عمران خان نے بالواسطہ اعتراف کیا‘ برملا اظہار نہیں کرتے!

عمران خان نے بالواسطہ اعتراف کیا‘ برملا اظہار نہیں کرتے!

تجزیہ: چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے بعض اہم پارٹی رہنماؤں کی مخالفت کے باوجود پارٹی کی تنظیم نو کیلئے جماعتی انتخابات کا فیصلہ کرلیا اور اعلان کیا ہے کہ اس بار کھلے انتخابات ہوں گے۔ تحریک انصاف کی طرف سے سات رکنی کمیٹی بھی بناد ی گئی اور اب نئے سرے سے رکن سازی کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔ ادھر جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے ایک بار پھر ایک فہرست جاری کردی جس کے مطابق ان حضرات کو انتخابی دھاندلی کی وجہ سے پارٹی انتخابات سے باہر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ عمران خان نے ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا ہے کہ ضمنی انتخابات سے بھی زیادہ دھاندلی ہوئی اور الیکشن کمیشن بھی ان سے ملا ہوا ہے۔ عمران خان کے دوست اور پورے ہمدرد دانشور صحافی نے یہی بات کہی کہ تحریک انصاف اور عمران خان حالات کا معروضی تجزیہ کرنے اور تاریخ سے سبق لینے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنی جماعت کی تنظیمی کوتاہیوں‘ ٹکٹوں کی تقسیم اور انتخابی ذمہ داری تفویض کرنے کے عمل کا جائزہ نہیں لیتے اور ایسا ہی ہوا ہے کہ عمران خان نے پھر سے دھاندلی کا الزام لگا دیا۔ اگرچہ پارٹی کی ازسرنو تنظیم اور یہ کہنا کہ پارٹی کو ایک ادارہ بنانا چاہتے ہیں یہی غمازی کرتا ہے کہ وہ دل سے تو مانتے ہیں کہ انتخابی شکست ان کی اپنی کمزوریوں کے باعث ہے اور یہی دلیل جماعتی انتخابات کے مخالف دے رہے ہیں کہ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوگا لیکن وہ عمران خان نہیں جو اپنی بات کرکے اس پر ڈٹ نہ جائے۔ یہ تو وہ باربار کہتے چلے آ رہے ہیں بہرحال ان کا یہ نسخہ کتنا کارگر ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا حالانکہ ان کی جماعت والوں پر قنوطیت طاری ہونے لگی ہے۔ عمران خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر الزام لگایا لیکن اپنے عمل کا پھر بھی جائزہ نہیں لیا کہ قومی اسمبلی میں ان کی اپنی اور جماعتی کارکردگی کیا ہے۔ جہاں انتخابی اصلاحات اور احتساب کے بلوں پر کام ہو رہا ہے‘ ان کو پارلیمنٹ سے ان قوانین کو منظور کرانا چاہئے کہ آزاد‘ خود مختار ادارے قائم ہوسکیں۔

ادھر کراچی میں جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے اور اب عوام کسی اور انداز سے بات کرنے لگے ہیں۔ کسی نے کہا آصف علی زرداری نے سائیں سید قائم علی شاہ کو اپنے لیے وزیراعلیٰ بنوایا لیکن وہ اپنی مرنجاں مرنج طبیعت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم کیلئے بہت مفید ثابت ہو رہے ہیں کہ فریاد کرتے ہیں‘ جھگڑا نہیں کرتے۔ ان کی جگہ کوئی نثار کھوڑو یا وسان ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ بہرحال معاملات تو اسی وقت طے ہوگئے‘ جب جنرل راحیل شریف نے کہا کہ عمل واپس نہیں ہوسکتا اور آپریشن بلاامتیاز ہو رہا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر عاصم کے تازہ ترین بیان نے صورتحال کو ایک مرتبہ پھر قیاس آرائیوں کی طرف موڑ دیا اور سیانے کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم نے واضح اشارہ محترم آصف علی زرداری کی طرف کیا جبھی تو آصف علی زرداری نے بھی بیان داغ دیا اور وسان کو دوبئی بلایا ہے‘ صورتحال دلچسپ صورت اختیار کرگئی۔ خبروں کی صورت اور ہوتی ہے تاہم سائیں قائم علی شاہ کا شکوہ تو ایف آئی اے کی مداخلت کا تھا جس کا جواب پھر چودھری نثار ہی نے دیا۔ وہ تو وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ اب ایف آئی اے کی مداخلت روکی جائے اور جن اخراجات کا وعدہ کیا گیا وہ دیئے جائیں۔ اب معلوم نہیں کہ وزیراعظم نے شاہ جی کو کیا تسلی دی‘ یہ بھی معلوم ہو ہی جائے گا۔

ملک میں اہم کانفرنس ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ شروع ہے۔ آج (بدھ) اس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی شامل ہو جائیں گے۔ عجیب ہیں ہم بھی کہ پہلے مایوس اور مایوسی کی گہرائی میں تھے اب اچانک زیادہ ہی آس باندھ رہے ہیں۔ یہ ڈپلومیسی ہے کسی سے خیر کی توقع رکھنا درست نہیں‘ ہر کوئی اپنے ملکی مفاد کے حوالے سے اور اپنی پالیسی کے مطابق بولے گا۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کا کون حامی نہیں۔ سبھی امن چاہتے ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اشرف غنی کا کیا اعتبار یہ اسلام آباد میں کچھ اور اپنے ممالک میں کوئی اور سیاست کریں گے۔ پاکستان میں بھی حکمران کوئی بھی ہو‘ رویئے اور طرز عمل کا فرق تو ہوسکتا ہے‘ لیکن ملکی طے شدہ پالیسی سے انحراف ممکن ہی نہیں ہوتا۔ بہرحال رجائیت پسند ہونا بھی بری بات نہیں کہ اچھے پہلو کو سوچا جائے۔ اب اگر سشما سوراج کی آمد اور اس سے پہلے وزراء اعظم کی مختصر ملاقات سے کرکٹ سیریز ہو جائے اور جامع مذاکرات پھر سے شروع کرسکیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ دونوں طرف سے مؤقف مستحکم ہے اب اگر مذاکرات میں کوئی راہ نکل آئی تو خوش قسمتی ہوسکتی ہے۔ ویسے پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس ہو رہی ہے‘ بھارت نے سیاچن کو فوجی مستقر میں بدل کر ہمارے خطے کے ماحولیاتی منظر کو تبدیل کردیا ہے اور یہ عمل جاری رہا تو مزید پریشانی کا ذریعہ بنے گا۔ پیرس میں عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا چاہئے تھی‘ رہ گئے اشرف غنی تو ان کیلئے اللہ سے دعا کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کرکے عملی طور پر مخالف کرتے ہیں۔ ان کی آمد سے بھی اچھی توقعات وابستہ کرلیں‘ اللہ بھلا کرے گا۔

اعتراف

مزید : تجزیہ