اغوا کی وارداتوں میں ملوث گروہ کے 5ملزم گرفتار ،نشتر کالونی کا مغوی بچہ بازیاب

اغوا کی وارداتوں میں ملوث گروہ کے 5ملزم گرفتار ،نشتر کالونی کا مغوی بچہ ...

  

لا ہور (خبر نگا ر ) سی آئی اے پولیس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران تاوان کے لیے اغواء کیے جانے والے چار ،پانچ سالہ معصوم بچے حسنین کو شب و روز کی محنت اور پیشہ واردانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بازیاب کر کے اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں سرگرم منظم گروہ کے پانچ ملزموں کو گرفتار کر کے ان سے تاوان کی رقم، واردات میں استعمال ہونیوالی موٹر سائیکل ، موبائل فون بمہ دو عددسمزو ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ یہ بات ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا نے گزشتہ روزایک پر ہجوم پریس کانفرس کے دوران بتائی۔ اُنہوں نے بتایا کہ تاوان دے کر رہا ہونیوالے چار سالہ بچے معیز اور اس کے والدین سے بات چیت اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونیوالی معلومات کی روشنی میں جب مقدمہ کی تفتیش کا آغاز کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ نشتر کالونی کا رہائشی شاہ زیب عرف بھالو کی سرگرمیاں علاقے میں مشکوک ہیں اور مغوی بچے کے منہ سے بھی اغواء کاروں میں سے ایک کا نام بھالو پتہ چلا تھاجس پر ملزم شاہ زیب عرف بھالو کو شامل تفتیش کیا گیا تو اس نے یہ انکشاف کیا ہمیں پیسوں کی اشد ضرورت تھی جس کی وجہ سے میں نے اپنے دوستوں اشفاق، نوید بوٹا، سرمد جاوید اور سمیع اللہ کے ساتھ مل کر کوٹ لکھپت کے رہائشی عبدالرزاق کے چار سالہ معصوم بیٹے معیز کے اغواء کا منصوبہ بنایا اور بچے کو اغوا کے بعد 10لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور ساڑھے تین لاکھ روپے لے کر مانگا منڈی کے قریب رائیونڈ روڈ بلا کر رقم لے کر بچے کو مانگا منڈی چوک میں ایک پھل فروش کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ ا سی دوران 25نومبر2015 کو مذکورہ ملزمان نے نشتر کالونی سے محمد حنیف کونسلر کے ساڑھے پانچ سالہ بیٹے محمد حسنین کو اغوا کر لیا اور اس کی رہائی کے عوض 50لاکھ روپے تاوان طلب کیا۔پولیس نے مغوی بچے محمد حسنین کو نہ صرف بحفاظت بازیاب کروایا بلکہ ملزموں کو رنگے ہاتھوں گرفتار بھی کر لیا ۔ دوران تفتیش ملزموں نے دونوں معصوم بچوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی ، راہزنی اور سٹریٹ کرائم کی 70سے زائد وارداتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔

ملزمان سے تفتیش جاری ہے جن سے مزید انکشافات بھی متوقع ہیں۔ مغلپورہ سے اغوا ہونیوالی بچی کے حوالے سے صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ اس کیس پر تفیش جاری ہے اورامید ہے کہ بہت جلد ہم ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔

مزید :

علاقائی -