سعودی عرب ،تارکین وطن کے اکاؤنٹس سے بھاری رقوم بیرون ملک منتقل

سعودی عرب ،تارکین وطن کے اکاؤنٹس سے بھاری رقوم بیرون ملک منتقل

جدہ (محمد اکرم اسد) سعودی مالیاتی ایجنسی ساما نے سادہ لوح تارکین وطن کے استحصال کا نوٹس لے لیا۔ مقامی بینکوں سے ترسیل زر کی بابت حیران کن رپورٹیں موصول ہورہی تھیں۔ بتایا جارہا تھا کہ معمولی پیشوں والے غیر ملکیوں کے نام سے ترسیل زر بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔ عکاظ کو ایک عہدیدار نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ایک چشم کشا رپورٹ یہ آئی کہ کچھ لوگ معمولی پیشوں والے غیر ملکی کارکنوں کی سادگی کاناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں، وہ انہیں معمولی رقم دے کر ان کے نام سے بھاری رقمیں مختلف ممالک اور اداروں کو بھجوارہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساما نے اپنے طور پر حقائق دریافت کرائے تو پتہ چلا کہ ان میں ایسے تارکین شامل ہیں جس کے نام سے ترسیل زر ہورہی ہے اور انہیں کانوں کان خبر بھی نہیں کہ انہوں نے کبھی کسی کو کہیں بھی کوئی رقم ارسال کی ہو اس سے صورتھال گھمبیر ہوگئی، اس تناظرمیں ساما نے تمام مقامی بینکوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں اور کسی بھی شخص کی جانب سے ترسیل زر کراتے وقت اس کی شناخت لینے کا اہتمام کیا جائے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس احتیاطی تدبیر کا مطلب مذکورہ رواج کوکنٹرول کرنا اور اس کے خطرات سے سادہ لوح تارکین کو تحفظ دینا ہے۔ بینکوں کے اہلکاروں کو کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ترسیل زر کیلئے آئے تو اس سے باقاعدہ یہ دریافت کیا جائے کہ آیا وہ یہ رقم اپنی طرف سے اپنوں کو بھیج رہا ہے یا کسی اور کی جانب سے یہ رقم اپنے نام سے ارسال کررہا ہے۔ ایک ہدایت یہ بھی ہے کہ اس طرح کے اقرار نامے پر دستخط بھی لے لئے جائیں۔ ساما منی لانڈرنگ کے انسداد کے حوالے سے ایف اے کی ایف ورکنگ گروپ کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے میں بھی حصہ لے رہی ہے۔

تارکین وطن

مزید : صفحہ آخر