افغان صدر اشرف غنی کاہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب

افغان صدر اشرف غنی کاہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب
افغان صدر اشرف غنی کاہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب

  

اسلام آباد(آئی این پی) افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ دنیا بھر سے آئے دہشتگرد افغانستان میں موجود ہیں، امن قائم نہ ہونے کی پہلی وجہ دہشتگرد گروپ ہیں،افغانستان خطے کے دیگر ممالک کی جنگ لڑرہاہے،پاکستان میں آپریشن سے بھی دہشتگرد بڑی تعداد میں افغانستان آگئے، کانفرنس علاقائی تعاون کیلئے اہم ثابت ہوگی، پاکستان کیساتھ حکومتی، سیاسی، سماجی و عوامی سطح پررابطوں کوفروغ دیناچاہتے ہیں،پاکستان کیساتھ ملٹری ٹوملٹری اورانٹیلی جنس رابطوں کے بھی خواہاں ہیں،دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہیں،مہاجرین کا معاملہ دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور پاکستان نے اپنے بچے کھوئے،ہمارے بچوں کو سکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا،ہماری خواتین کو شاپنگ پر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا،تمام مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈال کر سیاسی عمل کا حصہ بننا ہوگا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے میکنزم وضع کیا جائے۔بدھ کو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ کانفرنس علاقائی تعاون کیلئے اہم ثابت ہوگی۔ پاکستان کیساتھ حکومتی، سیاسی، سماجی و عوامی سطح پررابطوں کوفروغ دیناچاہتے ہیں۔پاکستان کیساتھ ملٹری ٹوملٹری اورانٹیلی جنس رابطوں کے بھی خواہاں ہیں،دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہیں،مہاجرین کا معاملہ دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور پاکستان نے اپنے بچے کھوئے،ہمارے بچوں کو سکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا،ہماری خواتین کو شاپنگ پر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔تمام مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈال کر سیاسی عمل کا حصہ بننا ہوگا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے میکنزم وضع کیا جائے۔خطاب میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا خواہشمند ہے۔افغانستان میں بہت حد تک یہ غیریقینی پائی جاتی تھی کہ پاکستان وہاں بننے والی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرے گا کہ نہیں لیکن پاکستانی وزیرِاعظم کی یقین دہانیاں اثرانگیز ہیں۔ اشرف غنی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں دہشت گردوں کے مالی معاونین کی نشاندہی ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں افغانستان کو اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ 2016 میں صورتحال تبدیل ہوگی۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پر پاکستان کے شکرگزار ہیں لیکن پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔افغان صدر کا کہنا تھا افغانستان میں بھی ساڑھے تین سے پانچ لاکھ پاکستانی پناہ گزین موجود ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشرے میں تشدد پسندی کا کوئی مقام نہیں، ہمارے دشمن افغانستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم خطے کے دیگر ممالک سے مضبوط رابطوں پر کام کررہے ہیں۔افغان صدر نے کہا کہ افغانستان کو سیکیورٹی، معیشت اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہے لیکن غربت کا خاتمہ ہمارا سب سے اہم ہدف ہے جبکہ دیگر مسائل کی طرح افغان مہاجرین کی آباد کاری بھی ایک مسئلہ ہے، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کانفرنس میں شرکت کے لیے نور خان ایئربیس پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔صدر اشرف غنی کو طیارے سے باہر آنے پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی، دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مہمان صدر کو مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے شاندار گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔نور خان ایئربیس پر وزیر اعظم نواز شریف نے مہمان صدر کا استقبال کیا اور اپنے وفد کا تعارف کرایا، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء خواجہ آصف اور وزیر سیفران بھی مہمان صدر کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

مزید : بین الاقوامی