افغانستان، قندھار کے ہوائی اڈے پر طالبان کا حملہ،10دہشتگردوں سمیت 19 افراد ہلاک،25 زخمی،آپریشن جاری

افغانستان، قندھار کے ہوائی اڈے پر طالبان کا حملہ،10دہشتگردوں سمیت 19 افراد ...
 افغانستان، قندھار کے ہوائی اڈے پر طالبان کا حملہ،10دہشتگردوں سمیت 19 افراد ہلاک،25 زخمی،آپریشن جاری

  

قندھار(آئی این پی)افغانستان کے شہر قندھارکے ہوائی اڈے پر طالبان کے حملے کے بعد سیکورٹی فورسز کی کاروائی جاری ہے،رات بھر جانے رہنے والی لڑائی میں 10 طالبان جنگجوؤں سمیت 19 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے،جنگجوؤں نے افغان فوجی افسر کے اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز شام چھ بجے کے قریب قندھار میں ایک فوجی اڈے پر طالبان کے حملے کے بعد سے وہاں افغان سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ جاری ہے۔نیٹو اور افغان فورسز کے فوجی اڈے کے فصیل بند احاطے میں جس میں قندھار ہوائی اڈہ بھی شامل ہے، جاری شدید لڑائی میں 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں 10 دہشتگرد بھی مارے گئے ہیں۔افغان نیشنل آرمی کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ فوجیوں وردیوں میں ملبوس 14 دہشتگرد ائیرپورٹ میں داخل ہوئے جن میں سے 9 کو ہلاک کردیا گیا جبکہ 5کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ طالبان نے ایک فوجی افسر کے کنبے کو یرغمال بنا رکھا ہے جس میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔منگل کی شام ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ قندھار افغان طالبان کا اہم مرکز رہا ہے۔صوبائی حکومت کے ایک ترجمان کا کہا ہے کہ حملہ آور کمپلیکس کے پہلے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔قندھار ہوائی اڈے میں نیٹو اور افغان افواج کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان سمیم خوپلوق نے بتایا کہ ’کئی باغیوں‘ نے حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کمپلیکس کے اندر ایک سکول میں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔قندھار ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر احمداللہ فیضی نے بتایا ہے کہ لڑائی کے دوران کچھ مسافر ہوائی اڈے کے اندر پھنس گئے تھے۔ہلاک ہونے والوں کے بارے میں قیاس ہے کہ فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ایک طالبان نواز گروہ کا ایک ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ انھوں نے یہ حملہ ’مقامی اور غیرملکی فوجوں‘ کے خلاف کیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ برس بیشتر امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ چند ماہ میں افغان طالبان نے جنگی میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کیں ہیں جن میں قندوز شہر میں مختصر مدت کے لیے قبضہ بھی شامل ہے۔

مزید : بین الاقوامی