ایک اور فضائی حادثہ

ایک اور فضائی حادثہ
 ایک اور فضائی حادثہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پی آئی اے کے طیارہ حادثے کی انتہائی افسوسناک اور دل ہلا دینے والی خبر 7دسمبر کو سرشام ٹی وی چینلوں پر آن ائیر ہوئی اور دوسرے دن صبح کے اخبارات میں یہ سوگوار خبر چھائی ہوئی تھی۔ اس انتہائی افسوس ناک خبر نے پاکستان بھرکے ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم سے نڈھال کر دیا تھا۔یہ انتہائی افسوسناک خبر پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 کی تھی، جو چترال سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئی اور دوران سفر فنی خرابی کے باعث حویلیاں کے قریب پہاڑ سے ٹکرا گئی۔پی آئی اے کا طیارہ گرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی اور جیسے ہی ٹی وی پر بریکنگ نیوز کے طور پر طیارہ کریش ہونے کی خبر چلی، اس نے سب کے ہی ہوش اڑا دیئے۔ پی آئی اے کا جو طیارہ کریش ہوااس میں ہمارے ملک کی 47 قیمتی جانیں، جن میں نو خواتین دو شیر خوار بچوں سمیت بیالیس مسافر اور عملے کے پانچ افراد شامل تھے، اس افسوس ناک حادثے کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا بیٹھے، کہا جا رہا ہے کہ جہاز کے پائلٹ صالح جنجوعہ کے والد بھی پائلٹ تھے، وہ بھی ایک فضائی حادثے میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ معروف نعت خوان فرحان قادری بھی بدقسمت طیارے کیمسافر تھے ۔ روزنامہ محاسب کی چیف ایڈیٹر زاہدہ پروین بھی حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں موجود نہیں۔


سب سے بڑھ کر افسوسناک خبر تو تھی کہ پاکستان کی اہم شخصیت جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی پی کے 661 پر سوار تھے۔جی ہاں دوستو !جنید جمشید، جنہوں نے دل دل پاکستان گایا اور دل دل پاکستان نے راتوں رات جنید جمشید اور وائٹل سائنز گروپ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ جنید جمشید جس نے اپنے فنی سفر کا آغاز’’ دل دل پاکستان‘‘سے کیا۔ انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے میں شعیب منصور کا بہت بڑا ہاتھ رہااگریہ کہا جائے کہ ہمارا شمار بھی ان لوگوں میں ہے جو جنیدجمشید کی پُر کشش آواز کے جادوئی سحر میں دیوانہ وار کھنچے چلے آتے ہیں، تو غلط نہ ہو گا۔ ہم نے بھی جنید جمشیدکے بے شمار کنسرٹ سنے ہیں۔ آج سے کئی سال پہلے سنا ہوا ٹی وی کا وہ انٹرویو بھی دل پر نقش ہے، جس میں جنید نے اپنے پہلے شو کے بارے بتایا تھا کہ جب انھوں نے پہلا شو کیاتو ہال میں صرف دس پندرہ لوگ موجود تھے تو انہوں نے بتایا تھا کہ سڑک سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر زبردستی ہا ل میں بٹھایا۔ پھر شو شروع کیا۔تاہم اگر یہ کہا جائے کہ جنید جمشیدپر اللہ رب العزت کا کرم ہوا، اس کی ملاقات مولانا طارق جمیل سے ہوئی، جنہوں نے ان پہ نہ جانے کیا جادو کیا کہ وہ گانا چھوڑ چھاڑ کر دین اسلام کی راہ پر چل نکلا۔ پھر جنید جمشید کی اسلامی نعتوں کی البم۔۔۔ محمد کا روضہ قریب آرہا ہے، بلندی پہ اپنا نصیب جا رہا ہے ریلیز ہوئی تو دنیا بھر میں ان کی خوب پذیرائی کی گئی۔جنید جمشید نے دین اسلام کی تبلیغ کے لئے دنیا بھر کے عوام کو اپنی جانب مائل کرلیا۔ جب پی آئی اے کا طیارہ کریش ہوا تو تب بھی جنید اللہ کی راہ میں تبلیغ کے لئے چترال گئے ہوئے تھے چترال وہ معروف کر کٹر سعید انور کی دعوت پر آئے تھے جہاں انہوں نے دین اسلام کا پیغام دیگربھائیوں کو پہنچایا اور تبلیغی سفر سے واپسی کے دوران ہی سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ بہر حال ہماری ہی کیا سب کی دعا ہے کہ اللہ پاک جنید جمشید سمیت سب شہید ہو نے والوں کے درجات بلند فرمائے اور جنت میں اعلیٰ جگہ عطاء فرمائے۔


پاکستان میں کسی طیارے کو تقریباً ساڑھے چار سال بعد حادثہ پیش آیا ہے۔کراچی میں 28 نومبر 2010 ء کو ایک ہوائی حادثہ ہواتھا جس میں ایک چھوٹا طیارہ کراچی کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا، اس حادثے میں 12 افراد مارے گئے تھے۔بین الاقوامی فضائی حادثوں اور ہنگامی مواقع پر نظر رکھنے والے نجی دفتر، ‘ایئر کرافٹ کریشز ریکارڈ آفس کے مطابق اس حادثے سے قبل پاکستان میں 35 ایسے حادثے ہوئے ہیں جن میں 705 افراد ہلاک ہوئے۔پاکستان کی فضائی تاریخ کا سب سے جان لیوا حادثہ بھی اسلام آباد کے قریب 28 جولائی 2010 ء کو پیش آیا تھا، جب نجی ایئر لائن ایئر بلیو کی پرواز مارگلہ کی پہاڑیوں سے جا ٹکرائی تھی، اس میں 152 افراد سوار تھے۔اس سے قبل دس جولائی 2006ء کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا فوکر طیارہ ملتان ایئر پورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اْس میں 45 افراد ہلاک ہوئے جن میں ہائی کورٹ کے دو جج، فوج کے دو بریگیڈئر اور بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی شامل تھے۔مسافروں کی اموات کا سبب بننے والے حادثوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز یا ابتدا میں پاک ایئر ویز، کو گیارہ حادثے اندرونِ ملک پیش آئے جن میں سے پانچ حادثے فوکر طیاروں کے تھے۔ 2006ء میں ملتان کا فوکر طیارے کا حادثہ پی آئی اے کی تاریخ کا اندرونِ ملک سب سے جان لیوا حادثہ تھا جس کے بعد فوکر طیاروں کا استعمال بند کر دیا گیا۔


پاکستان میں اب تک فوجی مسافر طیاروں کے دس حادثات پیش آئے ہیں۔ آخری حادثہ پاکستان ایئر فورس کے فوکر طیارے کا تھا جو 20 فروری 2003 ء کو پیش آیا۔ کوہاٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے اس طیارے میں اس وقت کے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر 17 افسران سمیت مارے گئے تھے۔پاکستانی فضائیہ کے لئے اب تک مال بردار طیارے ہرکولیس سی ون تھرٹی سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے ہیں جن میں خصوصی کیپسول رکھ کر مسافروں کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ہرکولیس سی ون تھرٹی کے چار حادثوں میں سے 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب پیش آنے والا حادثہ قابلِ ذکر ہے جو اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق سمیت تیس اہم شخصیات اور فوجی افسران کی موت کا سبب بنا۔پاکستان کی سرزمین پر گذشتہ 63 برس میں غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کے نو فوجی اور غیر فوجی مسافر بردار طیاروں کو حادثے پیش آئے۔ان میں سے تین حادثات میں افغانستان کے مسافر بردار طیارے گر کر تباہ ہوئے۔ 13 جنوری 1998ء کو افغان ہوائی کمپنی آریانا ایئر کا مسافر طیارہ خوڑک پہاڑی سلسلے میں توبہ اچکزئی کے علاقے میں گرا۔ اس حادثے میں 51 مسافر ہلاک ہوئے اور یہ 28 جولائی 2010ء سے پہلے تک پاکستانی سرزمین پر سب سے زیادہ جان لیوا فضائی حادثہ تھا۔تو جنوری 2002 ء کو امریکی ایئر فورس کا ہرکولیس سی ون تھرٹی بلوچستان کے شمسی ائر بیس کے قریب گر کر تباہ ہوا اور سات مسافروں کی موت کا باعث بنا۔ یہ پاکستان میں کسی غیر ملکی طیارے کا آخری حادثہ تھا۔24 فروری 2003ء کو ایدھی ایئر ایمبولینس کا سیسنا 402 طیارہ کراچی کے قریب آٹھ مسافروں کی موت کا سبب بنا۔ بہر حال اب یہ حکومت کا کامہے وہ تحقیقاتی کمیٹی بنا کر تازہ حادثے کے اسباب کو منظر عام پر لائے اور کوشش ہونی چاہیے کہ آئندہ کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کہ فضائی حادثات کا تدارک ہو سکے۔ بہر حال اجازت چاہتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک ۔۔۔ طیارہ حادثے میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند فرمائے اور جنت میں جگہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین!

مزید :

کالم -