آدمی کو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے کینسر ہے تو دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی لیکن موت کے بعد پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آئی تو ایسا انکشاف کہ پورا خاندان دنگ رہ گیا، دراصل کیا معاملہ تھا؟ ناقابل یقین حقیقت سامنے آگئی

آدمی کو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے کینسر ہے تو دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی لیکن ...
آدمی کو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے کینسر ہے تو دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی لیکن موت کے بعد پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آئی تو ایسا انکشاف کہ پورا خاندان دنگ رہ گیا، دراصل کیا معاملہ تھا؟ ناقابل یقین حقیقت سامنے آگئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک شخص کو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے کینسر کا موذی مرض لاحق ہے جس پر اس نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی، لیکن مرنے کے بعد جب اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو ایسا انکشاف ہوا کہ اس کے پسماندگان دنگ رہ گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معلوم ہوا کہ دراصل اس شخص کو کینسر تھا ہی نہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ایسٹ یارک شائر کے علاقے گول کے رہائشی 78سالہ ریٹائرڈ بس ڈرائیور ڈونلڈ لیسٹر کے ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے اس میں مثانے کے کینسر کی تصدیق کی اور اسے ریڈیوتھراپی کرانے کا مشورہ دیا۔ ڈونلڈ ریڈیو تھراپی کروانے سے بہت خائف تھا۔

مزیدپڑھیں:سکول پرنسپل کے کمپیوٹر کی پولیس نے تلاشی لی تو ڈھیروں طالبات کی شرمناک ویڈیوز مل گئیں، سکول کے اندر ہی چھپ کر یہ کام کیسے کردیا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر تمام والدین گھبراجائیں
رپورٹ کے مطابق ایک روز وہ گھر کے باغیچے میں مچھلیوں کو خوراک ڈالنے گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی اہلیہ پیٹریشا لیسٹر اسے چائے دینے آئی تو یہ دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ ڈونلڈ پھندہ لے کر خودکشی کر چکا تھا اور اس کی لاش درخت سے جھول رہی تھی۔ مرنے سے قبل ڈونلڈ نے گھر کی کھڑکی پر وہی پھول توڑ کر رکھ دیا تھا جو اس کی اہلیہ کو بے حد پسند تھا۔ جب اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو اس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسے مثانے کا کینسر نہیں تھا۔ پیٹریشا لیسٹر کا کہنا ہے کہ ’’اس روز میں، میرا بھائی اور ڈونلڈ اندر بیٹھے دیر تک گفتگو کر تے رہے۔اس روز وہ بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ پھر اچانک انہوں نے ہماری پالتو مچھلیوں کو خوراک ڈالنے کا کہا اور باہر چلے گئے۔ کاش میں فوراً اس کے پیچھے باہر نکل آتی۔‘‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -