جنید جمشید: گٹار سے تسبیح تک

جنید جمشید: گٹار سے تسبیح تک
 جنید جمشید: گٹار سے تسبیح تک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دسمبر ہمیشہ ہی جاتے جاتے گہرے زخم دے جاتا ہے، پی آئی اے کے طیارے کا حادثہ اس کا تازہ زخم ہے۔ یوں تو ہر جان قیمتی ہے تاہم کچھ لوگ اپنی صلاحیتوں، کردار اور عمل سے زیادہ اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔ اس حادثے میں بھی ایک ایسا ہی شخص ہم سے بچھڑ گیا ہے۔ طیارے کے 47شہدا اپنے اپنے پیاروں کے لئے زندگی کا نشان تھے۔ ان کی اندوہناک موت ان سب کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے، تاہم جنید جمشید چونکہ’’ دل دل پاکستان‘‘ سے لے کر اپنی رحلت تک اپنے فن اور مذہبی تعلیمات کے مبلغ کی حیثیت سے ہر گھر میں جانے پہچانے جاتے تھے، اس لئے ان کی موت ایک بڑا قومی سانحہ بن کر سامنے آئی۔ وہ اپنی طرز کی اس حوالے سے واحد شخصیت تھے جنہوں نے زندگی کے چکا چوند شعبے کو چھوڑ کر ایک ایسے راستے کو اپنایا جو دلوں کے نور ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ مہوشوں کے جھرمٹ سے نکل کر اس دنیا میں آگئے جو انسان کے اندر روحانی بالیدگی اور قربِ الہیٰ کی تڑپ بھر دیتی ہے۔ یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے مگر جنید جمشید نے اسے بڑی آسانی سے انجام دیا۔ بڑی مثال بن کر اُبھرے اور یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ اصل روشنی انسان کے اندر سے عقیدے کی پختگی اور ایمان کامل سے پھوٹتی ہے۔


1964ء میں جنم لینے والے جنید جمشید ایک خوبصورت گورے چٹے اور قد آور نوجوان کے طور پر اس وقت اُبھر کر سامنے آئے جب انہوں نے ایک میوزیکل گروپ ’’وائیٹل سائنز‘‘ ترتیب دیا اور اس کا پہلا ہی ملی نغمہ پورے پاکستان بلکہ دنیا میں مشہور ہو گیا۔’’دل دل پاکستان جان جان پاکستان‘‘ کے ذریعے اس گروپ نے راتوں رات وہ شہرت حاصل کی جس کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ جینز پہننے والے یہ نوجوان نئی نسل کے مقبول گلو کار بن گئے۔ پھر جب جنید جمشید نے یہ گانا گایا۔


امریکہ کے نہ جاپان کے
ہم تو ہیں دیوانے پاکستان کے
تو یوں لگا کہ وہ پاکستان کے محبوب ترین فنکار بن گئے ہیں۔ ان کے میوزیکل شو ہوتے تو لڑکیاں ٹوٹی پڑتیں، حصول کارڈ کے لئے سفارشیں کرائی جاتیں، چھینا جھپٹی ہوتی، ناصر محمود شیخ اور میں نے ملتان میں جنید جمشید کے متعدد شو کرائے، اس کے ساتھ تقاریب بھی منعقد کیں۔ وہ گلیمر کی دنیا کا ایک مقبول ترین شخص تھا، مگر اس وقت بھی بہت سادہ اور کھرا، شہرت کے بام عروج پر ہونے کے باوجود اس کے اندر ناز نخرہ تھا نہ ہی غرور تکبر، وہ ایک سادہ، ملنسار اور دوسروں سے مل کر خوش ہونے والا نوجوان تھا۔ بار بار ملتان آنے کے بعد اسے ملتان والوں سے محبت ہوگئی تھی اس لئے اس نے اپنے اس گانے میں ترمیم کردی اور اس میں ملتان کا تڑکا لگا دیا۔


امریکہ کے نہ جاپان کے
ہم تو ہیں دیوانے ملتان کے
مجھے یاد ہے کہ ملتان کے ہالی ڈے ان میں یہ تقریب ہو رہی تھی۔ یکدم اس نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر اپنے مخصوص انداز میں کہا، ملتان والو غور سے سنو، اس وقت ہال میں لڑکے، لڑکیوں کا ایک جم غفیر موجود تھا۔ پھر جب اس نے اپنے گانے میں ملتان کا اضافہ کیا تو اس قدر شور مچا، اس قدر تالیاں بجیں کہ کئی منٹ تک کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک کشش تھی، وہ سب کو اپنے ساتھ مدغم کرلیتا تھا۔ کچھ لوگوں کو یقین نہیں آئے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ ہماری دعوت پر ملتان آتا، ٹکٹ بھی خود لیتا اور ہوٹل کا کرایہ بھی خود دیتا۔ اس موقع پر اس کا ایک جملہ مجھے بہت یاد آرہا ہے۔ ملتان والوں کی محبت مجھے یہاں کھینچ لاتی ہے اور محبت سے بڑی کوئی کشش نہیں ہے، مقبولیت کے بام عروج پر ہونے کے باوجود اس کی یہ نان کمرشل سوچ ہمیں حیران کر دیتی تھی۔ پھر ایک دن یہ خبر آئی کہ جنید جمشید نے پاپ میوزک کو خیر باد کہہ دیا ہے اور داڑھی رکھ لی ہے، پھر وہ اس نعت رسولؐ کے ساتھ بدلے ہوئے انداز میں ٹی وی سکرین پر جلوہ گر ہوئے۔


محمدؐ کا روضہ قریب آرہا ہے
بلندی پہ اپنا نصیب آرہا ہے
یہ نعت اس قدر پرتاثیر، پر عقیدت اور پُر گداز تھی کہ اس نے جنید جمشید کے پاپ سنگر والے امیج کو مٹا کر رکھ دیا۔ پھر سب نے دیکھا کہ جنید جمشید کے اندر ہونے والی یہ کایا کلپ صرف اس حد تک محدود نہیں رہی کہ وہ پاپ سنگر سے نعت خواں بن گئے بلکہ وہ ایک دینی مبلغ بن کر ابھرے۔ انہوں نے لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے کا فریضہ سنبھال لیا۔ پہلے پہل تو کسی کو یقین ہی نہ آیا کہ کل کا پاپ سنگر ایک اچھا عالم دین بھی بن سکتاہے، تاہم مولانا طارق جمیل کی صحبت اور رہنمائی میسر آنے کی وجہ سے جنید جمشید میں ایک اچھے دینی سکالر، مقرر اور خطیب کی صفات بھی پیدا ہوگئیں۔ اس سفر میں انہیں ایک ٹھوکر بھی لگی۔ جب ان سے سہوا ایک گستاخی ہوئی۔ ان پر حسب روایت طعن و تشنیع کے تیر برسائے گئے، ملحد اور گستاخ کے فتوے بھی جاری کئے گئے۔ یہ جنید جمشید کے لئے ایک مشکل وقت تھا، ایک دن میرے فون کرنے پر انہوں نے کہا دعا کریں اللہ مجھے معاف کردے، اللہ کے بندے مجھے معاف کردیں، جو کچھ ہوا نادانستگی میں ہوا، میری تو زندگی کا محور اب حب رسولؐ ہے۔ خیر ان کی یہ دعا قبول ہوگئی، انہیں اللہ اور اس کے بندوں سے معافی مل گئی، اس پر وہ بہت خوش تھے۔


یہ غالباً 2011ء کی بات ہے ،ناصر محمود شیخ جو کئی برسوں سے جنید جمشید کے لئے ملتان میں تقریبات منعقد کرتے آئے ہیں، نے آرٹس کونسل ملتان میں جنید جمشید کے لئے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں جنید جمشید میں آنے والی تبدیلی پر ایک مضمون پڑھوں۔ یہ میرے لئے مشکل کام تھا کہ میں نے جنید جمشید کے گلیمر کو بڑے قریب سے دیکھ رکھا تھا، ان سے آٹو گراف لینے کے لئے جس طرح لڑکیاں ٹوٹی پڑتی تھیں، ہمیں مجید امجد کی طرح اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا تھا۔ زندگی کے ایسے اشتباہ انگیز لمحات کو چھوڑ کر دین کی طرف سے آنے والے اس شخص پر لکھنا آسان تو نہیں تھا۔ لیکن بہر حال میں نے ہامی بھر لی۔ ایک بہت جذباتی اور عقیدتوں سے لبریز مضمون لکھا اور تقریب میں پڑھ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس مضمون کو پڑھتے ہوئے خود میرے اندر ایک تلاطم برپا تھا۔ اس وقت میری نظریں جنید جمشید پر بھی تھیں جو بار بار اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو صاف کررہے تھے۔ میں نے جب یہ کہا کہ حضرت محمد ؐ کو جنید جمشید کی آواز پسند آگئی اور آپؐ نے اسے اپنی راحت کے لئے چن لیا ہے تو جنید جمشید کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی اور ہچکی بندھ گئی۔ مجھے یوں لگا کہ میں نے مضمون لکھنے کا حق ادا کردیا۔ میں مضمون پڑھ کر اسٹیج سے نیچے اُترنے لگا تو جنید جمشید نے آواز دے کر مجھے روک لیا۔ مجھے سینے سے لگایا اور اپنے ہاتھ میں موجود تسبیح دیتے ہوئے کہا میں نے پانچ سال اس تسبیح پر لاکھوں مرتبہ درود پڑھا ہے، میں آپ کو یہ تسبیح پیش کررہا ہوں، آپ نے جو کچھ میرے بارے میں کہا ہے، کاش یہ سب کچھ بارگاہ رسالتؐ میں منظور ہو جائے۔ اب میں ایک معجزہ بیان کرتا ہوں جو اس وقت رونما ہوا ۔ میں نے ایک چھوٹا سا مکان بنایا تھا، پیسے کی اشد ضرورت تھی، اسے بیچنا چاہتا تھا۔ کوئی گاہک نہیں مل رہا تھا، اس کشمکش میں ڈیڑھ سال گزر گیا تھا۔جونہی میں اس تقریب کے بعد ملتان آرٹس کونسل سے باہر نکلا میرے موبائل پر ایک کال موصول ہوئی۔ وہ اس ہمسائے کی تھی جو میرے اسی مکان کے ساتھ رہتا تھا، کچھ لوگ مکان دیکھنے آئے ہیں، چابی بھجوادیں، میں نے کہا اس وقت تو وہاں لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، وہ کیسے دیکھیں گے۔ میرے ہمسائے نے کہا کہ وہ موبائل کی روشنی میں دیکھ لیں گے، میں نے اپنے مالی کو فون کیا کہ وہ چابی لے کر وہاں پہنچ جائے، جب آدھے گھنٹے بعد اپنے گھر پہنچا تو وہ لوگ مکان دیکھ کر وہاں آئے بیٹھے تھے۔ میں نے انہیں مکان کی وہ قیمت بتائی جو میں لینا چاہتا تھا اور جس پر کوئی گاہک آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ میرے قیمت بتانے پر ان لوگوں نے کہا رقم گاڑی میں موجود ہے آپ کو دے دیتے ہیں، مکان کا سودا منظور ہے، انہوں نے لاکھوں روپے مجھے دیئے اور یہ کہہ کر چلے گئے کہ ہم ڈیرہ غازی خان سے آئے ہیں، چند روز بعد آکر رجسٹری کرائیں گے۔ اس کیبعد وہ فوراً ہی چلے گئے ، میں نے بیوی سے کہا کہ یہ ماجرہ تو مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا ۔ پھر میں نے اسے وہ تسبیح اور ٹوپی دی جو جنید جمشید نے مجھے دی تھی۔ اور بتایا کہ اس تسبیح پردہ پانچ سال دردود شریف پڑھتے رہے ہیں، اس نے تسبیح پکڑی اور کہا ’’ مجھے تو یہ سب کچھ اسی تسبیح کی برکت لگتی ہے‘‘۔پتہ نہیں یہ بات سچ تھی یا نہیں لیکن جب آج جنید جمشید کے طیارہ حادثے میں رحلت کی خبر آئی تو میں نے اس تسبیح کو دوبارہ نکالا اور میرے ذہن میں وہ لمحات زندہ ہو گئے جب جنید جمشید نے یہ تسبیح میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بڑی محبت سے دی تھی۔ اس نے گٹار کو چھوڑ کر تسبیح سے جو تعلق جوڑا تھا، وہ یقیناًاسے شفاعت رسولؐ سے فیض یاب کرے گا۔*

مزید :

کالم -