مذہب پر تقسیم ۔ مودی اور ٹرمپ ایک ہی سکے کے دو رخ

مذہب پر تقسیم ۔ مودی اور ٹرمپ ایک ہی سکے کے دو رخ
مذہب پر تقسیم ۔ مودی اور ٹرمپ ایک ہی سکے کے دو رخ

  

امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بالکل درست بات کی ہے کہ فوری طور پر امریکہ میں تمام مسلمانوں کا داخلہ بند کر دینا چاہئے۔ یہ تو ڈونلڈ ٹرمپ کی شرافت اور ان کی طبیعت کا دھیما پن ہے کہ انہوں نے ابھی امریکہ میں موجود مسلمانوں کو فوری طور پر امریکہ سے نکالنے کا اعلان نہیں کر دیا حالانکہ اگر وہ یہ اعلان بھی کر دیتے تو کوئی زیادہ غلط نہ ہو تا بلکہ حسب حا ل اور امریکی ضروریات کے مطابق ہے۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں مساجد بند کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔نائن الیون کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ امریکی ایئر پورٹس پر مسلمانوں کے نام والے مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک، ان کی تذلیل اور ان کو الگ لائن میں کھڑے کر کے ان کی تلاشی، امیگریشن میں تذلیل۔۔۔ یہ سب دنیا کے سامنے ہے۔ اس کے بعد اگر مسلمانوں کا داخلہ ہی بند کر دیا جائے تو وہ اس تذلیل سے بہتر ہو گا۔ اس لئے ڈونلڈ ٹرمپ کوئی زیادہ غیر معقول بات نہیں کر رہے بلکہ کسی حد تک مناسب بات ہی کر رہے ہیں۔ ویسے تو یہ کہا جا تا ہے کہ امریکہ میں سب مہاجر ہی رہ رہے ہیں۔ لیکن جب میں اس ضمن میں یو ایس آئی ایس کے تحت ایک دورہ پر امریکہ میں تھا تو میں نے ایک امریکی عہدیدار سے پوچھا کہ امریکہ نے پوری دنیا سے لوگوں کو اپنے ملک میں سما یا ہے۔ اس سے کیا امریکہ کی مذہبی حیثیت میں کوئی فرق پڑا ہے تو وہ مسکرایا۔ اور اس نے کہا کہ جب امریکہ قائم ہوا تو اس میں 84فیصد عیسائی تھے ۔ اور آج اتنی بڑی امیگریشن کے بعد بھی امریکہ میں عیسائیوں کی شرح 84فیصد ہی ہے۔ اس لئے امریکہ پہلے بھی ایک عیسائی ملک تھا اور آج بھی ایک عیسائی ملک ہے۔

اسی طرح اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی اور اچھے تعلقات کی صدائیں پھر بلند ہو نا شروع ہو گئی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ چکی ہیں۔ نریندر مودی جو چند ماہ قبل بہار کے انتخابی جلسوں میں چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ اے بہار والو : میں پاکستان کا وزیر اعظم نہیں ہو ں کہ آپ مجھے ووٹ نہیں دے رہے۔ یہ وہی نریندر ر مودی ہیں جن کی جماعت چند ماہ قبل پاکستان سے ہر قسم کا تعلق ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن تھی۔ بھارت سے ہر پاکستانی کو باہر نکالا جا رہا تھا۔ پاکستانی ایمپائر کو بھارت میں ایک میچ میں ایمپائرنگ کرنے سے روک دیا جا تا ہے۔ خورشید قصوری کی کتاب کے میزبان کا منہ کا لا کر دیا جاتا ہے۔ جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ممبئی پہنچتے ہیں تو اس سے پہلے شیو سینا کے لوگ بھارتی کرکٹ بورڈ پہنچ گئے۔ آج بھارت میں تمام مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمان فلم سٹار بھی غیر محفوظ ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ نریندر مودی مسلمانوں کے حو الے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ کے پیرو کار ہیں اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ پہلے مرحلہ میں تمام مسلمانوں کا بھارت میں داخلہ بند کر دیا جائے اور دوسرے مرحلہ میں جو مسلمان بھارت میں موجود ہیں انہیں بھی بھارت سے نکال دیا جائے۔نریندر مودی کی یہ پالیسی بھی کوئی غلط نہیں ہے۔ تقسیم ہند ہوئی اس بات پر تھی کہ مسلمانوں کی الگ ریاست ہونی چاہئے۔ اب جب مسلمانوں کے لئے الگ ریاست بن چکی ہے تو بھارت میں مسلمانوں کے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

پیرس کے واقعہ کے بعد پیرس میں قدامت پسند انتخابات جیت گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے فرانس میں مقیم بارہ فیصد مسلمانوں کا مستقبل خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ پیرس کے حملوں کے بعد پیرس کے لوگوں نے لبرل ازم کو چھوڑ کر قدامت پسندوں کو ووٹ دے دئے ہیں۔ اس ووٹ سے یہ مطلب لیا جا رہا ہے کہ فرانس کے عوام نے مسلمانوں کے خلاف ووٹ دے دیا ہے۔

اس وقت دنیا مذہب اور رنگ و نسل کے تعصب میں گرفتار ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں ایک افریقی سربراہ مملکت کی ایک تقریر لکھنا چاہتا ہوں جو انہوں نے رنگ کے تعصب پر کی ہے۔ افریقی صدر کا کہنا ہے کہ دنیا میں کالے اور سفید رنگ کے درمیان تعصب کوئی بھی قوانین بنانے سے ختم نہیں ہو گی۔ جب تک آپ برے لوگوں کی لسٹ کو بلیک لسٹ نہیں کہیں گے‘ تب تک رنگ کا تعصب ختم نہیں ہو گا۔ جب تک خوشی کے موقع پرسفید اور سوگ کے موقع پر کالا رنگ پہنا جائے گا دنیاسے رنگ کا تعصب ختم نہیں ہو گا۔ جب تک گاڑیوں کے ٹائروں کے رنگ کالے ہو نگے رنگ کا تعصب ختم نہیں ہو گا۔ اسی طرح جب تک رنگ گورا کرنے کی کریمیں بنتی رہیں گی، رنگ کا تعصب ختم نہیں ہو گا۔

اسی طرح مذہبی تعصب بھی صدیوں سے قائم ہے اور قائم رہے گا۔ سابق امریکی صدر بش کے منہ سے بھی نائن الیون کے بعد صلیبی جنگ کا فقرہ نکل گیا تھا۔لیکن پھر بات کو گول کر دیا گیا لیکن افغانستان کے بعد عراق، لیبیا اور مصر میں جو کچھ کیا گیا، وہ ایک صلیبی جنگ کی ہی داستان ہے۔ لیکن شایدسچ کو چھپانا غیر مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔ اسی لئے صلیبی جنگ کو صلیبی جنگ نہیں کہا جا رہا۔ اس لئے نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں کی سوچ ایک ہے۔ دونوں کی پالیسی بھی ایک ہے۔ اب سوال ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن سکیں گے۔ ایک گمان یہی ہے کہ شاید نہیں۔ لیکن اگر نریندر مودی بھارت میں جیت سکتے ہیں تو ایک دن ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ بھی امریکہ میں جیتے گی۔ فرانس میں قدامت پسند جیت چکے ہیں۔ باقی یورپ میں بھی ان کے جیتنے کے امکانات ہیں۔ دنیا مذہب، رنگ و نسل کے نام پر پہلے ہی تقسیم تھی۔ لیکن اب تقسیم مزید واضح ہو رہی ہے۔ جس طرح کمیونزم نا کام ہو گیا، اسی طرح دنیا میں برداشت اور لبرل ازم بھی نا کام ہو رہا ہے۔ دنیا میں مذہب کے نام پر تقسیم گہری سے گہری ہوتی جا رہی ہے۔

مزید : کالم