ریاست چھتیس گڑھ میں بھارتی فورسز اور مانواز باغیوں کے درمیان جھڑپ

ریاست چھتیس گڑھ میں بھارتی فورسز اور مانواز باغیوں کے درمیان جھڑپ
ریاست چھتیس گڑھ میں بھارتی فورسز اور مانواز باغیوں کے درمیان جھڑپ

  

نئی دہلی(صباح نیوز)بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں پولیس نے ایک جھڑپ میں 15 سے 20 مانوازوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا۔اس تصادم میں پولیس کے پانچ نوجوان زخمی ہوئے ۔ انھیں علاج کے لیے رائے پور کے ایک ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اگرچہ اس اطلاع کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ تاحال مانواز باغیوں کی جانب سے بھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔بستر کے آئی جی ایس آر پی لوری برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ مانواز دو سے آٹھ دسمبر تک کئی ریاستوں میں پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کی 15 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ان کے مطابق اسی سلسلے میں دو دن پہلے پولیس کو سکما ضلع کے سٹارام تھانہ علاقے میں بڑی تعداد میں مانوازوں کی بیٹھک کی اطلاع ملی تھی۔آئی جی للوری نے کہا کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی ایک ٹیم آپریشن کے لیے نکلی تھی، جہاں یٹیمڑگو کے جنگل میں مانوازوں کے ساتھ تصادم ہوا۔ اس تصادم میں 15-20 کی تعداد میں مانوازوں کے مرنے کی خبر ہے۔ہمارے جوانوں نے جب مانوازوں کی لاشیں قبضے میں لینے کی کوشش کی تو مانوازوں کے حملے میں پانچ چھ جوان زخمی ہو گئے۔آئی جی نے دعوی کیا کہ مانواز اپنے ساتھیوں کی لاش ٹریکٹر میں بھر کر تلنگانہ کی طرف گئے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔پولیس کے مطابق ریاست کے گریابد ضلع کے پیپرھوٹا علاقے میں بھی مانواز باغیوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں بہت مانواز زخمی ہوئے ہیں۔ایک اور واقعہ میں سکما ضلع کے علاقے پولمپلی میں پولیس نے 25 مبینہ مانواز باغیوں کے ہتھیار ڈالنے کا دعوی کیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی