’’اسی ماہ میں ، اسی سال میں فیصلے کیلئے بیتاب حلقوں کی امید بر نہیں آئیگی

’’اسی ماہ میں ، اسی سال میں فیصلے کیلئے بیتاب حلقوں کی امید بر نہیں آئیگی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
 سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے دو پٹیشنرز تو ایک ’’صفحے‘‘ پر ہیں اور عدالت سے باہر بھی اکٹھے کھڑے نظر آتے ہیں یعنی عمران خان اور شیخ رشید احمد لیکن تیسرے فریق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی رائے اول الذکر دونوں حضرات سے کہیں کہیں مختلف بھی ہو جاتی ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے جو وزیراعظم سمیت ان تمام لوگوں کے معاملات کی تحقیقات کرے جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی صوبہ کے پی کے کی حکومت میں تحریک انصاف کی حلیف ہے لیکن اس معاملے میں دونوں کا اختلاف واضح ہے البتہ عمران خان کمیشن کی تشکیل کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا جو بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے وہی فیصلہ بھی کرے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کمیشن بناتی ہے یا نہیں، فاضل عدالت نے درخواست دہندگان اور مدعا علیہان کے وکلاء کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے موکلوں سے معلوم کرکے عدالت کو آگاہ کریں کہ کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر ان کے موکل کیا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ عدالت خود سماعت کرے یا کمیشن بنائے، ان کیلئے دونوں صورتیں قابل قبول ہیں۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالت کے اندر اور عدالت کے باہر پہلے بھی سچ بولا اور آئندہ بھی سچ بولیں گے، ان کا کہنا تھا کہ نہ کچھ پہلے چھپایا نہ اب چھپانے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے پر اب فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، اگر تو عدالت نے کمیشن بنا دیا تو پھر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ سے تمام تر کارروائی کمیشن کو منتقل ہو جائے گی اور اگر سپریم کورٹ کا بنچ سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کرے تو سماعت 15 دسمبر تک ہوگی جس میں آج کے بعد سپریم کورٹ کے ایام کار صرف تین رہ جائیں گے یعنی سماعت 14,13 اور 15 دسمبر کو ہوسکے گی۔ اگر ان تینوں روز سماعت ہو جائے تو بھی اس دوران دو وکلاء اسلم بٹ (وزیراعظم کے وکیل) اور اکرم شیخ (وزیراعظم کے بچوں کے وکیل) اپنے دلائل مکمل نہیں کر پائیں گے اس لئے سماعت سپریم کورٹ کی تعطیلات کے بعد تک مؤخر ہو جائے گی۔ 30 دسمبر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کی جگہ جسٹس میاں ثاقب نثار 31 دسمبر کو عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے 31 دسمبر کے بعد بنچ کی ازسرنو تشکیل ہوگی۔
فیصلہ جو بھی ہو، بعض باتیں اظہر من الشمس ہیں ایک تو یہ کہ روزانہ سماعت کے باوجود سال رواں کے اختتام تک کیس کا فیصلہ کسی صورت نہیں ہوسکتا، اس لیے جن حضرات کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ فیصلہ ’’چٹ منگنی پٹ بیاہ‘‘کی طرح ہو جائے انہیں تو بہرحال مایوسی ہوگی۔ کمیشن بنے یا نہ بنے دونوں صورتوں میں یہ فیصلہ اب اگلے سال ہی ہوگا۔ ’’اسی ماہ میں، اسی سال میں‘‘ ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ وزیراعظم نوازشریف کا یہ کہنا کہ عدالت خود فیصلہ کرے یا کمیشن بنائے ہمیں دونوں صورتیں قبول ہیں اس سے ان کے حامی یہ مفہوم بھی اخذ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وزیراعظم عدالت سے پورا تعاون کر رہے ہیں اور پراعتماد بھی ہیں، لیکن عمران خان نے جو شروع میں خود کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے مشاورت کے بعد کمیشن کے خلاف رائے دی ہے تو انہیں ساتھی درخواست دہندگان سے بھی پوچھ لینا چاہئے تھا کہ وہ کیوں کمیشن پر اصرار کر رہے ہیں۔ اب اس معاملے میں چونکہ دو مختلف آراء سامنے آئی ہیں اس لئے کمیشن کی تشکیل کے متعلق کوئی بھی فیصلہ عدالت ہی کو کرنا ہوگا۔
عمران خان کے جن سیاسی مخالفین نے ان کا نام از راہ محبت یا از راہ تفنن ’’یو ٹرن خان‘‘ رکھ چھوڑا ہے ان کا کہنا ہے کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وہ خود کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے، اب وہ اس مطالبے سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اس کے برعکس مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح عمران خان نے 35 پنکچروں کی بات بڑی شدومد سے کی تھی، یہ الزام نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پر لگایا گیا تھا لیکن پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب انہوں نے خود کہا کہ یہ تو ’’سیاسی بیان‘‘ تھا، ایک بالکل غلط بات کو وہ ’’سیاسی بیان‘‘ کہہ کر بری الذمہ ہوگئے تھے اسی طرح انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر الزام لگایا کہ ان کے حکم پر دھاندلی ہوئی لیکن بعدازاں وہ اس بیان سے بھی مکر گئے، یہ تو صرف ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ ہے ورنہ عمران خان نے اتنی بار یوٹرن لئے کہ مولانا فضل الرحمان نے ان پر پھبتی کسی کہ اگر ٹریفک کے اشاروں پر کچھ اور نہیں صرف عمران خان کی تصویر بنا دی جائے تو لوگ خود بخود سمجھ جایا کریں گے کہ اس سے یوٹرن مراد ہے۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت ترجیحی بنیادوں پر ہو رہی ہے اس کے باوجود یہ کسی طور پر ممکن نہیں کہ دسمبر کے خاتمے سے پہلے فیصلے کی بعض حضرات کی خواہش پوری کردی جائے۔ سپریم کورٹ میں دوسرے ہزاروں کیس پینڈنگ ہیں جو اپنی اپنی جگہ لوگوں کیلئے اتنے ہی اہم ہوں گے جتنا کہ پاناما کیس ہے۔ سالہا سال سے ان مقدمات کی سماعت نہیں ہو پا رہی۔ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اس مقدمے میں فریقین نے جو ثبوت دیئے ہیں وہ ناکافی ہیں، ان پر انحصار کرکے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اس لیے اگر کمیشن کی تشکیل کے بعد فریقین مزید ثبوت پیش کردیتے ہیں جن سے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے تو کمیشن کی تشکیل میں چنداں مضائقہ نہیں تاہم اب اگر عمران خان کی خواہش ہے کہ کمیشن نہ بنے اور سراج الحق کی خواہش ہے کہ کمیشن ضرور بنے تو پھر ان میں مقام اتصال کہاں آئے گا؟ لامحالہ یہ فیصلہ عدالت ہی کو کرنا ہوگا کیونکہ باہمی مشاورت کے بعد تو اختلاف رائے پہلے کی طرح موجود ہے۔

مزید :

تجزیہ -