سول عدالتوں میں حکم امتناعی کی درخواستیں دائرکرنے کی شرح میں اضافہ

سول عدالتوں میں حکم امتناعی کی درخواستیں دائرکرنے کی شرح میں اضافہ

لاہور(نامہ نگار)سول عدالتوں میں حکم امتناعی کی درخواستیں دائرکرنے کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے۔سائلین حکم امتناعی ختم کرانے کے لئے برسوں سے سول کورٹ کے چکرلگارہے ہیں لیکن متعددمقدمات میں مدعی حکم امتناعی کی درخواستیں دائرکرکے روپوش ہوچکے ہیں۔سول عدالتوں میں تراسی کے قریب سول ججزمختلف دیوانی مقدمات کی سماعت میں مصروف ہیں جہاں سائلین سالہاسال سے پیش ہورہے ہیں۔سول جج منورحسین کی عدالت میں حکم امتناعی کاایک مقدمہ 2008ء سے زیرسماعت ہے جس میں سرفرازنامی مدعی نے گوہاوا گاؤں کے رہائشی لیاقت بھٹی کے خلاف مکان فروخت نہ کرنے کے لئے حکم امتناعی حاصل کررکھاہے۔لیاقت بھٹی کوسول عدالت میں پیش ہوتے ہوئے 7 سال ہوگئے ہیں لیکن مدعی اوروکیل کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے مقدمہ طوالت اختیارکرچکاہے۔لیاقت بھٹی کے مطابق اس مقدمے کافیصلہ2سال سے محفوظ ہے۔ شہری لیاقت بھٹی کے وکیل کاکہناہے کہ مختلف رکاوٹوں کے باعث لوگوں کواپنے مقدمات کے بارے میں مشکلات کاسامناہے۔ پریشان حال متاثرہ افرادکہتے ہیں کہ حکم امتناعی کی درخواستوں پرفوری فیصلے ہونے چاہئیں جبکہ جعلی دعویدائرکرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ضرورت ہے

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...