ہائی کورٹ نے خاتون وزیر مملکت کے والد میاں افضل تارڑ کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں کامیابی کالعدم کردی

ہائی کورٹ نے خاتون وزیر مملکت کے والد میاں افضل تارڑ کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی ...
ہائی کورٹ نے خاتون وزیر مملکت کے والد میاں افضل تارڑ کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں کامیابی کالعدم کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کے والد میاں افضل حسین تارڑ کی یونین کونسل نمبر8حافظ آباد سے بطور چیئرمین کامیابی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے دوبارہ گنتی کاحکم کالعدم کر دیاہے۔جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ابتدائی گنتی میں 26 ووٹوں سے کامیاب ہونے والے تحریک انصاف کے مامون جعفر تارڑ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے حافظ آباد کی یونین کونسل نمبر8سے میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا جو غیرقانونی تھا، ریٹرننگ افسر نے درخواست گزار کی بطور چیئرمین کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، ہائیکورٹ کو انتخابی عذرداری پر سماعت کا اختیار ہی نہیں تھا، دوبارہ گنتی کے فیصلے کے بعد ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کے عملے نے دھاندلی کر کے ن لیگ کے امیدوار افضل تارڑ کو 121ووٹوں سے جتوا دیا ، اس کامیابی میں افضل تارڑ کی بیٹی اور وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے استدعا کی کہ سنگل بنچ کا دوبارہ گنتی کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے افضل تارڑ کی بطور چیئرمین کامیابی غیرقانونی قرار دی جائے، افضل تارڑ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سنگل بنچ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا، تحریک انصاف نے دھاندلی کی تھی جس کی وجہ سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں وہ ہار گئی، فاضل بنچ نے دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد افضل تارڑ کی کامیابی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم کر دیا، عدالتی فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے مامون جعفر تارڑ کی بطور چیئرمین حیثیت دوبارہ بحال ہو گئی

مزید : لاہور