فیڈریشن کے انتخابات اور انتخابی مہم میں تیزی

فیڈریشن کے انتخابات اور انتخابی مہم میں تیزی
 فیڈریشن کے انتخابات اور انتخابی مہم میں تیزی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں ویسے تو ہر چیمبر اور ایسوسی ایشن کے انتخابات کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور ہر شہر میں زبردست مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے لیکن فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات جب قریب آتے ہیں تو امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کیلئے پورے ملک کا دورہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ فیڈریشن کے انتخابات میں ہر چیمبر اور ایسوسی ایشن کا الگ الگ ووٹ ہوتا ہے جبکہ کسی بھی چیمبر میں ہزاروں ووٹرز اپنے ووٹ کا استعمال ایک ہی شہر میں کرتے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے یونائیٹڈ بزنس گروپ نے وجود میں آتے ہی پے در پے کامیابیوں سے صنعت و تجارت کی نوے فیصد ایسوسی ایشنوں اور چیمبرز کو اپنے حلقہ اثر میں شامل کر لیا ہے۔ اس کامیابی کا کریڈٹ بزنس لیڈر افتخار علی ملک اور ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے۔ تین سال پہلے جب یونائیٹڈ بزنس گروپ کا پہلا اجلاس ہوا تھا تو پہلی ہی میٹنگ میں پاکستان کے تمام بڑے چیمبرز اور ایسوسی ایشنوں کے عہدیداروں کی شمولیت نے ثابت کر دیا تھا کہ اب یونائیٹڈ بزنس گروپ کو شکست دینا آسان نہیں۔ ویسے یہ خوشی کی بات ہے کہ فیڈریشن کے انتخابات میں بھی مقابلے کی فضا نظر آتی ہے۔


فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بارہ اکتوبر کو انتخابات کا مکمل شیڈول جاری کر دیا تھا جس کے مطابق تیس دسمبر 2016ء کو تمام مراحل طے کر کے فیڈریشن کے ہیڈ آفس کراچی میں ووٹنگ ہونے جا رہی ہے اور اکتیس دسمبر کو کامیاب عہدیداروں کا اعلان کر دیا جائے گا جس کے بعد یکم جنوری 2017ء کو نئے صدر، سینئر نائب صدر، ریجنل سربراہوں اور ایگزیکٹو کمیٹی اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان ہو جائے گی۔ تین سال میں یونائیٹڈ بزنس گروپ نے مزید مقبولیت حاصل کرلی ہے، لیکن اس کے باوجود اس گروپ کے لیڈر ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنے دفتروں میں نہیں بیٹھے،بلکہ آجکل پورے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ مختلف چیمبرز اور ایسوسی ایشنوں کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور رسمی طور پر نہیں بلکہ ووٹ کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے فیڈریشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے درخواست کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جنوبی پنجاب کے چیمبرز کا دورہ کرنے کے لئے یونائیٹڈ بزنس گروپ کی ٹیم ملتان اور گردو نواح کے چیمبر کے دورے پر گئی، واپسی پر گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے بتایا ’’اگرچہ ہمارے گروپ کی مقبولیت میں ماضی کی نسبت اضافہ ہوا ہے لیکن انتخابی عمل میں ووٹ حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ میں نے انتخابی عمل میں تین سال گزارے ہیں۔ صرف ایک ہی تجربہ حاصل ہوا ہے کہ کوئی بھی گھر بیٹھے ووٹ حاصل نہیں کر سکتا۔ ووٹ لینے کے لئے چیمبر اور ہر ایسوسی ایشن کے عہدیدار کے پاس جانا اور اسے ووٹ دینے کے لئے قائل کرنا بہت اہم ہوتاہے۔ پہلے سال کی کامیابی نے ہمارے حوصلے بلند کر دیئے تھے جس کی وجہ سے ہم نے فیڈریشن کی کارکردگی میں دن رات محنت کر کے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کر کے انہیں بتایا کہ اگر بیدار مغز قیادت نصیب ہو تو پھر یہ مسئلہ اچھے طریقے سے حل ہو سکتا ہے۔ ہمارے گروپ کے نامزد پہلے صدر میاں محمد ادریس نے جن حالات میں اقتدار سنبھالا تھا وہ جب یاد آتے ہیں تو آپ کی کارکردگی دیکھ کر سرفخر سے بلند ہو جاتا ہے۔


چار سال پہلے تک فیڈریشن کے عہدیداروں کو اس قابل بھی نہیں سمجھا جاتا تھا کہ اسے کراچی میں ہونے والی سرکاری تقریب میں مدعو کیا جائے۔ اسلام آباد میں بلوانا یا اہم اقتصادی پالیسیوں کا حصہ بنانا تو بہت دور کی بات ہے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے پہلے صدر میاں محمد ادریس نے آتے ہی فیڈریشن کی عزت بحال کرنے کی طرف توجہ دی اور صرف تین ماہ کے اندر فیڈریشن کی قیادت نے ہر سطح پر اپنے آپ کو منوا لیا اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ حکومت نے کوئی بھی بزنس پالیسی ایسی نہیں بنائی جس میں فیڈریشن کی نمائندگی نہ ہو، بجٹ کے اندر سب سے زیادہ تجاویز ہماری منظور کی گئیں ہیڈ آفس کی نا گفتہ بہ حالت کو قابل رشک سطح تک پہنچا دیا گیا۔ پہلے فیڈریشن کے عہدیدار اپنے چیمبر سے تمام اخراجات وصول کرتے تھے لیکن میاں محمد ادریس نے آتے ہی اعلان کیا کہ فیڈریشن کے تمام عہدیدار دنیا میں جہاں بھی جائیں گے فیڈریشن کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کریں گے بلکہ تمام اخراجات وہ عہدیدار اپنی جیب سے ادا کریں گے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے فیڈریشن کا خالی خزانہ نہ صرف بھرا ہوا ہے، بلکہ نئی تعمیرات بھی ہوئیں جن میں اسلام آباد میں فیڈریشن کے کیپٹل آفس کی نئی بلڈنگ تعمیر کر کے میں نے بطور بزنس لیڈر اپنا حصہ ڈالا ہے۔ جب وہاں وزیر اعظم محمد نوازشریف کے افتتاح کرنے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت پہلا اجلاس ہوا تو پورے پاکستان کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنوں کے عہدیدار شریک ہوئے۔ وہاں محمد اسحاق ڈار نے فیڈریشن کی قیادت اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کروانے کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے۔ کارکردگی کی وجہ سے 2017ء میں بھی ہمارے گروپ کو کامیابی ملے گی۔

مزید :

کالم -