دنیا کی مہنگی ترین چیز جس کا ایک گرام 15 ارب روپے میں فروخت ہوتا ہے

دنیا کی مہنگی ترین چیز جس کا ایک گرام 15 ارب روپے میں فروخت ہوتا ہے
دنیا کی مہنگی ترین چیز جس کا ایک گرام 15 ارب روپے میں فروخت ہوتا ہے

  

لندن (نیوز ڈیسک) اکثر لوگ دنیا کی مہنگی ترین شے کے طور پر ہیرے جواہرات وغیرہ کو ہی جانتے ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں استعمال ہونے والی کچھ اشیاءایسی بھی ہیں کہ جو دنیا کے مہنگے ترین ہیروں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ ایک ایسی ہی چیز ’اینڈو ہیڈرل فلیرین‘ نامی مادہ ہے جسے برطانیہ میں آکسفورڈ ٹیکنالوجی SEISنامی ادارہ تیار کررہا ہے۔ اس کے محض ایک گرام کی قیمت 100 ملین پاﺅنڈ (تقریباً 15 ارب پاکستانی روپے) ہے۔

مزید جانئے: دنیا کا خوش قسمت ترین نوجوان، دریا میں ایک ڈبکی نے کروڑ پتی بنادیا

اربوں روپے فی گرام میں بیچے جانے والے اس مادے کے بارے میں جان کر یقینا آپ کو سخت حیرت ہوئی ہوگی لیکن اس کی تیاری کے لئے کام کرنے والے سائنسدان لوشیئس کیری کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال اس قدر اہم اور حساس ترین ٹیکنالوجی کی تیاری میں کیا جارہا ہے کہ یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اینڈو ہیڈرل فلیرین ایسے ایٹمی کلاک تیار کرنے کے لئے استعمال ہوگی کہ جو ناقابل یقین درستی کے حامل ہوں گے اور ان کی مدد سے جی پی ایس جیسی ٹیکنالوجی اس قدر موثر ہوجائے گی کہ ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی کسی جی پی ایس ڈیوائس کا مقام حیرت انگیز درستی کے ساتھ معلوم کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خصوصاً بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے انتہائی اہم ہوگی کیونکہ اگر اس قسم کی گاڑیاں تیز رفتاری سے ایک دوسرے کی جانب بڑھ رہی ہوں تو ان کی پوزیشن بالکل درست طور پر معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ انہیں حادثے سے بچایا جاسکے۔ اس وقت موجود انتہائی درست ایٹمی کلاک کم از کم ایک کمرے کے سائز پر محیط ہیں، لیکن اینڈو ہیڈرل فلیرین مادے کی مدد سے انہیں اتنا چھوٹا بنایا جاسکے گا کہ یہ ایک موبائل فون کی چپ پر ہی سماجائیں گے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -