ملک میں عملاً آئی ایم ایف کا راج ہے،اعجاز جاکھرانی

ملک میں عملاً آئی ایم ایف کا راج ہے،اعجاز جاکھرانی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ایم این ایز اعجاز جکھرانی، غلام مصطفی شاہ، ایم پی ایز ڈاکٹر سہراب خان سرکی اور عبدالستار راجپرنے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ملک میں عملاً آئی ایم ایف کا راج ہے، حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے کی خاطر ملکی قومی اور احساس ادارے اپنے من پسند لوگوں کو اونے پونے فروخت کررہی ہے۔ حکومت نے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگا رکھی ہے۔ایک طرف حکومت قومی اسمبلی کی بالادستی کا دعوی کرتی ہے دوسری طرف قومی اسمبلی کو بائی پاس کر کے رات کے اندھیرے میں صدارتی آرڈیننس نکال رہی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور تقدس صدارتی آرڈیننس تلے مجروح کر دیا گیا ہے۔ ملک کے 20کروڑ عوام اپنے منتخب کردہ عوامی نمائندوں اور پارلیمنٹ کی بے عزتی پر ن لیگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ملک کی قسمت کے فیصلے قوم کی غیرت کا جنازہ ن لیگ کی حکومت نے رات کے اندھیرے میں نکال دیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ ن لیگ ملک و قوم کے خلاف اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کسی بھی مذموم حرکت سے گریز نہیں کریگی۔ لیکن ن لیگ کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جس طرح پوری قوم اور پاک فوج دہشت گردی اور ملکی سالمیت کے لئے متحد ہیں۔ ملکی وقار کے منافی اقدامات پر ن لیگ کے خلاف بھی پوری قوم متحد ہو چکی ہے اور انہیں کہیں فرار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پی پی پی میڈیا سیل سے جاری ایک بیان میں اراکین قومی وصوبائی سمبلی نے ن لیگ کو خبردار کیا ہے کہ اگر پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف رات کے اندھیرے میں جاری کئے جانے والے صدارتی آرڈیننس کو واپس نہ لیا گیا تو ملک کا کوئی ایئرپورٹ اور کوئی جہاز ن لیگ کی قیادت کو ملک سے باہر نہیں لے جاسکے گا اور نہ ہی عرب شہزادوں کو مداخلت کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ملازمین کو نہ نکالنے کا دعوی کر کے قوم کو بے قوف بنا رہی ہے کیونکہ اس سے قبل پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی کی نجکاری کے موقع پر بھی ایسے ہی دعوے کئے گئے تھے بلکہ تحریری طور پر ملازمین کو یقین دلایا گیا تھا کہ نجکاری کے بعد کسی کو جبری برطرف نہیں کیا جائیگا لیکن پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل سے 20ہزار سے زیادہ مستقبل ملازمین اور کے ای ایس سی سے 8ہزار مستقبل ملازمین کو بلا کسی جواز کے جبری برطرف کر کے ان کا معاشی قتل کیا جا چکا ہے۔لہذا اب پی آئی اے کے ملازمین حکومت کے کسی جھانسے میں آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے ن لیگ کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر پی آئی اے سمیت قومی اداروں کی نجکاری کا خیال ترک کر دے بصورت دیگر تمام قومی اداروں کے ملازمین نجکاری کے خلاف مشترکہ تحریک شروع کرینگے۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -