وزارت پانی و بجلی میں اربوں روپے کا کنٹریکٹ نا اہل ٹھیکدار کو دینے کا انکشاف

وزارت پانی و بجلی میں اربوں روپے کا کنٹریکٹ نا اہل ٹھیکدار کو دینے کا انکشاف

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈٹ حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آڈٹ کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں تو وقت ضائع نہ کیا جائے، کمیٹی نے وزارت پانی و بجلی اور آڈٹ حکام کی محکمانہ کمیٹی کی تفصیلات طلب کرلیں، چیئرمین کمیٹی نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز اخراجات تکمیل کے حوالے سے تمام وزارتوں کو تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ، اگر منصوبہ وارلسٹ نہیں دی گئی تو گرانٹ منظور نہیں کیا جائے گی ، نیلم جہلم توانائی منصوبہ 33بلین سے 1989 میں شروع ہوا تھا، تکمیل کے بغیر 480بلین تک پہنچ گیا۔ آڈٹ حکام کی جانب سے وزارت پانی و بجلی میں اربوں روپے کا ٹھیکہ نااہل ٹھیکیدار کو دینے کاانکشاف کیا گیا، جس پر وزارت نے موقف اختیار کیا اس ٹھیکیدار کا ریٹ دوسروں سے کم تھا، اس لئے ٹھیکہ دیا گیا۔ آڈٹ حکام نے نیسپاک میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کی گئیں اور ان کو لاکھوں روپے ادا کئے جانے کاانکشاف کیا، خلاف ضابطہ 2کروڑ 78لاکھ روپے کی لگژری گاڑیاں خریدنے کا انکشاف کیا گیا، کمیٹی نے 15دن میں رپورٹ طلب کرلی۔پبلک اکاؤ نٹس کمیٹی کا اجلا س چیئر مین کمیٹی سید خو رشید شاہ کی زیر صدارت ہو ا۔ اجلا س میں آڈ ٹ حکا م کی جا نب سے وزرات پانی و بجلی کے مالی (2013-14) کے آڈٹ اعتراضا ت پیش کیے گئے۔ اجلا س میں وزرات کی 2گرانٹس بھی پیش کی گئی ، جس پر کمیٹی نے موقف اختیا ر کیا کہ وزرات اپنے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ وار تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرے، منصوبوں کی نوعیت، اخراجات ، فنڈز اور تکمیل کی مدت کے حوالے سے بھی کمیٹی کوآگاہ کی جائے اور جو وزرات تفصیلات فراہم نہیں کر ے گی اسکی گرانٹ منظور نہیں کی جائے گی ۔ کمیٹی نے آڈٹ حکام پر سخت برہمی کا اظہا ر کر تے ہوئے کہا کہ وزرات اور آڈٹ کے دستا ویزات میں مما ثلت نہیں ہے ۔ محکمانہ کمیٹی کی کا روائی کی رپو رٹ کو پیش کی جائے جو ملو ث ہو گا اسکے خلاف کا روائی ہو گی۔ ایک آڈٹ اعتراض پر آدھا گھنٹہ لگا دیا گیا ہے جو ا س کمیٹی کے ساتھ زیا دتی ہے ۔چیئرمین کمیٹی سید خو رشید شاہ نے کہا کہ اگر آڈٹ پہلے ہی یہ کہہ دیتا کہ بنکوں کی اے ریٹنگ کے حوالے سے فنانس کا خط دکھا دیں تو معاملہ حل ہو جاتا، آڈٹ حکام کے پاس تمام چیزیں ہیں تو اتنی لمبی باتیں نہ کی جائیں، اجلا س میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ وزرات نے 8ارب 65کروڑ روپے کم ریٹنگ والے بنکوں میں رکھے گئے جس میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی جسکے جواب میں وزرات نے مو قف اختیا ر کیا کہ وزرات خزانہ کی اجا زت کے تحت یہ پیسے بنکوں میں جمع کر ائے گئے تھے ۔ اور ان بنکوں نے زیادہ شرح سود دینے کا معاہد ہ کیاتھا ۔ جس پر کمیٹی ممبر سردار عاشق گو پانگ نے کہا کہ اچھا کام اگر برے طریقے سے کیا جائے تو اسکی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کمیٹی ممبرجنید انوار نے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کو بر داشت نہ کیا جائے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی س

مزید : صفحہ آخر


loading...