سعودی عرب میں کنوارے نوجوانوں کی سب سے بڑی مشکل حل ہوگئی، تاریخی فیصلہ ہوگیا

سعودی عرب میں کنوارے نوجوانوں کی سب سے بڑی مشکل حل ہوگئی، تاریخی فیصلہ ہوگیا
سعودی عرب میں کنوارے نوجوانوں کی سب سے بڑی مشکل حل ہوگئی، تاریخی فیصلہ ہوگیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں جہاں ایک طرف بڑھتی ہوئی شرح طلاق نے پریشانی پیدا کررکھی ہے تو وہیں بے پناہ اخراجات کی وجہ سے شادیوں کی گرتی ہوئی شرح ایک الگ پریشانی کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ جنوب مغربی علاقے جازان کے قبائل نے اس مسئلے کا ایک بہترین حل نکالتے ہوئے شادی کے خواہشمند مردوں کو بڑی خوشخبری سنا دی ہے اور نہ صرف شادی کے اخراجات کی حد مقرر کردی ہے بلکہ تقریبات کی تعداد بھی محدود کردی ہے۔

مزید جانئے: سعودی خاتون کے سامنے ہمسائیوں نے عین وقت پر شوہر کی دوسری شادی کا پھانڈا پھوڑ کر خفیہ منصوبہ ناکام بنا دیا

نیوز سائٹ گلف نیوز نے مقامی اخبار سبق کے حوالے سے بتایا ہے کہ قبائل نے فیصلہ کیا ہے کہ دولہا کنواری لڑکی سے شادی کے لئے 50 ہزار سعودی ریال (تقریباً 14 لاکھ پاکستانی روپے) بطور حق مہر ادا کرے گا جبکہ مطلقہ یا بیوہ سے شادی کے لئے 30 ہزار سعودی ریال حق مہر ادا کیا جائے گا۔ شادی کے ملبوسات اور 12 عدد چوڑیوں کے لئے اضافی 5 ہزار ریال بھی دئیے جاسکتے ہیں۔ اس سے قبل انتہائی زیادہ حق مہر کی روایت عام تھی جبکہ شادی کی تقریبات مسلسل کئی روز تک جاری رہتی تھیں، مگر اب صرف منگنی اور شادی کے دن تقریب ہوگی۔

سعودی میڈیا کے مطابق جازان کے قبائل کا احسن فیصلہ سامنے آنے کے بعد دیگر علاقوں کے نوجوانوں نے بھی مطالبہ شروع کردیا ہے کہ ان کی شادیاں آسان بنانے کے لئے اسی طرح کے قوانین فوری طور پر بنائے جائیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس