یہ بسنت؟

یہ بسنت؟
 یہ بسنت؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور رانا مشہود جو صوبائی وزیر ہیں کا تعلق لاہور سے ہے، دونوں قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے یہیں سے منتخب ہو کر سپیکر اور وزیر بنے ہیں، نہ معلوم ان کو کیا سوجھی ہے کہ ہر دو حضرات نے ایک سو یا ہوا مسئلہ جگا دیا ہے، اور اب اس پر اصرار بھی کررہے ہیں، ہر دو حضرات بسنت منانے کے حق میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس مرتبہ اگلے سال فروری میں لاہور میں بسنت کا تہوار منایا جائے گا اور اس کے نقصان رساں پہلوؤں کا انتظام کرلیں گے، ان حضرات نے کسی کمیٹی کا بھی ذکر کیا جس نے بسنت منانے کی سفارش کی اور کچھ سفارشات کے ذریعے تندی،دھاتی تار اور پلاسٹک ڈور کے استعمال کو روکنے کے لئے کہا جبکہ اس کمیٹی نے پتنگ بازی کے لئے علاقے مخصوص کرنے کی بھی تجویز دی ہے، یہ تجویز سامنے آنے پر متاثرین اور اس کھیل کے خونی پہلوؤں کے مخالف دانشور اور صحافی حضرات نے تنقید شروع کردی جو بجا ہے کہ دھاتی تار، تندی، پلاسٹک ڈور اور ایسی خرافات پر تو کھیل کے قواعد کے حوالے سے بھی اور قانونی طور پر بھی پابندی تھی لیکن اسے ہوا میں اڑادیا جاتا تھا، اس مذموم مسئلہ میں ملوث لوگ قطعاً باز نہیں آئے جس کی وجہ سے پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر نا پڑی، یہ معاملہ طے پا چکا تھا اور جن حضرات کی بے روز گاری کا ذکر کیا جاتا تھا انہوں نے بھی اپنا اپنا انتظام کر لیاتھا لیکن ہر دو حضرات کی طرف سے اعلان اور بیان کے بعد یہ سب حضرات پھر سے چھپائی گئی پتنگیں اور غیر مناسب ڈور تھام کر بیٹھ گئے ہیں۔


شہر میں پتنگ بازی کے شوقین خوش تو ہوئے ہیں لیکن اس حوالے سے ان کے بھی تحفظات ہیں اور وہ اس کھیل کو دیرینہ اصولوں کے مطابق رکھنا چاہتے ہیں جس میں قاتل ڈور تیار نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کبھی دھاتی تار کا استعمال کیا جاتا تھا جس سے بجلی کا بھی بریک ڈاؤن ہوتا ہے، اور ایک ہی دن ہزاروں مرتبہ ٹرانسفارمر ’’ٹرپ‘‘ کر جاتے ہیں اس لئے وہ پہلے سے اسے ترک کر چکے ہیں اور اب پتنگ بازی ایک کھیل کے طور پر چاہتے ہیں، ان کی اپنی تجاویز تھیں کہ غلط کاری کو روکا جائے کھیل بند نہ کیا جائے ان کے مطابق صحیح ڈور سے گلے تو نہیں کھلاڑیوں کے ہاتھ کٹتے ہیں اور یوں جو پتنگ بازی کا شوق پورا کرے وہ برداشت بھی کرلیتا ہے تاہم انتظامیہ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود خرابی پر قابو نہ پا سکی تبھی پابندی لگانا پڑی تھی کہ کسی بھی کھیل سے انسانی جان زیادہ قیمتی ہے یوں بھی بسنت کو متنازعہ بنایا گیا ہے، اب یہ دعویٰ بھی ہوائی محسوس ہوتا ہے کہ نقصان کا پہلے ہی سے سد باب کیا جائے گا، جو تجاویز گردش کررہی ہیں ان میں پتنگ کا سائز، ڈور کا معیار اور غیر معیاری پر پابندی کے علاوہ پتنگ بازی کے لئے علاقے مخصوص کرنا ہے، یہ بھی سب پرانی ہیں ان پر نہ پہلے عمل ہوا نہ اب ہو سکے گا لہٰذا اگر بسنت منانے کا انتا ہی شوق ہے تو پتنگ بازی نکال کر اسے میلے کے طور پر منالیں۔


جہاں تک لاہور اور اس کے بعد قصور میں بسنت کا تعلق ہے تو یہ بسنت پرانا سلسلہ تھا جو قاتل ڈور تک کسی نہ کسی طرح جاری رہا تاہم جب یہ با اصول کھیل کے طور پر منائی جاتی تو نقصان نہیں ہوتا تھا، ہم خود پتنگ بازی کے جنون میں مبتلا رہے ہیں اور بسنت کے نزدیک راتوں کو جاگتے اور پتنگیں تیار کرانے کے علاوہ پسند کی ڈور بھی لگواتے تھے، یہ ڈور ایسی ہوتی کہ ہاتھ سے ٹوٹ جاتی تھی چہ جائیکہ گلے کاٹے ، بسنت کو ایک موسمی تہوار کہا جاتا تھا، اور لاہور کے مکانوں کی چھتوں پر منائی جاتی تھی، اس صبح ٹو لیاں بنتیں اور پیچ لڑائے جاتے تھے جبکہ لڑکے بالے چھوٹی گڈیاں اڑا کر پتنگیں اور ڈور لوٹ کر جمع کرتے تھے۔ ان دنوں جو ٹیمیں پیچ لڑاتیں ان کے بہت سے اصولوں میں ایک اصول یہ بھی تھا کہ جس کی پتنگ کٹ جاتی وہ ڈور کھینچ کر واپس لانے کی بجائے ہاتھ کے پاس سے توڑ کر پھینک دیتا تھا اس طرح آگے جس کے ہاتھ یہ ڈور لگتی وہ لپیٹ لیتا۔ یہ دن پکنک کے طور پر بھی منایا جاتا کہ گھروں میں شہری کھانے پکتے فروٹ لایا جاتا اور چھتوں پر باقاعدہ دعوتیں ہوتی تھیں۔ یہ نہیں کہ تب سب کچھ آسانی سے ہو جاتاتھا بلکہ حادثات ہوتے اور یہ پتنگ لوٹنے کے لئے چھتوں سے چھلانگ لگانے کی صورت میں ہوتے تھے۔ ان میں کبھی کبھار ایک آدھ وفات بھی ہوتی تاہم زیادہ تر ٹانگ بازو ٹوٹتے یا پھر لڑکے زخمی ہوتے تھے۔ کبھی کبھی لڑائی بھی ہو جاتی جسے بڑے دخل اندازی کر کے روکتے تھے بہت کم جھگڑا پھیل کر پولیس تک جاتا تھا۔


اس حوالے سے موجودہ اقبال پارک (پرانا نام منٹو پارک) کے ایک حصے کو پتنگ بازی کے لئے بھی مخصوص کیا گیا تھا جو کرکٹ کلبوں کے ساتھ تھا، وہاں بڑے بڑے استاد فن آتے، وہ اور ان کے شاگرد پیچ لڑاتے تھے یہ سلسلہ موسم بہار کے شروع ہی سے بسنت کے بعد تک چلتا تھا اور ہر ہفتے مقابلے ہوتے تھے۔ یہاں بھی تلخی ہو جاتی تھی لیکن بڑے بات بڑھنے نہیں دیتے تھے۔ پھر یہی بسنت ایک فیشن بنی خصوصاً پیپلزپارٹی کے دور میں اسے ’’فن فیئر‘‘ کا درجہ دے دیا گیا۔ تب وزیر سفیر اور بیرون ممالک سے مہمان آنے لگے اور ہوٹلوں کے ساتھ پلازوں کی چھتیں بک ہونے لگیں یہ سلسلہ شروع ہوا تو پھر نائٹ بسنت بھی شروع ہو گئی اور یہیں سے برائی کا آغاز ہوا کہ پہلے دھاتی ڈور متعارف ہوئی اور اس کے بعد تو حد نہ رہی۔ صرف تندی پر نہ رکے بلکہ پلاسٹک اور پکے ترین دھاگوں کو ڈور کی شکل دی جانے لگی، شیشے کی جگہ کیمیکل استعمال کیا جانے لگا یہ ڈوریں ٹوٹنے کا نام نہیں لیتیں اور گلے پر آ جانے کی صورت میں گلے کاٹتی ہیں تو ساتھ ہی کیمیکل انفیکشن کا ذریعہ بن جاتا ہے یوں مسلسل اموات ہونے لگیں۔ ماؤں کی گود اُجڑی تو کئی سہاگ بھی خاک نشین ہو گئے۔ اگر اس پر پابندی نہ لگائی جاتی تو اموات نہیں رک سکتی تھیں ان دنوں لوگوں نے موٹر سائیکلوں پر راڈ لگا کر بھی دیکھ لئے تھے حادثات نہیں رک سکے۔ جہاں تک محترم ایاز صادق اور رانا مشہور کا تعلق ہے تو یہ ذمہ دار حضرات ہیں اب تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان کا فیصلہ نہیں بلکہ بڑی سرکار کا ہے تاکہ عوامی توجہ ہٹائی جا سکے اس لئے عام انسان کے حال پر رحم کریں اپنا شوق پورا کرنا ہے تو ویرانے میں جا کر کر لیں۔*

مزید :

کالم -