پاک ایران تجارتی تعلقات

پاک ایران تجارتی تعلقات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے پاک ایران دفاعی اور تجارتی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت بے حد ضروری ہے۔ ایران کی خواہش ہے کہ پاک ایران دفاعی اور تجارتی تعلقات بامِ عروج پر پہنچیں۔ سی پیک منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، اس سے معیشت میں بہت بہتری آئے گی ایران کے سفیر نے ان خیالات کا اظہار میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس سپلائی معاہدے پر عملدرآمد کے لئے ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کرلیا ہے اور توقع ہے کہ پاکستان بھی اس کام میں حائل دشواریوں اور مشکلات پر قابو پا کر اپنے علاقے میں پائپ لائن جلد ہی بچھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پاکستان اور ایران دو اسلامی ملکوں اور تاریخی ہمسایوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے لئے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اکیسویں صدی میں گلوبل ویلیج ہونے کی وجہ سے مختلف ممالک میں اہم دفاعی تبدیلیوں اور خارجہ امور کی مصلحتوں کے اثرات سے پاک ایران تعلقات متاثر ہوئے۔ خاص طور پر جب پاکستان نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے ایران سے گیس کی خریداری کا معاہدہ کرنا چاہا تو امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ ایران سے گیس خریداری کا معاہدہ نہ کیا جائے۔ اس وقت ایران عالمی پابندیوں کا شکار تھا۔ تاہم پاکستان نے (جب آصف زرداری صدر مملکت تھے) گیس کے معاہدے پر دستخط کر دیئے گیس سپلائی معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کو اپنے اپنے ملکوں میں گیس پائپ لائن بچھانے کا پابند بنایا گیا۔پاکستانی علاقے میں پائپ لائن کی تعمیرابھی شروع نہیں ہوئی۔ان حالات میں پاک ایران تعلقات میں تعاون اور بہتری کے لئے ایرانی سفیر کی خواہش کو اہمیت دینی چاہیے۔ دفاعی مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں خاصی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ خاص طور پر چین کے تعاون سے جے ایف17تھنڈر کی مقبولیت اور سپر مشاق طیارے کی تیاری میں خود کفالت سے ایران بھی مستفید ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سی پیک منصوبے میں پاکستان کے کلیدی کردار سے ایران تجارتی تعاون بڑھانے پر مجبور ہے۔ اگرچہ ایرانی قیادت نے بھارت کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کو فعال کرنے کا معاہدہ کیا ہے لیکن گوادر بندرگاہ کا مقابلہ چاہ بہار بندر گاہ نہیں کرسکتی۔ بہتر ہوگا کہ ایران سی پیک منصوبے پر بھی توجہ دے ، تب ہی پاک ایران تجارتی تعلقات کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔

مزید :

اداریہ -