے، لیکن اگر جرائم پیشہ افراد کسی سیاسی جماعت میں گھس گئے ہیں یا سیاسی سرگرمی کے پردے میں جرائم پیشہ کارروائیوں میں ملوث ہیں تو ایسے افراد کو محض اس بنا پر تو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے رُکن ہیں، جو حضرات دہشت گردی کرتے اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اُن کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہونی چاہئے اور ایسے افراد کو سیاسی پشت پناہی حاصل نہیں ہونی چاہئے، بلکہ خود سیاسی جماعتوں کی قیادت کا فرض بنتا ہے وہ اپنی صفوں میں گھسے ہوئے جرائم پیشہ افراد کو قانون کے حوالے کر دیں، کوئی جماعت اگر انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ کا حوالہ دیتی ہے، تو کیا عوام نے اِن جماعتوں کو اِس لئے منتخب کیا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کریں۔ عوام کا یہ منشا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

جہاں تک رینجرز کے بعض اختیارات میں توسیع کا تعلق ہے تو جب بھی ایسا موقع آتا ہے ایک بے محل قسم کی بحث شروع ہو جاتی ہے، جس کا بظاہر کوئی جواز نہیں رینجرز25سال سے کراچی میں امن و امان کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہی ہے،اس کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں اور اُنہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے سندھ کی کابینہ کے جو ارکان بظاہر رینجرز کے خلاف بیان بازی کرتے اور اختیارات کی مدت میں توسیع کی بات ہوتی ہے تو اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اُنہیں معلوم ہے کہ اگر رینجرز کے دستے اُن کی حفاظت کے لئے اُن کے ساتھ نہ چلیں تو وہ گھر سے اپنے دفاتر تک بھی شاید بحفاظت نہ پہنچ سکیں اور ان میں سے بعض تو ایسے بھی ہوں گے، جنہیں اگر یہ کہا جائے کہ رینجرز کی حفاظت کے بغیر اپنے دفتروں میں آ جایا کریں تو شاید وہ ایسا حوصلہ نہ کر پائیں، کابینہ کے ان بہادر ارکان سے یہ امید ہے کہ اگر انہیں سندھ میں رینجرز کی موجودگی پر اعتراض ہے، تو وہ اس کا تحفظ لینے سے خود بھی صاف انکارکر دیں۔ عام لوگ بھی جب انہیں حفاظتی دستے کے بغیر چلتا پھرتا دیکھیں گے تو حوصلہ پکڑیں گے اور خوف کی فضا سے باہر آئیں گے جس طرح گزشتہ روز آرمی چیف نے اپنی گاڑی کے شیشے کھول کر شہر میں سفرکیا اس طرح کوئی وزیر بھی حوصلہ کرے تو لوگوں کے لئے قابلِ تقلید مثال بن جائے گی، لیکن اگر وزیر دل سے سمجھتے ہیں کہ ر ینجرز کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھنا ممکن نہیں تو بلاوجہ اپنے ’’ تحفظات‘‘ کا اظہار نہ کیا کریں اور رینجرز کی ضرورت اور خدمات کا اعتراف کریں۔

آرمی چیف نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے بعد بہت سے دہشت گرد فرار ہو کر اندرون سندھ چلے گئے ہیں ان کے خلاف بھی ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا، یہ بالکل درست فیصلہ ہے یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو جرائم پیشہ افراد فرار ہو کر پنجاب آ گئے ہیں اُن کا قلع قمع کرنے کے لئے کیا کِیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دِنوں لاہور میں بعض ’’کراچی سٹائل‘‘ وارداتیں ہوئی ہیں جن میں بعض سینئر صحافی بھی نشانہ بنے ہیں، عام خیال یہ ہے کہ ایسی وارداتیں وہ جرائم پیشہ لوگ کر رہے ہیں جو کراچی سے بھاگنے پر مجبور ہوئے، کیونکہ اب انہیں وہاں پناہ نہیں مل پا رہی۔ یہ دیکھنا پنجاب اور لاہور پولیس کا کام ہے کہ ایسے کون لوگ جو سرِ ر اہ گاڑیاں روک کر مالکان کو لوٹ رہے ہیں یا اشاروں پر کھڑی گاڑیاں اُن کا ہدف ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے کراچی کے حالات کی تبدیلی کا ذکر کیا ہے جو اگرچہ درست ہے تاہم دیکھا گیا ہے کہ اب بھی ٹارگٹ کلرز سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں، کراچی میں رینجرز کی موبائل کے بعد ملٹری پولیس کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا، دہشت گردوں نے کافی دیر تک ملٹری پولیس کی گاڑی کا پیچھا کیا اور پھر گولیاں چلائیں۔ یہ تربیت یافتہ دہشت گردوں کے انداز میں آپریٹ کر رہے تھے۔ اسی طرح رینجرز کی موبائل کو نشانہ بنایا گیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات بہتر ضرور ہیں، لیکن دہشت گرد ابھی تک موقع ملتے ہی واردات کر دیتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُن کا خاتمہ اس طرح کِیا جائے کہ انہیں دوبارہ سر اٹھانے کی ہمت نہ ہو۔ کراچی کے اجلاس میں اسی عزم کا اعادہ کیا گیا ہے اور اندرون سندھ تک ان کا پیچھا کیا جائے گا۔ جرائم میں ملوث جو لوگ گرفتار ہو چکے ہیں ان کے مقدمات جلد از جلد عدالتوں کو بھیجنے کی ضرورت ہے تاکہ اُن کے خلاف قانونی کارروائی مکمل ہو اور وہ اپنے جرائم کی سزا پائیں اس مقصد کے لئے پراسیکیوشن کے عمل کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ