کیا امریکہ افغانستان سے واپس جانے والا ہے؟

کیا امریکہ افغانستان سے واپس جانے والا ہے؟
 کیا امریکہ افغانستان سے واپس جانے والا ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چند روز پہلے ہارٹ آف ایشیا کا جو چھٹا اجلاس امرتسر میں ہوا، اس میں نریندر مودی اور اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف جی بھر کے دل کی بھڑاس نکالی اور جو لمبا چوڑا اعلامیہ جاری کیا اس میں جہاں جہاں دہشت گردی یا شدت پسندی کا لفظ درج کیا اس کے ساتھ اگرچہ پاکستان نہیں لکھا لیکن سیاق و سباق کے پس منظر میں رکھ کر اسے پڑھا جائے تو ’’پاکستان‘‘ کا نام صاف پڑھا جا سکتا ہے۔ نہ صرف افغانستان اور بھارت بلکہ امریکہ کے کئی حلقے بھی ابھی تک پاکستان کو دہشت گردی سے منسلک کرتے ہیں۔ نو گیارہ کو ڈیڑھ عشرہ گزر چکا، اس کی آڑ میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا، کروڑوں کی مسلمان آبادیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور دربدر کر دیا۔ لیکن ان تینوں ملکوں (امریکہ، بھارت، افغانستان) کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ان کی سوچ غلط تھی (اور ہے)۔ میں نے اول اول اس جملے کو پڑھ کر حقارت سے رد کر دیا تھا کہ ’’یہود و ہنود و نصاریٰ اسلام کے دشمن ہیں‘‘ ۔۔۔لیکن اب میرا ایمان ہے کہ اس جملے کے معانی کی صداقت میں کوئی شک نہیں۔۔۔۔ اور ساتھ ہی میرا ایمان یہ بھی ہے کہ :


مٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں کہ ہے
اس کی نواؤں سے فاش سرِّ کلیم و خلیل
ایک طرف اشرف غنی پاکستان کو اپنی ساری ابتلاؤں اور مصیبتوں کا ذمہ دار گردانتا ہے لیکن دوسری طرف اس کا سب سے بڑا حمائتی جو دنیا کی واحد سپرپاور بھی ہے اس کے دانشوروں کا تازہ ترین تجزیہ اس سوچ سے بالکل مختلف اور برعکس ہے۔ اگر آپ امریکی میڈیا کو زیرِ نظر رکھتے ہیں تو آپ پر کھلے گا کہ افغانستان کے مصائب کا اصل ذمہ دار خود افغانستان اور اس کے حکمران ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر مسٹر ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ ’’افغانستان کی صورتِ حال مخدوش ترین ہے اور اگر میں صدر بن گیا تو وہاں صف بند 10ہزار ٹروپس کو واپس بلا لوں گا‘‘۔۔۔۔ اب وہ صدر بن چکے ہیں اور آج کل اپنی کابینہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ ان اراکینِ کابینہ میں اب تک جو لوگ شامل کئے جا چکے ہیں ان کی اکثریت ریٹائرڈ جرنیلوں کی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ٹرمپ کو جرنیلوں سے زیادہ محبت ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ ٹرمپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکی مشکلات کا اصل منبع خود امریکی ایڈمنسٹریشن ہے جس کا چناؤ خود صدر امریکہ کرتا ہے اور یہ صدر ساری دنیا میں اکھاڑ پچھاڑ کرنے اور تباہی و بربادی لانے کے لئے جس مشینری کو لانچ کرتا ہے اس کے کل پرزے امریکی جرنیل اور سولجرز ہیں۔ چنانچہ اگر امریکہ کو موجودہ عالمی صورت حال کو تبدیل کرنا ہے اور اگر بہتری کے کوئی آثار دیکھنے ہیں تو انہی جرنیلوں کے سابق تجربے سے سبق اندوز ہونا ضروری ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہنستے بستے گھراجاڑے تھے اور یہی وہ لوگ ہوں گے جو یہ مشورہ دے سکیں گے کہ اجڑنے سے پہلے ان گھروں کی شکل و صورت کیا تھی۔اور اب یہ اجڑے گھر کس طرح از سر نو آباد کئے جا سکتے ہیں! امریکی گاڑی جس طرف جا نکلی ہے اس کے انجنوں کو جرنیل، ایڈمرل اور ائر مارشل چلاتے رہے ہیں۔ اگر اس گاڑی کو واپس لانا ہے تو انہی ڈرائیوروں کو کہنا پڑے گا کہ انجن کو ریورس گیئر میں ڈالو اور گاڑی کو واپس اسی جگہ لاؤ جہاں سے آغازِ سفر کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اندرونی سیکیورٹی (ہوم لینڈ سیکیورٹی) ہو یا بیرونی سیکیورٹی (وزارتِ خارجہ)، مسٹر ڈونلڈٹرمپ یا تو ان فوجی جرنیلوں کو نامزد کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔ افغانستان کی تازہ ترین صورتِ حال کا جو خلاصہ امریکی جرنیلوں نے دو روز پہلے پیش کیا ہے، وہ مختصراً درج ذیل ہے:


1۔ پندرہ سولہ برس پہلے امریکہ، افغانستان میں اس لئے آیا تھا کہ نو گیارہ کے ان منصوبہ سازوں کو پکڑے جو یہاں بیٹھ کر آزاد دنیا کے خلاف سازشیں کر رہے تھے۔ اس وقت اس گروپ کا نام القاعدہ تھا۔ لیکن آج اس ایک گروپ کے علاوہ متعدد دوسرے گروپ پیدا ہوچکے ہیں جو القاعدہ سے زیادہ خطرناک اور ’’تخریب کار‘‘ ہیں۔ افغانستان میں امریکی اور ناٹو فورسز کے کمانڈر کا نام جنرل نکولسن (Nicholson) ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ (اور امریکہ) نے اب تک جن دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں کی فہرست مرتب کی ہے ان کی تعداد 98 ہے اور ان میں 20گروپ ایسے ہیں جو افغانستان اور آس پاس کے ممالک میں مقیم ہیں۔


2۔جنرل جوزف ووٹل (Votel)امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے چیف ہیں۔ ان کا تجزیہ یہ ہے کہ حال ہی میں طالبان کی مسلح کارروائیوں کی وجہ سے افغانستان کے بہت سے علاقے حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں اور یہی وہ علاقے ہیں جو طالبان، القاعدہ، داعش اور اس قسم کے دیگر عالمی دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں سے منسلک افراد کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ افغانستان میں اس وقت جو 10ہزار امریکی ٹروپس اس غرض سے مقیم رکھے گئے ہیں کہ وہ ان اجتماعات کو روکیں گے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن لانچ کریں گے اور ان افغان فوجیوں کی ٹریننگ اور سپورٹ کریں گے جو دہشت گردوں کا ہدف ہیں، وہ (امریکی ٹروپس) آج طرح طرح کی مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں۔
3۔اس وقت افغانستان کا 60 فیصد علاقہ حکومت کے کنٹرول میں ہے جبکہ باقی 40فیصد علاقے پر یا تو طالبان کا قبضہ ہے یا وہاں حکومت اور طالبان کے درمیان حصولِ اقتدار کی جنگ جاری ہے۔


4۔ جنرل جوزف ووٹل نے گزشتہ دنوں واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس وقت افغانستان میں 45ہزار جنگجو نبردآزما ہیں جن میں 30 ہزار ہارڈ کور طالبان ہیں اور باقی 15 ہزار ایسے ہیں جو اگرچہ طالبان نہیں کہلاتے لیکن ان کے اغراض و مقاصد اور اہداف وہی ہیں جو طالبان کے ہیں۔ افغانستان کے 40فیصد علاقے میں کہ جس پر حکومت مخالف گروپوں کا کنٹرول ہے اس کی حیثیت خواہ مکمل کنٹرول کی ہے یا نیم کنٹرول کی، اس کا موازنہ اگر نو گیارہ کی صورتِ حال سے کیا جائے تو موجودہ صورت، سابق صورتِ حال سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے!


5۔ لیفٹیننٹ جنرل فلائن (Flynn) گزشتہ انتظامیہ میں ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور افغانستان جنگ پر سالہا سال تک ان کا فوکس رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حالیہ صورت حال کے پیش نظر یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ امریکہ کو نوگیارہ کے مقابلے میں افغانستان سے کہیں زیادہ بڑا، زیادہ براہِ راست اور زیادہ تشویش ناک خطرہ درپیش ہے!


قارئین گرامی! امریکی جنرل فلائن کا یہ تجزیہ کہ 15برسوں کے خون خرابے کے بعد آج افغانستان کے حالات مزید ابتر ہو چکے ہیں، نہ صرف امریکہ اور افغانستان کے لئے لمحہ ء فکریہ ہے بلکہ پاکستان کے لئے بھی یہ صورتِ حال پریشان کن ہے۔ پاکستان کو آنے والے برسوں میں اپنے ہمسائے میں امن و امان کی ضرورت ہے جس کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔ اگر کل نئی امریکی انتظامیہ آکر افغانستان سے 10ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیتی ہے تو پاکستان اس نئی پیدا شدہ صورت حال سے کیسے نمٹے گا؟ یہ سوال ایک اہم سوال ہے۔ افغان حکومت کا نقطہ ء نظر تو ہم ایک عرصے سے دیکھ اور سن رہے ہیں۔ یہ حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتی رہی ہے اور اس میں اسے بھارت کی کھلی اور امریکہ کی پوشیدہ اشیرباد حاصل ہے۔ لیکن یہ دونوں ممالک اپنی راہ میں خود کانٹے بو رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی ان سے تعاون کرے یعنی وہ بھی اپنی راہ میں کانٹے بچھائے۔ اندریں حالات پاکستان کی آئی ایس آئی اور اس کی سدرن کمانڈ کو جو چیلنج درپیش ہیں، ان کا محض تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان، افغان طالبان کے پیچھے جاتا ہے تو اس کا یہ عمل بلاشبہ اپنی راہ میں کانٹے بچھانے کے مترادف ہوگا۔امریکہ کب تک اپنے 10ہزار ٹروپس یہاں رکھے گا۔آج نہیں تو کل، اسے یہاں سے نکلنا پڑے گا۔ اس خطے میں اب روس اور چین کی آمد آمد ہے۔ ان کے آنے سے یہ ساری گیم ہی بدل جائے گی۔ پاکستان کو اس تبدیل شدہ صورت حال کا اندازہ ابھی سے ہے۔ اس لئے طالبان سے معاملات کرنے میں اسے ایک ادق اور الجھے ہوئے مستقبل قریب کا سامنا بھی ہے۔


پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی طالبان کو زیادہ ناراض نہیں کر لینا چاہیے۔ یہ طالبان وہ نہیں جن کو پاکستان نے ضربِ عضب میں شمالی وزیرستان سے نکال دیا تھا۔ ان طالبان کی اکثریت چاہتی ہے کہ امریکہ ان کے وطن سے نکل جائے۔ اس مقصد کے حصول میں پاکستان کو ان کی راہ میں مزاحم ہونا چاہیے یا نہیں؟ یہ ایک اہم بلکہ تکلیف دہ سوال بن چکا ہے۔ افغان اور بھارتی حکومتوں کا حالیہ رویہ دیکھنے کے بعد اگر پاکستان، افغان طالبان کے راستے میں مزاحم نہیں ہوتا تو اس میں کیا برائی ہے؟ امریکہ جب بھی افغانستان سے رخصت ہوا، بھارت کا یہاں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ بعض حلقے اسے خانہ جنگی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ لیکن یہ خانہ جنگی تو وہاں آج بھی جاری ہے۔ طالبان خانہ جنگی کے اس سٹیٹس کوکو توڑنا چاہتے ہیں۔ صدر ڈونلڈٹرمپ کا فیصلہ کہ افغانستان میں امریکی فوج باقی رکھی جائے یا واپس بلا لی جائے ایک اہم فیصلہ ہوگا جس کے اثرات پاکستان پر بھی نہائت شدت اور عجلت سے پڑیں گے۔ اگر ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اپنے سیکیورٹی مسائل کے حل کے لئے اپنے جرنیلوں سے مشورہ لیتی ہے تو پاکستان کو بھی چار و ناچار ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر فوج کی پرچھائیوں سے زیادہ نہیں گھبرانا چاہیے۔*

مزید :

کالم -