افغانستان اپنے مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے کے بجائے بارڈر مینجمنٹ میکنزم پر توجہ دے ، پاکستان

افغانستان اپنے مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے کے بجائے بارڈر مینجمنٹ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(اے این این )پاکستان دفترخارجہ کے ترجمان محمد نفیس زکریا نے کہاہے کہ امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارت کے منفی رویے نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اسے کے دعووں کا پول کھول دیا،افغانستان اپنے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ٹھہرانے کے بجائے بارڈر مینجمنٹ میکنزم پر توجہ د ے ، ہم نے اپنے مشکل ترین حالات میں لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی،افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘افغانستان سے ہی پاکستان میں دہشت گردی کرواتی ہے ، نہتے کشمیریوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہیں ، کشمیر کے بغیربھارت کے ساتھ مذاکرات بے سود ہیں۔ اسلام آباد میں ہفتہ وارپریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، طالبان، القاعدہ، جماعت الاحرار اور حقانی گروپ افغانستان سے کام کررہے ہیں، بھارتی ایجنسی ’’ را‘‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرواتی ہے، افغان صدراشرف غنی کے بیان پرتبصرہ مناسب نہیں کیونکہ مشیرخارجہ سرتاج عزیزاس پرتبصرہ کرچکے ہیں ،افغانستان کومسائل کا ذمہ دار پاکستان ٹھہرانے کے بجائے بارڈر مینجمنٹ میکنزم پر توجہ دینی چاہیے جبکہ افغانستان انسداد دہشت گردی اور بارڈر مینجمنٹ پر تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی نومنتخب امریکی قیادت سے ملاقات کے لیے امریکا کے دورے پرہیں اورسیکرٹری خارجہ ویانا میں نیوکلیئر اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اورایران کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، ایران نے پاکستان اوربھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے مشکل ترین حالات میں بھی 35 لاکھ مہاجرین کو پناہ دی، ہماری افغانستان میں قیام امن کی شفاف پالیسی ہے اور پاکستان بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ گزشتہ روزہونے والے طیارے کے حادثے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حویلیاں کے قریب طیارے کی تباہی سے 45سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اوراس سانحہ نے پاکستانی عوام کو سوگ کی کیفیت میں مبتلا کردیا، امریکا کی جانب سے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے ہم اس کو سراہتے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں پر مظالم جاری ہیں، نہتے کشمیریوں پر ان مظالم کی بھرپورمذمت کرتے ہیں، 8ہزارسے زائد زیرحراست کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ نا معلوم ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑنہیں چاہتا، بھارت میں ہمارے میڈیا سے ناروا سلوک کیا گیا، جس طرح بھارت نے منفی سلوک کیا اس کا مقصد اجلاس کی اصل روح سے توجہ ہٹانا تھا، بھارت پاکستان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر برکس اجلاس کی طرح پاکستان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا جب کہ بھارت نے کانفرنس کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جس کا منفی تاثر ابھرا کیونکہ بھارت کا بنیادی مقصدمقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی پردہ پوشی کرنا تھا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے کئی اقدامات کیے، وزیر اعظم کا بھارتی وزیر اعظم مودی کی تقریب حلف برداری میں جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کا مسئلہ مرکزی نقطہ ہے جبکہ کشمیر کے بغیر مذاکرات بے سود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا اس حوالے سے کردار اہم ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ سمیت کئی اہم ممالک کردار ادا کرنے کا کہہ چکے ہیں۔

پاکستان

مزید :

صفحہ اول -