ہائی کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان سے وضاحت طلب کر لی

ہائی کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان سے وضاحت طلب کر لی

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے توہین عدالت کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔یہ درخواست منیراحمد نامی شہری نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنرنے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان جاری کیا۔چیف الیکشن کمشنر نے بیان میں کہا کہ عدالتوں کو الیکشن کمیشن کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں کیوں کہ الیکشن کمیشن کا ادارہ خود عدالتی اختیارات رکھتا ہے۔انہوں نے کہاکہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان جاری کرنے پر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ابتدائی سماعت پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس درخواست کی مخالفت کی جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا جائے الیکشن کمشن کس اختیار کے تحت ہائی کورٹس کے احکامات ماننے سے انکارکرسکتا ہے ۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شفاف بلدیاتی انتخابات کراناالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔انتخابات کے انعقاد سے قبل امیدواروں پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق آئینی تقاضا ہے مگر الیکشن کمیشن عام انتخابات،سینٹ اور بلدیاتی انتخابات کے شفاف انتخاب میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدلیہ کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے سوا ہر ادار ے کو نوٹس جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہیں ، عدالت چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائے۔عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 22دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

توہین عدالت

مزید : صفحہ آخر