ہائی کورٹ نے عمارتوں کمرشلائزیشن فیس کے خلاف حکم امتناعی میں آئندہ سال 4مارچ تک توسیع کردی

ہائی کورٹ نے عمارتوں کمرشلائزیشن فیس کے خلاف حکم امتناعی میں آئندہ سال 4مارچ ...
ہائی کورٹ نے عمارتوں کمرشلائزیشن فیس کے خلاف حکم امتناعی میں آئندہ سال 4مارچ تک توسیع کردی

  

لاہور (نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے340 رہائشی اور کمرشل عمارتوں پر کمرشلائزیشن فیس کے خلاف حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ایل ڈی اے کا دائرہ کار شیخوپورہ اور قصور تک بڑھانے کے قانونی نقطے پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا کو طلب کر لیا ۔جسٹس عائشہ اے ملک نے ایل ڈی اے کی طرف سے سٹی سکول سمیت متعدد عمارتوں پر کمرشلائزیشن فیس عائد کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی، درخواستوں گزاروں کے وکلا ءکی طرف سے مو ¿قف اختیار کیا گیا کہ ایل ڈی اے نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقوں میں بھی عمارتوں پر کمرشلائزیشن فیس عائد کر دی ہے، قانون کے مطابق ایل ڈی اے رہائشی علاقوں میں کمرشلائزیشن فیس عائد نہیں کر سکتا ،انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے اختیارات اور قانون سے تجاوز کرتے ہوئے ایل ڈی اے کا دائرہ کار شیخوپورہ اور قصور تک بڑھا دیا ہے، قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ کار دوسرے شہروں تک بڑھایا جائے، عدالت کو بتایا گیا کہ کمرشلائزیشن فیس کا معاملہ کئی مہنیوں سے عدالت میں زیر التواءہے اور 340سے زائد درخواستیں زیر سماعت ہیں مگر ایل ڈی اے کے وکلاءدانستہ طور پر پیش نہیں ہو رہے جس پر عدالت نے تمام درخواستوں میں حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت 4 مارچ 2016ءتک ملتوی کر دی ، فاضل جج نے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل نوید رسول مرزا کو طلب کرتے ہوئے ایل ڈی اے کا دائرہ کار بڑھانے کے ایشوپر بھی معاونت طلب کر لی ہے۔

مزید :

لاہور -