ایک ہی دن میں 3پروازیں ، انجن میں خرابی کے باوجود طیارہ کو پرواز کی اجازت دینے کا انکشاف

ایک ہی دن میں 3پروازیں ، انجن میں خرابی کے باوجود طیارہ کو پرواز کی اجازت دینے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کراچی،حویلیاں (مانیٹرنگ ڈیسک) حویلیاں میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پہلے سے فنی خرابی کے شکار ہونے کا انکشاف ہواہے ۔تفصیلات کے مطابق طیارے نے آخری پرواز اسلام آباد سے گلگت کی تھی جسے کیپٹن اظہر خان اڑارہے تھے ، کیپٹن اظہر خان نے طیارے میں فنی خرابی کے بارے میں پہلے ہی لاگ بک میں تحریر کر دیا تھا کہ گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے طیارے کی انجن کی پاور کم کرنے پر ایک انجن الٹا گھومنے لگا تھا،فنی خرابی کی نشاندہی کے باوجود بھی طیارے کو اگلی پرواز کیلئے چترال بھیج دیا گیا ۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ پرواز 661کے کیپٹن نے شام 4بج کر 9منٹ تک بلندی برقرار رکھی اور 4بج کر 13منٹ پر ایئرٹریفک کنٹرولر سے نیچے آنے کی اجازت مانگی ۔جس پر ماہرین کا کہناہے کہ اسی وقت ممکنہ طور پر پاور کم کرنے کے باعث انجن الٹا گھوما ہو گا اور اسی وقت کیپٹن جنجوعہ نے انجن میں خرابی کی اطلاع دی ہو گی۔نجی ٹی وی نے پی آئی اے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ فوراً بعد ہی ایئر ٹریفک کنٹرولر نے مے ڈے کی آخری کال سنی اورممکنہ طورپرالٹاگھومتے انجن کے ساتھ نیچے آتاطیارہ بے قابو ہوا۔دوسری طرف کئی اہم سوالوں نے بھی جنم لے لیا۔ کیا سرٹیفکیٹ دینے والی اتھارٹی کلی مجاز ہے یا سرٹیفکیٹ رسمی طور پر دیا جاتا ہے۔ قومی ایئر لائن کی پرواز سکس سکس ون کے کریش ہونے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ پی کے 661 نے ایک ہی دن میں تین اڑانیں بھریں۔ ان انکشافات کے بعد کئی سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ پہلا سوال۔کیا ایک ہی دن میں 3 بار طیارے کو اڑایا جا سکتا ہے؟سوال نمبر 2۔طیارے کے زیادہ استعمال سے تو حادثہ رونما نہیں ہوا؟سوال نمبر 3۔کیا طیارے کی ہر اڑان کے بعد مستند انجینئرز اس کا معائنہ کرتے ہیں ، ؟سوال نمبر 4:کیا سرٹیفکیٹ دینے والی اتھارٹی کلی مجاز ہے یا سرٹیفکیٹ رسمی طور پر دیا جاتا ہے ؟سوال نمبر 5:طیارے کی ایک لمبی یا طویل اڑان کے بعد اسے کتنا ریسٹ دیا جاتا ہے؟سوال نمبر 6:کیا طیارے کے معائنے کے دوران عالمی ایس او پیز کا خیال رکھا جاتا ہے ؟ایسے ان گنت سوال ہیں جس پر قومی ایئر لائن سے متعلق پیشہ ور سینئر کپتان ، انجینئزز حیران ہیں کہ حادثہ کیسے ہوا ؟ ذرائع کے مطابق پی آئی اے حکام نے طیارے کی پرواز سے قبل فٹنس سرٹیفیکٹ جاری کیا تھا۔

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کے ذریعہ طیارہ حادثہ کی تفصیلی،آزادانہ اور شفاف تحقیقات جلد کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ انکوائری کمیٹی میں پاک فضائیہ کا ایک سینئر افسر بھی شامل ہو۔ جمعرات کو یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں پی آئی اے کے طیارہ حادثہ کے اسباب جاننے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ضروری ہے کہ سچ سامنے لایا جائے جسے جلد عوام کو آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے پی آئی اے کی انتظامیہ سے کہا کہ متاثرہ خاندانوں تک پہنچا جائے اور ان کے دکھ درد دور کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی جائے۔ وزیراعظم کو امدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے اسلام آباد لائی گئی ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ رشتہ داروں سے سیمپل حاصل کرنے اور تمام میتوں کی شناخت میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی یہ عمل جلد مکمل کیا جائے۔ پی آئی اے کے چیئرمین، سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن، ڈی جی سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وزیراعظم کو بتایا کہ پی آئی کا تمام عملہ اور پائلٹ انتہائی تجربہ کار پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں جو ہزاروں گھنٹے پرواز کا تجربہ رکھتے ہیں اور متوفی کیپٹن دس ہزار گھنٹے سے زائد پرواز کا تجربہ رکھتا تھا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بدقسمت طیارہ کی معمول کے مطابق باقاعدہ مینٹیننس کی جاتی تھی اور ہر لحاظ سے اڑان کیلئے موزوں تھا جس کا آخری معائنہ اس سال جولائی اور نومبر میں ہوا تھا۔

مزید :

صفحہ اول -