اسلحہ سکینڈل ،6 پولیس افسروں کی گرفتاری کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

اسلحہ سکینڈل ،6 پولیس افسروں کی گرفتاری کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل اورجسٹس ارشاد قیصرپرمشتمل دورکنی بنچ نے 6 اعلی پولیس افسروں کی نیب کے ہاتھوں اسلحہ سکینڈل میں گرفتاری کے خلاف جاری حکم ا متناعی میں توسیع کرتے ہوئے سوال اٹھایاہے کہ آیاجب ایک ریفرنس کی سماعت شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں اعلی عدالت ملزموں کی طلبی کے حوالے سے احتساب عدالت کو ہدایات جاری کرسکتی ہے یانہیں عدالت نے اس ضمن میں پولیس افسروں کی استثنی کی درخواست بھی تاحکم ثانی منظورکرلی فاضل بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو اس دوران درخواست گذاروں کے وکلاء عبدالصمدخان بنوں ٗ انوارالحق ٗ خالد محمود جبکہ نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل قاضی جمیل اورسینئرپراسیکیوٹرعظیم داد عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر عبدالصمدخان نے عدالت کو بتایا کہ کیس کاٹرائل جاری ہے جس میں4گواہوں کے بیانات بھی قلمبند ہوچکے ہیں جبکہ ان کاموکل سکیورٹی خدشات کی بناء پرعدالت سے استثنی چاہتا ہے کیونکہ ان پرپہلے بھی ایک خودکش حملہ ہوچکاہے تمام اعلی پولیس ا فسرہیں جن میں پانچ اس وقت ڈی آئی جی اورایڈیشنل آئی جی کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں اس بناء انہیں عدالت میں ذاتی پیشی سے استثنی دیا جائے جبکہ درخواست گذارساجدخان کے وکیل انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ کیاہے کہ جب ایک کیس میں ریفرنس فائل ہوجائے تو پھرچیئرمین نیب کو کسی کے وارنٹ گرفتاری یاانہیں طلب کرنے کااختیارختم ہوجاتاہے اوریہ اختیارصرف اورصرف ٹرائل کورٹ کے پاس رہ جاتاہے جبکہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل جمیل صراف نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے متعدد مرتبہ ملزمان کی طلبی کے لئے عدالت عالیہ تک رجوع کیاتاہم آخری مرتبہ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ملزمان کی طلبی کے لئے ٹرائل کورٹ سے رجوع کریں تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کردی ہے اورموقف اختیار کیاہے کہ جب تک نیب ملزمان کو گرفتارنہیں کرتی تب تک انہیں ریفرنس میں شامل نہیں کیاجاسکتا جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ آپ کے پاس ان ملزمان کے حوالے سے کیاشواہد ہیں وہ ریکارڈ پر م وجود نہیں ہیں جس پرانہوں نے بتایا کہ یہ ریکارڈ ان کیمرہ کارروائی میں پیش کیاجاسکتاہے جس پر انوارالحق نے بتایا کہ یہ تو ایک فوجداری کیس کی سماعت ہورہی ہے اگران کے موکلوں کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو لازماانہیں وہ کاغذات دیکھناپڑیں گے جس پر عدالت نے مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے سوال اٹھایاکہ اگلی پیشی پرعدالت کو وکلاء اس بات پردلائل دیں گے کہ آیاٹرائل شروع ہونے کے بعد ایسی صورت میں اعلی عدالت ملزموں کی طلبی کے حوالے سے احتساب عدالت کو ہدایات جاری کرسکتی ہے یانہیں۔

مزید : پشاورصفحہ اول


loading...