سندھ میں بین الصوبائی گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد

سندھ میں بین الصوبائی گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر خوراک سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں بین الصوبائی گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد کرنے کے لئے محکمہ داخلہ سندھ کو کہہ دیا گیا ہے اور جلد ہی 144 کا نفاذ کردیا جائے گا۔ صوبے میں موجود وافر مقدار میں گندم کو آئندہ سیزن سے قبل ملوں کو دینے کے لئے اقدامات کئے جارہی ہیں۔ آئندہ سال دبئی میں ہونے والے فوڈ فیسٹیول میں محکمہ خوراک کی جانب سے بھی اسٹال لگایا جائے گا تاکہ بیرون ملک اور دیگر این جی اوز کی جانب سے خرید کی جانے والی گندم میں سندھ کی اعلیٰ گندم سے ان کو روشناس کرایا جاسکے۔ پاکستان اور سندھ فلور ملز اونرز ایسوسی ایشن اور محکمہ خوراک مل کر عوام کو سستے داموں گندم اور آٹے کی فراہمی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ ہم فلور ملز ایسوسی ایشن کے مسائل کو بھی ترجیعی بنیادوں پر حل کریں گے۔ محکمے کے فوڈ انسپکٹرز کو مزید فعال کیا جائے گا اور پنجاب سے چاول ملے آٹے کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ سندھ کی گوداموں میں زائد گندم کی اصل وجہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث دو سال قبل یوکرین سے خراب گندم کی امپورٹ ہے اور اس پر وفاق نے ابھی تک وعدے کے مطابق اسے دوبارہ ایکسپورٹ پر سبسیڈی کے اپنے 45 ڈالر فی میٹرک ٹن حصہ نہیں دیا ہے، جس پر آئندہ وفاق کے ساتھ اجلاس میں احتجاج کیا جائے گا۔ اندرون سندھ کی ملز کی طرح کراچی کی فلور ملز کو بھی تین ماہ کی بینک گارنٹی پر گندم فراہم کی جائے گی۔ اس وقت ہمارے گوداموں میں ساڑھے 12 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور انشاء اللہ آئندہ فصل آنے تک ہم ایک بڑی مقدار ملز کو فراہم کردی جائے گی، جس کے لئے محکمہ خوراک اور ملز مالکان بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر میں پاکستان فلور ملز اور سندھ فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری خوراک لئیق احمد، ڈائریکٹر فوڈ علی احمد قریشی، چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سامن مل، سابق چیئرمین میاں محمود الحسن، ممتاز شیخ، حاجی محمد یوسف، ارکان مینیجنگ کمیٹی احمد اقبال داؤد پاک والا، پیارے علی لاسی، محمد اشرف، عامر جاوید اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ قبل ازیں اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کو محکمہ خوراک کا قلمدان سنبھالنے پر انہیں مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے فلور ملز کے لئے بہتر پالیسیوں کے باعث آج فلور ملز کے کم و بیش تمام مسائل حل ہوچکیں ہیں اور فلور ملز بھاری مقدار میں سرکاری گوداموں میں موجود گندم کی خریداری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ میں آٹے کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ پنجاب سے چاول ملا آٹے کی بڑی مقدار میں سندھ میں آمد کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور پنجاب سے گندم کی سندھ میں غیر قانونی طور پر فروخت کے باعث سندھ کے فلور ملز کو مسائل درپیش ہیں۔ بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس وقت سرکاری گوداموں میں ساڑھے 12 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور اس زیادہ گندم کی اصل وجہ دو سال قبل وفاق کی غیر ذمہ داران پالیسیوں کے باعث یوکرین سے غیر معیاری گندم کی امپورٹ ہے، جس کے باعث صوبے میں دو سال سے پیدا ہونے والی گندم گوداموں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں اس گندم کو دوبارہ ایکسپورٹ پر 45 فیصد اپنے حصے کی سبسیڈی کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک یہ پورا نہیں کیا جاسکا اور بیرون ملک خریدار ہونے کے باوجود ابھی تک ہم یہ گندم ایکسپورٹ نہیں کرسکیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں آئندہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں اس معاملے کو اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ میں خود اس سلسلے میں وفاقی وزیر خوراک سے بھی بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب اور دیگر صوبوں سے غیر قانونی طور پر گندم اور آٹے کی نقل و حمل پردفعہ 144 کے تحت پابندی کے لئے محکمہ داخلہ سندھ کو لکھ دیا ہے اور جلد ہی اس پر پابندی عائد کردی جائے گی جبکہ محکمہ خوراک کی مانیٹرنگ اور انسپیکشن کمیٹیوں کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ مارکیٹوں میں ملاوٹ شدہ آٹے کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیں۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس وقت اندرون سندھ بہت سے فلور ملز بند ہیں، جس کی وجہ غیر قانونی طور پر غیر معیاری آٹا ہی ہے اور پابندی کے بعد جلد ہی یہ فلور ملز دوبارہ شروع ہوجائیں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گندم کے نرخوں میں کمی کے لئے کسانوں کو پیکج دینے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے اقدامات کئے گئے لیکن ابھی تک اس کے ثمرات واضح نہیں ہوئے ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم کسانوں کو سبسیڈی فراہم کریں تاکہ گندم کے نرخ کم ہوں اور اس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچ سکے۔ اس موقع پر احمد پاک والا کے والد اور معروف سماجی اور سیاسی رہنماء اقبال پاک والا کے وفات پر ان کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -