ساری نگاہیں سشماسوراج پر مرکوز :ہاٹ آف ایشیا کانفرنس پس منظر میں رہ گئی

ساری نگاہیں سشماسوراج پر مرکوز :ہاٹ آف ایشیا کانفرنس پس منظر میں رہ گئی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور ان کا وفد اگرچہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آیا ہے‘ اس عالمی کانفرنس میں دس دوسرے وزرائے خارجہ اور 27 ملکوں کے نمائندے شامل ہیں‘ لیکن پاکستان اور بھارت کے ’’خصوصی تعلقات‘‘ کی وجہ سے دورے کا فوکس پاک بھارت تعلقات ہیں۔ یہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کے اس دورے کی راہ عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہموار ہوئی‘ جن کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے طے کریں‘ لیکن تعلقات پر سردمہری کی جو برف جمی ہوئی تھی وہ پیرس میں مودی نوازشریف ملاقات کے بعد پگھلنا شروع ہوئی تو سشما سوراج کا دورہ ممکن ہوا۔ انہوں نے پاکستان میں کہا کہ وہ یہ دورہ اس لیے کر رہی ہیں کہ ’’رشتے اور اچھے ہوں اور تعلقات اور آگے بڑھیں‘‘۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے عشایئے میں شرکت کی‘ جہاں انہوں نے امید ہے سبزی والی ڈشیں ہی چکھی ہوں گی کیونکہ بھارت میں آج کل گوشت کے مسئلے پر ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ اس دورے کا ایک فوری نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ کرکٹ سیریز بحال ہوگئی ہے‘ یہ فیصلہ یوں بھی بروقت ہے کہ اگر اس ضمن میں ڈیڈ لاک جاری رہتا تو مارچ میں بھارت میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت غیر یقینی ہو جاتی۔ اگرچہ جس وقت سیریز کی بحالی کا اعلان متوقع تھا اس وقت بھی بعض بھارتی صحافی زور دے کر کہہ رہے تھے کہ جب کنٹرول لائن میں بھارتی فوجی اور شہری مر رہے ہوں تو کرکٹ کیسے کھیلی جاسکتی ہے‘ لیکن جب ان تک یہ خبر پہنچی کہ کرکٹ سیریز کا فیصلہ ہوگیا ہے تو انہوں نے دلائل کا پینترہ تبدیل کرنا شروع کردیا۔ سشما سوراج کی آج وزیراعظم نوازشریف‘ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ سے ملاقاتیں ہوں گی جس میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات زیر غور آئیں گے۔ دو ماہ پہلے تک بھارت کا موقف تھا کہ بات چیت صرف دہشت گردی کے موضوع پر ہوسکتی ہے اور کشمیر سمیت کسی دوسرے مسئلے پر بات چیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیر میں دہشت گردی بند نہیں ہوتی۔ لیکن دو روز قبل بنکاک میں پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان جو بات چیت ہوئی ہے اس میں جموں کشمیر بھی موضوع تھا‘ لائن آف کنٹرول پر بھی بات کی گئی۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ بھارت نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے۔ تعلقات میں یہ مثبت پیش رفت اگر دھیرے دھیرے ہوتی رہی تو جامع مذاکرات کی بحالی کا وقت بھی آسکتا ہے۔ خود بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر بات چیت اسی وقت ہوسکتی ہے جب جامع مذاکرات بحال ہوں۔ چونکہ یہ ابھی تک بحال نہیں ہوئے اس لیے کشمیر پر بات نہیں ہوسکتی لیکن دو ماہ کے اندر اندر فضا کچھ اس طرح بدلی ہے کہ کشمیر پر بات چیت بھی ممکن ہوگئی ہے۔ پاکستان کی حکومت کی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پرامن‘ باوقار اور آبرومندانہ تعلقات قائم ہوں اور مستقل بنیادوں پر ہوں بلاوجہ کی کشیدگی اور کشیدہ فضا ختم ہونی چاہئے۔ ممبئی کی مقامی تنظیموں راشٹریہ سیوک سنگھ اور شیو سینا کے انتہا پسند پاکستان کی مخالفت پر ہر وقت ادھار کھائے بیٹھے رہتے ہیں۔ کبھی وہ پاکستانی فنکاروں کو بھارت نہ آنے کی دھمکی دیتے ہیں اور کبھی ان کے بھارتی میزبانوں کے چہرے پر سیاہی مل دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان دونوں تنظیموں کو پاک بھارت تعلقات کو یرغمال بنانے کی اجازت نہ دی جائے۔ تعلقات دو حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں کسی پریشر گروپ کو اس پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ جہاں تک جامع مذاکرات کی بحالی کا تعلق ہے ان کا اعلان فوری طور پر تو اس لیے بھی نہیں ہوسکے گا کہ خود بی جے پی کے بعض رہنما بھارت کے موقف کی اس اچانک تبدیلی کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں‘ کانگریس بھی نکتہ چینی کر رہی ہے تاہم اصولی طور پر کچھ باتیں طے ہوسکتی ہیں اور اعلان بعد میں کسی وقت ہوسکتا ہے۔

سشما سوراج کی آمد اگرچہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے ہے لیکن ان کی پاکستان میں موجودگی کے دوران ان کے وقت کا ایک بڑا حصہ باہمی تعلقات پر بحث میں صرف ہوگا۔ وزیراعظم نوازشریف‘ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کا محور پاک بھارت تعلقات ہی رہیں گے جو گزشتہ کچھ عرصے سے سرد مہری کا شکار ہیں۔

مزید : تجزیہ