زین قتل کیس میں ضروری گواہوں کے بیان قلمبند نہیں کئے گئے ،پراسیکیوٹر جنرل کا ہائی کورٹ میں موقف

زین قتل کیس میں ضروری گواہوں کے بیان قلمبند نہیں کئے گئے ،پراسیکیوٹر جنرل کا ...
زین قتل کیس میں ضروری گواہوں کے بیان قلمبند نہیں کئے گئے ،پراسیکیوٹر جنرل کا ہائی کورٹ میں موقف

  

لاہور (نامہ نگارخصوصی)پراسیکیوٹرٹر جنرل پنجاب نے طالب علم زین قتل کیس کے ملزمان کی بریت کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جلد بازی میں اس کیس کا فیصلہ سنایا جبکہ ضروری گواہوں کے بیان بھی قلمبند نہیں کئے گئے ۔ مسٹر جسٹس شاہدحمید ڈار اور مسٹر جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مدعی سہیل افضل نے وزیراعلیٰ کی موجودگی میں کہا کہ پولیس مکمل تعاون کررہی ہے، سہیل افضل نے بعد میں عدالت میں بیان دیا کہ پولیس نے سادہ کاغذات پر دستخط کرا لیے، انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جلد بازی میں فیصلہ دیا، ٹرائل کورٹ نے سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند نہیں کئے اورکلا شنکوف ریکوری کرانے والے گواہ کا بھی بیان ریکارڈ نہیں کیا گیاجبکہ پراسکیوٹر کومدعی پر جرح کی اجازت نہیں دی گئی تھی، عدالت نے مزید کارروائی کئے بغیر مصطفی کانجو کو بری کردیا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے صرف مدعی اور دیگر گواہوں کے منحرف ہونے پر مصطفی کانجو سمیت تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیاہے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کے عدالت کے فیصلے میں موجود قانونی خامیوں کی نشاندہی کی جائے ۔

مزید : لاہور