پیارا پیارا نام محمدﷺ

پیارا پیارا نام محمدﷺ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ڈاکٹرطاہر القادری

محمدﷺ کا لفظ اتنا پیارا اور اتنا حسین ہے کہ اس کے سنتے ہی ہر نگاہ فرط تعظیم اور فرط ادب سے جھک جاتی ہے، ہر سر خم ہو جاتا ہے اور زبان پر درود سلام کے زمزے جاری ہو جاتے ہیں، لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ اس لفظ کا معنی و مفہوم بھی اس کے ظاہر کی طرح کس قدر حسین اور دل آویز ہے۔
لفظ محمد مادہ حمد سے مشتق ہے۔ حمد کے معنی تعریف کرنے اور ثنا بیان کرنے کے ہیں۔ خواہ یہ تعریف کسی ظاہری خوبی کی وجہ سے کی جائے یا کسی باطنی وصف کی بنا پر تعریف کا مفہوم ادا کرنے کے لئے شکر کا لفظ بھی بولا جاتا ہے، مگر شکر اور حمد میں فر ق ہے۔ شکر سے مراد وہ تعریف و توصیف ہے جو ممدوح کی عظمت و کبریائی کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جائے۔
لفظ محمد اسم مفعول کا صیغہ ہے اور اس سے مراد ہے۔
(وہ ذات) جس کی کثرت کے ساتھ اور بار بار تعریف کی جائے اور محمد اسے کہتے ہیں جس کی قابل تعریف عادات حد سے بڑھ جائیں۔
یوں تو حضور نبی اکرمﷺ کے متعدد اسمائے گرامی ہیں۔ بعض علماء کے بقول آپ کے اسماء مبارکہ 300ہیں۔ صاحب ’’ارشاد الساری شرح صحیح البخاری‘‘ لکھتے ہیں کہ حضورﷺ کے ایک ہزار نام ہیں۔ ان میں سے ہر نام آپؐ کی سیرت و کردار کے کسی نہ کسی انوکھے پہلو پر روشنی ڈالتا ہے لیکن جس طرح اللہ رب العزت کے ہزاروں نام ہیں مگر ذاتی نام صرف ایک ہے، یعنی ’’اللہ‘‘ اسی طرح سرور کائناتﷺ کے بھی سینکڑوں نام ہونے کے باوجود، ذاتی اور شخصی نام ایک ہی ہے اور وہ محمدﷺ ہے۔ یوں تو آپؐ نبی بھی ہیں اور رسول بھی، بشیر و نذیر بھی ہیں اور ہاد�ئ برحق بھی مگر لفظ محمد (ﷺ) کو آپ کی ذات اقدس سے جو تعلق ہے وہ کسی اور صفائی نام کو نہیں۔ یہ وہ نام ہے جو قدرت کی طرف سے روز اول ہی سے آپ کے لئے خاص کر دیا گیا تھا اور سابقہ انبیاء کی کتب مقدسہ میں آپ کا اسم مبارک بار بار بیان ہوتا رہا ، پہلے پہل یہ نام حضرت سلیمان ؑ کی تسبیحات میں آیا جنہوں نے آپ کی آمد کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:
’’خلو محمدیم زہ دودی زہ رعی‘‘
’’وہ ٹھیک محمدﷺ ہیں وہ میرے محبوب اور میری جان ہیں‘‘۔(تسبیحات سلیمان، پ5،12 بحوالہ النبی الخاتم،23از مناظر احسن گیلانی)
’’حمد‘‘ کا لفظ اور اس کے دیگر مشتقات عام ہیں۔ تعریف کسی کی بھی ہو سکتی ہے، تعریف کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے اور محمود بننے کا اعزاز کسی کو بھی حاصل ہو سکتا ہے، لیکن جب لفظ ’’محمد‘‘ وجود میں آ جائے تو اس سے مراد فقط ایک ہی ہستی ، ایک ہی شخصیت اور ایک ہی ذات ہو گی جن کے لئے مبدا کائنات نے ازل سے یہ نام مختص کر دیا تھا اور جملہ کائنات میں فقط اسی ذات پاک کو اس نام سے معنون کیا تھا۔ قاضی عیاض ؒ اپنی کتاب ’’الشفاء‘‘ میں فرماتے ہیں۔ ’’آج تک دنیا میں کسی شخص نے اپنی اولاد کا یہ نام نہیں رکھا۔ قدرت نے ازل سے یہ نام آپؐ کی ذات کے لئے مخوص فرما دیا تھا‘‘۔ لفظ ’’محمد‘‘ کا ہر حرف بھی بامقصد اور بامعنی ہے۔ اگر شروع کا ’’م‘‘ ہٹا دیا جائے تو ’’حمد‘‘ جس کا مفہوم ’’تعریف و توصیف‘ ‘ہے اور اگر حرف ’’ح‘‘ کو کم کر دیا جائے تو ’’ممد‘‘ رہ جاتا ہے، یعنی ’’مدد کرنے والا‘‘ اور اگر ابتدائی ’’ میم اور حا‘‘ دونوں کو حذف کر دیا جائے تو باقی ’’مد‘‘ رہ جائے گا۔ جس کا مفہوم ہے ’’دراز اور بلند‘‘ یہ حضورﷺ کی عظمت ارو رفعت کی جانب اشارہ ہے اور اگر دوسرے میم کو بھی ہٹا لیا جائے تو صرف’’د‘‘ (دال) رہ جاتا ہے، جس کا مفہوم ہے دلالت کرنے والا، یعنی اسم محمد ا للہ کے وجود اور وحدانیت پر دال ہے۔
حضورﷺ کے اسماء مبارکہ میں مادہ حمد خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مادے سے حضورﷺ کے کم از کم چار نام مشتق ہیں۔ محمد، احمد، حامد اور محمود۔ ان میں سے اسمائے مبارکہ (محمد، احمد اور محمود) تعریف کئے گئے، کا مفہوم رکھتے ہیں۔ محمد اسم مفعول اور احمد اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور دونوں میں حمد کے معنی کی وسعت اور کثرت کی طرف اشارہ ہے۔ حضورﷺ کے یہ تینوں اسمائے مبارکہ آپؐ کی تعریف و توصیف کی کثرت کے مظہر ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ حضورﷺ کی تعریف صرف مخلوق یعنی کائنات جن وانس اور ملائکہ مقربین ہی نہیں کرتے بلکہ خود اللہ رب العزت بھی ہمہ وقت آپ کی تعریف فرماتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔
’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘۔ (احزاب56:)
یہی وجہ ہے کہ سارا قرآن ہی آپ کی حمد اور بے پایاں تعریف و توصیف سے معمور ہے۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ تعریف ہمیشہ خوبی اور کمال پر کی جاتی ہے، نقص اور عیب پر نہیں۔ اس اعتبار سے حضورﷺ کے نام نامی کے لغوی مفہوم میں حضورﷺ کا ہر انسانی لغزش و خطا اور ہر بشری نقص و عیب سے پاک ہونا اور اس کے ساتھ ہر صفت کاملہ کا فطری طور پر موجود ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ حضورﷺ کے خلق عظیم کا ہر پہلو اور ہر گوشہ پوری شان کے ساتھ نمایاں ہے۔ حضورﷺ کی ذات فطری اور جبلی طور پر ہر ظاہری اور باطنی نقص و عیب سے مبرا و منزہ ہے۔ شاعر بار گاہ نبوت حضرت حسان بن ثابتؓ کے ان دونعتیہ اشعار کا بھی یہی مفہوم ہے۔
واحسن منک لم تر قط عین
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبراء من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ: (آپؐ سے زیادہ حسین چہرہ آج تک کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور حضورﷺ سے زیادہ خوبصورت شخص کسی ماں نے نہیں جنا۔ آپ ہر (جسمانی و روحانی) عیب سے کلی طور پر پاک اور مبرا پیدا ہوئے تھے، آپؐ ایسے ہی پیدا کئے گئے جس طرح آپؐ خود چاہتے تھے)۔

مزید :

ایڈیشن 1 -