ایران کی عرب ممالک میں مداخلت باعث تشویش ہے،برطانیہ

ایران کی عرب ممالک میں مداخلت باعث تشویش ہے،برطانیہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


منامہ(این این آئی)برطانیہ کی خاتون وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک برطانیہ کے لیے تزویراتی حلیف ہیں۔ برطانیہ کے لیے جتنی اہمیت خلیجی ریاستوں کی ہے ایران کی نہیں۔تھریسا مے نے ان خیالات کا اظہار عرب ٹی وی سے انٹرویومیں کیاکہ انہوں نے کہا کہ خلیج کی امن وسلامتی اور ترقی برطانیہ کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔بحرین اور دوسرے خلیجی ملکوں میں ایرانی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خطے اور خلیجی ملکوں میں ایرانی مداخلت کی موذی سرگرمیوں پر گہری تشویش ہے۔خلیجی ممالک کے ساتھ سیکیورٹی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں تعاون سے متعلق ایک سوال کے جواب میں تھریسا مے کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی کے لیے خلیجی ملکوں کے ساتھ تعاون کی اہمیت کا پورا یقین ہے۔ برطانیہ کے عرب ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات برسوں پرانے ہیں۔ سنہ 1971ء میں برطانیہ نے نہر سویز میں اپنا فوجی مرکز قائم کیا۔ میں یہاں بحرین سے پورے اعتماد اور وثوق سے کہتی ہوں کہ یہ اقدام خطے کے بارے میں ہمارے احساسات اور جذبات کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بات باعث شرف ہے کہ خلیجی قیادت نے مجھے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کا شرف بخشا گیا۔ میں یقین کے ساتھ کہوں گی کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعلقات بہتر سے بہتر کی طرف سفر جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ خلیجی قیادت کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ ’ہمیں مل کر باہمی تعلقات کو باہمی مفادات اور تعمیرو ترقی کے لیے روشن اور مضبوط مستقبل کی خاطرمستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ملکوں اور برطانیہ میں ماضی میں بھی خوش تعلقات قائم رہے ہیں مگر ہم مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنائیں گے۔
یورپی یونین سے اخراج اور اس کے اثرات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ہم یورپی یونین کے بعد برطانیہ کو خود اعتماد، مثبت سوچ رکھنے والا اور عالمی برادری کے لیے کھلا پن رکھنے والا ملک بنائیں گے۔

مزید :

عالمی منظر -