الیکشن مہم چلانے پر معمر شخص کا قتل مدعی بیٹے کو8 برس گزر نے پر بھی انصاف نہ ملا

الیکشن مہم چلانے پر معمر شخص کا قتل مدعی بیٹے کو8 برس گزر نے پر بھی انصاف نہ ...

  

لاہور(کامران مغل )میرے بوڑھے والد کو "الیکشن بینرز "لگانے کی پاداش میں مخالفین نے ڈیرے میں گھس کر اندھا دندھ فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ گزشتہ8سالوں سے باپ کے قتل میں ملوث 14ملزمان کے خلاف مقدمہ کی پیروی کررہاہوں ، جب کوئی عدالتوں کے بھنور میں پھنس جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انصاف لینا جوئے شیر لانے کے متراف ہے ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران تحصیل فیروز والہ ضلع شیخوپورہ کے رہائشی محمد نواز خان نے اپنے ساتھ ہونے والی ظلم وستم کے بارے میں بتایا کہ اس کے والد اسداللہ خان کا الیکشن کے دوران بینرز لگانے پر مخالف گروپ کے ساتھ جھگڑا ہوگیا تھا جس کی رنجش دل میں رکھتے ہوئے 18دسمبر2007ء کو 6:30بجے جب میرے والد اسد اللہ خان اپنے ڈیرے پر موجود تھے ،مخالفین کے افرادامیرحسین ، عمران ، فقیر حسین ،خضر حسین ،عرفان ، دستگیر عرف بھولا ،انیس ،محمد تنویر ،سیف اللہ ، سرور، ارسلان ،مصطفی عرف پھانی ، احسان اوررزاق علی نے ڈیرے میں داخل ہوکرکہا کہ "آج بینرز لگانے کا مزا چکا دیتے ہیں "جس کے بعدملزم امیر حسین نے پہلا فائر میرے والد اسداللہ خان کو مارا جبکہ اسی کے ساتھ ملزم عمران ودیگر نے فائرنگ شروع کردی جس کے باعث میرا والد گولیاں کی زد میں آکر دم توڑ گئے ۔ کیس سیشن عدالت میں زیرسماعت ہوئے 8سال بیت چکے ہیں لیکن آج تک کیس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔ میرے والد کو ناحق قتل کیا گیا ہے ،ملزما ن کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ مقدمہ مدعی کے وکلاء نے بتایا کہ مذکورہ کیس سیشن عدالت میں کافی عرصہ سے زیرسماعت ہے اوراب اس کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج نسیم احمد ورک کی عدالت میں جاری ہے ،عدالت نے مذکورہ مقدمہ کے تفتیشی کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے اسے گرفتا ر کر کرکے عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ شہادیں طلب رکھی ہیں۔ کیس کی مزید سماعت 9دسمبر2015کو ہوگی ۔

انصاف،دربدر

مزید :

صفحہ آخر -