راوی کے 10 ہزار کیوسک پانی کی صفائی کا منصوبہ 3 ماہ میں مکمل کیا جائے ،ہائیکورٹ

راوی کے 10 ہزار کیوسک پانی کی صفائی کا منصوبہ 3 ماہ میں مکمل کیا جائے ،ہائیکورٹ

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے حکومت پنجاب کی جانب سے دریائے راوی کے کناروں پر ملٹی سٹوری عما ر توں پر مشتمل راوی منصوبے کے خلاف دائر درخواست پرچیف سیکرٹری پنجاب کو دریائے راوی کے پانی کی صفائی کے لئے مقامی طور پر تیار کیا گیا منصوبہ 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے ،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صاف پانی لاہوریوں کا حق ہے،مفاد عامہ کے منصوبے کو سگنل فری منصوبے کی طرح جلد مکمل کیا جائے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دریائے راوی میں لاہور کا گندا پانی فلٹر کئے بغیر بہایا جا رہا ہے اور دریا ایک گندے نالے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ریور راوی کمیشن کے سیکرٹری رافع عالم نے عدالت کو بتایا کہ صنعتی فضلے کو صفائی کے بغیر دریا میں بہایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے دریا کا پانی آلودہ ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دریا کے دس ہزار کیوسک پانی کی صفائی کے لئے قلیل المدتی پائلٹ پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے تین کروڑ روپے درکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریور راوی منصوبے کا ابھی تک پی سی ون تیار نہیں کیا جا سکا،ریور راوی منصوبے میں سات ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی تجویز ہے جس پر تین کھرب روپے کی لاگت آئی گی۔ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ راوی کی صفائی کا قلیل المدتی منصوبہ ریور راوی منصوبے کی بنا پر شروع نہیں کیا گیا۔عدالت کے استفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ریور راوی منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے،،تیس ہزار ایکٹر پر مشتمل ریور راوی منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے گا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریور راوی منصوبے کی تکمیل کا انتظار کئے بغیر راوی کی صفائی کا قلیل مدتی منصوبہ تین ماہ میں مکمل کیا جائے۔عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو منصوبے کے لئے فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ماہ میں کارکردگی رپورٹ طلب کر لی۔

راوی پانی

مزید : صفحہ آخر